خیبرپختون خواہ

شانگلہ کی سیاست تنازعات کی شکار شانگلہ کو اللہ نے خوب صورتی سے نوازا یہاں کی گل رخ پہاڑوں

شانگلہ کی سیاست تنازعات کی شکار شانگلہ کو اللہ نے خوب صورتی سے نوازا یہاں کی گل رخ پہاڑوں میں دنیا کی ہرقسم کی نعمتیں موجود ہیں لیکن رسائی اور وسائل کی نہ ہونے کیوجہ سے یہاں کےسونا مٹی بن جاتی ہیں ایک طرف ہم دنیا کی طرز روایات سے ناواقف ہیں اور دوسری کمی ہم سیاست کو زیاتیات پہ لیتے ہیں جب شانگلہ کی طرقی کیلئے کوئ راستہ نظر آنے لگتا ہیں تو معزز سیاسی لیڈر ایک دوسرے کی شکست کیلئے اتحادییں بنانے میں لگ جاتے ہیں بہت معزرت کیساتھ یہ ہیں ہمارا کم ظرفی ،شانگلہ کی تاریخ سے شانگلہ کے ہر چھوٹا بڑا واقف ہیں شانگلہ کو اس وقت ضلع کادرجہ دیاگیا جو ملک میں طالبانائزیشن اور افراتفری پیھلی ہوئ تھی اس دور میں ملک میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اور اس غیر معمولی حالات میں ہمارے شانگلہ کا منتخب ممبر صوبائی اسمبلی حاجی بدیع الزمان شہید کیا گیا شانگلہ کی عوام میں شدید اشتعال وکلاء اور سٹوڈنٹس فیڈریشن صحافی برادری اور سیاسی لیڈر ز ایک پیج پہ ہوگئ کہ شانگلہ کو اس وقت کے وزیراعلی پہ ضلع کااعلان کروایا گیا ،ضلع کی بنیاد رکھنے کیوجہ سے عوام کو کافی ریلیف ملا اور جب ہم صرف ایک ڈومیسائل کیلے سوات میں دو دن گزارتے تھے وہ اختیار ابھی اپنے گھر پہ منتقل ہوگئے ،بہت سے جوانوں کو روزگار کے مواقع ملے اور ساتھ جو ابادی کی تناسب پہ ہمارا حق تھا حلقہ قومی اسمبلی لیکن ہمیں اس حق سے محروم رکھا گیا ایک اور طرقی ھمارا الگ این اے کا حلقہ تھا کیونکہ اس وقت ہمارا ممبر قومی اسمبلی سوات سے منتخب ہوتا تھا لیکن معزرت کیساتھ وہ کوئ عزت کی نگاہ سے ہمیں نہیں دیکھتے تھیں اور نہ اس دور میں قومی اسمبلی کے ڈویلپمنٹ فنڈز میں ھمارے شانگلہ کا کوئی حصہ تھا ،اگلے الیکشن میں پہلی بار شانگلہ کی نمائندگی قومی اسمبلی میں ہوا اور لوگوں نے پہچان لیا کہ شانگلہ بھی پاکستان کے نقشے پہ کسی جگہ کا نام ہیں پہلا ہما را منتخب ایم این اے اور بعد میں بااختییار وفاقی وزیر کی شکل میں انجنئیر امیر مقام صاحب تھا اس نے کافی حد تک شانگلہ کی محرومیاں کم کردی ،دوسی بار پھر انجنئیر امیر مقام صاحب کے بھائی ڈاکٹر عباداللہ خان شانگلہ سے منتخب ہوا اور صوبائی اسمبلی کی دو حلقوں میں سے ایک حکومتی پارٹی کے بااختییار صوبائی وزیر شوکت یوسف زئی صاحب کا میاب ہوا وہ وزیر اعظم خان صاحب کے بہت قریب تھا اور مکمل اختیار کے ساتھ دو وزارتوں کا مالک لیکن وہ شانگلہ کی