
بھارتی بحریہ کا صومالی قزاقوں سے 19 پاکستانیوں کو بچانے کا دعویٰ۔
ہندوستانی بحریہ کی جانب سے یہ دوسرا آپریشن تھا کیونکہ انہوں نے پیر کے روز ایک ایرانی ماہی گیری کے جہاز کو بھی آزاد کیا تھا۔
بھارت(انٹرنیشنل ڈیسک)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق بھارتی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کم ازکم 19 پاکستانیوں کو ایک بحری جہاز سے آزاد کرایا ہے جس کو صومالیہ کے ساحل سے بحری قزاقوں کو ہائی جیک کیا ہوا تھا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ہندوستانی بحریہ کا کہنا تھا کہ اس نے کم از کم 19 پاکستانیوں کو لے جانے والے ایک بحری جہاز کو آزاد کرایا ہے، جسے صومالیہ کے ساحل سے بحری قزاقوں نے بحر ہند میں بحری جہازوں کے خلاف تازہ ترین حملے میں ہائی جیک کر لیا تھا۔ہندوستانی بحریہ کی جانب سے یہ دوسرا آپریشن تھا کیونکہ انہوں نے پیر کے روز ایک ایرانی ماہی گیری کے جہاز کو بھی آزاد کیا تھا۔ہندوستانی بحریہ کے ایک ترجمان نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ جنگی جہاز آئی این ایس سمترا نے ایک اور انسداد بحری قزاقی آپریشن کو کامیابی کے ساتھ انجام دیا اور 11 صومالی قزاقوں سے 19 پاکستانی قومی عملے کے ارکان کے ساتھ ایک جہاز کو بچا لیا۔ بحری جہاز کو مسلح صومالی قزاقوں نے مشرقی ساحل سے ہائی جیک کر لیا تھا۔ترجمان کا کہنا ہے کہ کوچی کے تقریباً 850 nm مغرب میں بحیرہ جنوبی عرب میں ہندوستانی بحریہ کے جنگی جہاز کو تعینات مشن کی جانب سے تیز رفتار، مسلسل اور انتھک کوششوں کے ذریعے ہائی جیک کیے گئے جہازوں کا یہ بچاؤ، تجارتی جہازوں پر قزاقی کی مزید کارروائیوں کے لیے ماہی گیری کے جہازوں کے مدر شپ کے طور پر غلط استعمال کو بھی روکتا ہے۔یمن کے حوثی باغیوں نے غزہ میں فلسطینی گروپ حماس کے خلاف اسرائیل کے فوجی حملے کے جواب میں بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں اسرائیل سے منسلک بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے متعدد حملے کیے ہیں۔بین الاقوامی بحری افواج کا رخ بحیرہ احمر میں خلیج عدن سے شمال کی طرف موڑ دیا گیا ہے جس سے یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ قزاق سیکورٹی خلا سے فائدہ اٹھائیں گے، دسمبر میں 2017 کے بعد صومالی قزاقی کا پہلا کامیاب کیس ریکارڈ کیا گیا تھا۔



