
پشین میں انتخابی امیدوار کے دفتر کے باہر دھماکا، 15 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی۔
دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ پولیس
پشین(نمائندہ خصوصی)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے خانوزئی میں دھما کے کے نتیجے میں 15 افراد جاں بحق ہوگئے۔پولیس نے خانوزئی میں ہونے والے دھماکے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکا انتخابی امیدوار کے دفتر کے باہر ہوا، دھماکے کے بعد علاقے میں کھڑی موٹرسائیکلیں تباہ ہوگئیں اور دھماکے کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں جب کہ 15 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ دھماکا انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار اور سابق وزیر اسفند یار کاکڑ کے دفتر کے باہر ہوا خانوزئی اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے تصدیق کی کہ دھما کے کے بعد 15 افراد کی لاشیں اور 30 سے زائد زخمیوں کو اسپتال لایا گیا ہے جن میں سے بیشتر کی حالت تشویشناک ہے۔ نمائندہ کے مطابق دھماکا عام انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار اور سابق وزیر اسفند یار کاکڑ کے دفتر کے باہر ہوا ہے تاہم وہ دفتر میں موجود نہیں تھے، دھما کے کے وقت علاقے میں بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے جب کہ دیگر سیاسی جماعتوں کے دفاتر بھی اس علاقے میں موجود ہیں۔سابق وزیر اسفند یار خٹک کا تعلق ایک سیاسی جماعت سے ہے تاہم اس بار ٹکٹ نہ ملنے پر وہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نگران وزیر اطلاعات جان اچکزئی نے کہا کہ خانوزئی میں افسوسناک واقعہ ہوا، یہ خودکش دھماکا نہیں تھا، دھماکا خیز مواد موٹرسائیکل میں نصب تھا۔انہوں نے کہا کہ یہ دھماکا کوشش ہےکہ بلوچستان میں الیکشن کے عمل کو سبوتاژ کیاجائے لیکن یہ ایک ناکام کوشش ہے، کل الیکشن ہونگے اور پرامن ہونگے، عوام نکلیں گے اور دہشتگردوں کے عزائم خاک میں ملائیں گے، جس طرح ایک ماہ میں ہزاروں جلسے اور کارنر میٹنگز ہوئی ہیں انشاءاللہ کل کا دن بھی پرامن ہوگا، ہم اس افسوسناک واقعے کے بعد بھی اپنی ذمہ داری جاری رکھیں گے، اگر ضرورت پڑی تو شدید زخمیوں کو وزیراعلیٰ کے طیارے میں علاج کے لیے دوسرے شہروں میں منتقل کریں گے.علاوہ ازیں دوسری جانب الیکشن کمیشن کا کہنا ہےکہ ضلع پشین میں دھماکا صوبائی حلقے پی بی 4 میں سیاسی جماعت کے دفتر کے قریب ہوا جس کا نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکرٹری اور آئی جی بلوچستان سے فوری رپورٹ طلب کی گئی ہے.