سیاست کی گورکھ دھندہ سے ناواقف تھا اور اس کے ارد گرد سوائے چند سیاسی شعور رکھنے والوں کے علاؤہ زیادہ تر غیر معقول افراد کی لمبی فہرست تھا اسکو اجتماعی طرقی سے کیا لینا دینا تھا وہ صرف اپنے ذاتی مفادات کی چکر میں تھے اس کیوجہ سے شانگلہ میں بہت فنڈ لگا لیکن طرقی کا کوئی رنگ نظر نہیں آیا اور سیاسی سمج بوجھ رکھنے والے کارکنوں نے خاموشی اختیار کی اور سائڈ پہ ہوگئ ،خان صاحب کی حکومت گرادی گئ اور بقایا سیاسی جماعتوں کی اتحادیوں نے پی ڈی ایم بنایا ،اس دور میں بھی شانگلہ کو کچھ راستہ مل گیا شانگلہ سے وزیر اعظم کی مشیر کی شکل میں انجنئیر امیر مقام صاحب پہر منظر عام پر آیا شانگلہ کی پہچان بن گیا ،انتہائ معزرت کیساتھ شوکت یوسف زئی صاحب نے جو فنڈز شانگلہ منتقل کیا تھا اگر وہ جگہ اور اجتماعی پروجیکٹ پہ لگ جاتے تو شاید شانگلہ کے دیکھنے کیلئے ملک بھر سے سیاح آتے تھے لیکن اختیار زیادہ ان لوگوں کے پاس تھا جو اس کو سیاسی شعور اور شانگلہ کی طرقی سے کوئ غرض نہیں تھا ،لیکن پرانے زمانے کیطرح جانور کی قربانی کا تقسیم تھا اور جس میں حیا اور شعور نہیں تھا اس کی حصہ میں زیادہ گوشت آتا تھا کیونکہ شوکت یوسف زئی صاحب کو کوئ پتہ نہیں تھا اسلئے پارٹی کے فنڈز اور سیاسی عہدے چند ان لوگوں میں تقسیم کیا گیا جو سیاسی شعور سے بلکل ناواقف تھے اور بصد احترام اس میں چند ایسے حضرات بھی تھے جو سٹیج پہ اس سوچ پہ مجبور ہوجاتے کہ وہ کیا بھولیں کیا پی ٹی آئ میں قابل لوگوں کی کمی تھی ؟بس یہ شانگلہ کی بد قسمتی تھا ،شانگلہ میں یونیورسٹی کا بنیاد رکھا گیا جو ہمارے لیے باعث مسرت بات تھی یہ الگ چیپٹر ہیں کہ کس نے کروایا کیونکہ ہر سیاسی لیڈر کا اپنی جگہ پہ دعویٰ ہیں کہ یہ میرا کیا ہوا پروجیکٹ ھیں لیکن بہرحال ہمارے طرقی کا ایک اور خواب پورا ہوگیا لیکن ابھی تک یونیورسٹی کا مستقبل غیر یقینی ہیں اور یہ ہیں ہمارے سیاسی قائدین کی اجتماعی پروجیکٹ پہ سمجھوتا نہ کرنا، شانگلہ کی ابادی کہ پیش نظر الیکشن نے شانگلہ کو تیسرا صوبائی سیٹ دیا جو باعث مسرت بات تھی لیکن اس پہ بھی ہمارے قائدین دست وگریباں ہہیں اور روز ایک دوسرے پہ الزامات لگاتے ہیں جس نے اچھا اقدام ہیں اس کا ساتھ دو اور یہ نفرت کی سیاست سے کنارہ کش ہوجائیں طرقی کا کام جو بھی پارٹی کرتا ھیں اس کا ساتھ دو تاکہ شانگلہ کی طرقی کا سفر نہ رکھ سکے سیاست حسد زد کا نہ بلکہ ایک مقدس خدمت کا نام ہیں ملکر شانگلہ کی پہچان بن لو کیونکہ یہ ھمارا مشترکہ گھر ہیں۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You