صحافی کا عوام اور ریاست سے رشتہ

*صحافی کا عوام اور ریاست سے رشتہ*
*تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی*

قلم زبان اور کیمرہ معاشرے میں پھیلے ہوئے ناسور کو ختم کرنے اور امن و سکون اور خوشحالی کیساتھ ساتھ عدل و انصاف مساوات کو رائج کرنے میں موثر کردار ادا کرتا ھے، ایک صحافی چاہے وہ قلم سے آواز سے کمیرے اور اپنی تحریر سے ریاست اور عوام کیساتھ ہمیشہ راہ منزل متین کرتا ھے اور اس خوشحال و ترقی کی منزل میں جتنی بھی رکاوٹیں حال آتی ھیں پوشیدہ ہوں یا ظاہری ان سب کی حقیقت عیاں کرکے ان منفی رکاوٹوں کو پاش پاش کردیتا ھے۔ ایسے عمل کرنے والوں کو صحافی کہتے ھیں جبکہ جو لوگ بناء عقل و شعور تعلیم و تربیت کے اس شعبہ میں آ گھس بیٹھتے ھیں وہ مال و متاع اور غیر قانونی و غیر اخلاقی ضروریات کی تکیمل کیلئے مافیا کی شکل اختیار کرلیتے ھیں اور بااختیار لوگوں کیلئے سب اچھا لکھتے کہتے اور بولتے ھیں ایسے لوگوں کو عام فہم میں زرد صحافی کہتے ھیں، میرے نقطہ نظر سے ایسے لوگوں کیلئے قطعی صحافی کا لفظ ہی ادا نہیں کرنا چاہئے بلکہ انہیں بلیک میلر مافیاء کہنا چاہئے یا پھر بلیک شیپ میڈیا کہیں۔ میں یعنی جاوید صدیقی جرنلسٹ نے اپنے سینئرز کو جس حال میں زندگی گزارتے دیکھا ھے وہ بہت کم دکھائی دے رھا ھے۔ ھمارے انتہائی سینئرز صحافی سوائے رب العزت کے بڑے سے بڑے کسی بھی منصب یا بااختیار سے قطعی نہ مرعوب ھوتے تھے اور نہ ہی انکی شان میں آسمان ایک کردیتے تھے انکی خامیوں اور خوبیوں کو انتہائی ایمانداری دیانتداری سچائی اور حقیقت پسندی سے بیان کرتے تھے، انکی صحبت کا یہ اثر ھوا کہ یہ رنگ مجھ میں بھی دکھائی دینے لگا اس انتہائی سچائی حق گوئی کا پھل یہ ملا ھے کہ پانچ سال سے زائد بیروزگار ھوں، یہ ٹھیک ھے کہ زندگی کے معاملات اور مسائل کو حل کرنے میں انتہائی سخت لمحات سے دوچار ھونا پڑتا ھے مگر حقیقت یہ ھے کہ دل میں سکون اور اطمینان ساتھ رہتا ھے کیونکہ اللہ ہی رازق اور مالک کل ھے، عوام اور ریاست سے سچا رشتہ جوڑنے کیلئے بڑی بڑی قربانیاں دینی پڑتی ھیں، بظاہر صلحہ میں کچھ نہیں ملتا لیکن منجانب اللہ پس پردہ بیشمار نعمتوں برکتوں اور رحمتوں سے نوازتا رہتا ھے، صحافت ایک بہت سنجیدہ حساس اور بے انتہا ذمہداری کا شعبہ ھے، اس شعبہ سے تعلق رکھنے والے صحافی رپورٹرز کالمکار اینکرز نیوز پروڈیوسر نیوز ڈائریکٹر اچھی طرح سے واقف ھوتے ھیں کہ انکی ذرا سی سرزشت سے ریاست اور ملک و قوم کو کس قدر ناتلافی نقصان پہنچ سکتا ھے یہی وجہ ھے کہ شعبہ صحافت سے تعلق رکھنے والی میڈیا شخصیات بہت باریک بینی سے امور سرانجام دیتے ھیں جو بہت تھکاوٹ اور محنت طلب کام ھے ۔۔۔ !!



