
خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے اعلیٰ تعلیم کی سہولیات ضروری ہے۔صدر مملکت
پاکستان میں 26 ملین سے زائد بچوں کا اب بھی اسکولوں سے باہر ہونا افسوسناک ہے۔ڈاکٹر عارف علوی
اسلام آباد(نمائندہ جاوید اقبال)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے مقصد کے حصول کے لیے صحت اور تعلیم کی سہولیات کی فراہمی اہم عوامل ہیں،پاکستان میں 26 ملین سے زائد بچوں کا اب بھی اسکولوں سے باہر ہونا افسوسناک ہے، معاشروں میں خواتین زمانوں سے محبت اور امید کی مجسم رہی ہیں اور انہوں نے بچوں کو محبت کا درس دیا۔ہم ویمن لیڈرز ایوارڈ 2024 کے 5ویں ایڈیشن سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت عارف علوی نے خواتین کو ہراسیت سے پاک ماحول کی فراہمی کی ضرورت پر زور دیا تاکہ وہ افرادی قوت کا حصہ بن کرسماجی و معاشی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔صدر مملکت نے کہا کہ آج ہم خواتین رہنماؤں کو معاشرے میں ان کے کرداراور ان خواتین کو معاشی طورپربا اختیار بنانے میں کردار ادا کرنے والے مردوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔خواتین کے حقوق پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ جس شخص نے دو بیٹیوں کی پرورش کی اس نے جنت میں اپنا مقام حاصل کیا۔صدر عارف علوی نے کہا کہ انسانی معاشروں میں خواتین زمانوں سے محبت اور امید کی مجسم رہی ہیں اور انہوں نے بچوں کو محبت کا درس دیا اور خاندانی نظام کو برقرار رکھا۔انہوں نے واضح کیا کہ خواتین کو جنگوں اور نسل کشی کی کارروائیوں میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا، پچھلی صدیوں میں نسل کشی میں لاکھوں نے اپنی جانیں گنوائیں۔صدر مملکت نے غزہ میں اسرائیلی فورسز کی نسل کشی کی کارروائیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہزاروں خواتین اور بچے مارے گئے۔صدر مملکت نے کہا کہ پاکستانی قوم چیلنجوں پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتی ہے جیسا کہ اس نے کووڈ-19 وبائی مرض کے دوران اجتماعی کوششوں کے ذریعے کیا اور پاکستان اس مہلک بیماری سے نمٹنے میں تیسرا کامیاب ملک رہا۔انہوں نے قوم پر زور دیا کہ وہ مل کر کام کریں اور غربت، غذائیت کی کمی، سٹنٹنگ اور زچگی اور نوزائیدہ اموات سمیت متعدد چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اتحاد پیدا کریں۔صدر مملکت نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ملک میں 26 ملین سے زائد بچے اب بھی اسکولوں سے باہر ہیں۔ اس کے مقابلے میں سری لنکا، بنگلہ دیش اور بھارت میں بچوں کے اندراج کی شرح زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ چین نے 700 ملین لوگوں کو غربت سے نکالنے کے لیے صحت اور تعلیم کے شعبوں پر توجہ دی اور پاکستان کو بھی یہی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔صدر مملکت نے عام انتخابات کے دوران ووٹنگ کے عمل میں حصہ لینے پر قوم بالخصوص خواتین اور نوجوانوں کی تعریف کی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے خاتون اول ثمینہ علوی نے منتظمین کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان ایوارڈز نے ہمارے گمنام ہیروز، ہماری بہنوں کی زندگی کے مختلف شعبوں میں گرانقدر خدمات اور کردار کو تسلیم کرتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کی۔انہوں نے خواتین پر زور دیا کہ وہ کاروبار کے قیام کے لیے بینکوں کی جانب سے پیش کردہ آسان قرضوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے آگے آئیں۔ایوارڈ شو کی آرگنائزر صدر ہم ٹیلی ویژن سلطانہ صدیقی نے کہا کہ خواتین کے کردار کو تسلیم کرنے اور مسلسل جدوجہد کے ذریعے رکاوٹوں کو عبور کرنے اور متعلقہ شعبوں میں اپنی شناخت بنانے والی خواتین رہنماں اور کاروباری شخصیات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ہر سال ویمن لیڈرز ایوارڈز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔صدر مملکت اور خاتون اول نے دیگر ممتاز شخصیات کے ساتھ خواتین رہنمائوں کو تعلیم، صحت اور کاروبار کے شعبوں میں شاندار خدمات پر ایوارڈز سے نوازا۔شیبا نجمی، خورشید بانو، رضیہ کوریجو، ہما فخر، بی بی آمنہ، ثانیہ سعید، شیما کرمانی، صادقہ صلاح الدین، نمیرہ سلیم، ڈاکٹر امانی اسفور، ڈاکٹر امجد ثاقب اور ڈاکٹر عز الدین ابو العیش کو معاشرے میں نمایاں خدمات پر ایوارڈز سے نوازا گیا۔تقریب میں وزرا، سفارت کاروں اور سول سوسائٹی کے ارکان نے بھی شرکت کی۔



