پی پی دہشتگردوں کے نشانے پر، خوفزدہ ہوکر پیچھے ہٹ جاؤنگا یہ انکی بھول ہے: بلاول بھٹو

خضدار: پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلزپارٹی دہشتگردوں کے نشانے پر ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ یہ تو بچہ ہے خوفزدہ ہوکر پیچھے ہٹ جائے گا یہ ان کی بھول ہے۔
“میں جانتا ہوں کہ کچھ قوتیں پاکستان پیپلز پارٹی کو نشانہ بنارہی ہیں کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ پاکستان پیپلز پارٹی وفاق اور بلوچستان میں حکومت بنائے۔ انہیں معلوم ہے کہ اگر بلاول بھٹو وزیر اعظم اور جیالا بلوچستان کا وزیر اعلی بنتا ہے تو ان کی تمام سازشیں ناکام ہوجائیں گی۔”
چیئرمین… pic.twitter.com/2NxLYM21Jv
— PPP (@MediaCellPPP) February 1, 2024
پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ قوتیں پیپلزپارٹی کو نشانہ بنا رہی ہیں، وہ قوتیں نہیں چاہتیں کہ پیپلزپارٹی بلوچستان میں حکومت بنائے، وزیراعظم، وزیراعلیٰ بلوچستان سے جیالا بنتا ہے تو ان کی سازشیں ناکام ہوجائیں گی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ میرے بلوچ بہن بھائی بہت دکھ اور تکلیف سے گزر رہے ہیں، میں بلوچستان کے عوام کے مسائل جانتا ہوں، وہ جانتے ہیں کہ پیپلزپارٹی بلوچوں کو ان کا حق دلوا سکتی ہے، ناصرف دہشتگردوں کا مقابلہ کروں گا بلکہ لاپتہ افراد کے مسائل کا حل بھی نکالوں گا، ہمارا سر کٹ تو سکتا ہے لیکن کسی دہشتگرد کے سامنے جھک نہیں سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی اور نوازشریف کو مکافات عمل دنیا میں دیکھنا پڑے گا: بلاول بھٹو
بلاول بھٹو نے کہا کہ عوام جانتے ہیں کہ پیپلزپارٹی وہ واحد جماعت ہے جو جھکتی نہیں ہے، ہم تمام قوتوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں مگر عوام کے حقوق پر سودا نہیں کرسکتے، عوام جانتے ہیں کہ پی پی وہ واحد جماعت ہے جو بلوچستان کو اس کا حق دلاسکتی ہے۔
چیئرمین پی پی نے کہا کہ آصف زرداری کی بطور صدر اٹھارہویں ترمیم اور این ایف سی پر مکمل عملدرآمد ہوتا تو آج بلوچستان میں سازشیں دم توڑ چکی ہوتیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہمارے اتحادی الیکشن سے بھاگ رہے، ہم لاشیں اٹھا کر لڑنے کے عادی ہیں، بلاول بھٹو
انہوں نے مزید کہا کہ سازشی ٹولے نے اور دہشت گردوں نے پیپلزپارٹی کے امیدواروں پر کئی حملے کئے، مستونگ، تربت، بولان اور خضدار میں حملے ہوئے، ان کا خیال تھا جیالے گھبرا جائیں گے مگر ایسا نہیں ہوا، پی پی شہیدوں کی، غیرت مندوں کی جماعت ہے جو کسی دہشت گرد کے سامنے جھک نہیں سکتی۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ آٹھ فروری کو بلوچستان بھر میں تیروں کی بارش ہوگی، اگر میں پارلیمان میں پہنچ گیا تو عوام کو معلوم ہے کہ میں ان کی آواز بنوں گا۔



