
راولپنڈی : ریجنل پولیس آٖفیسر راولپنڈی ریجن سید خرم علی نے محکمانہ امور میں غفلت لاپرواہی کے مرتکب پولیس افسران کو ذاتی شنوائی وانکوائری کے بعد سزاؤں کے احکاما ت جاری کر دیئے۔
پولیس افسران کو مختلف اوقات میں متعدد مختلف وجوہات کی بناء پر شوکاز نوٹس جاری کیے گئے تھے۔ محکمانہ امور میں غفلت لاپرواہی اور عدم توجہی کے مرتکب افسران کو سخت احتساب کا سامنا کرنا ہوگا، سروس ڈیلیوری کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے کڑے احتساب کا عمل جاری رہے گا، آر پی او سید خرم علی
تفصیلات کے مطابق ریجنل پولیس آفیسر راولپنڈی ریجن سید خرم علی نے ریجنل دفتر میں ذاتی شنوائی کے لیے پولیس اجلاس کا انعقاد کیا۔ اجلاس میں پولیس افسران کو جاری کیے گئے شوکاز نوٹس اور چارج شیٹ پر دیئے گئے جوابات کا بغور جائزہ لیا گیا اور متعلقہ افسران کو ذاتی شنوائی کے لیے سماعت کے لیے طلب کیا گیا۔شوکاز نوٹس،چارج شیٹ اور انکوائری و سماعت کے دوران الزامات کے متعلق جوابات غیر تسلی بخش ہونے پر آر پی او راولپنڈی نے محکمانہ سزاؤں کے احکامات جار ی کر دیئے۔محکمانہ سزا پانے والوں میں آفتاب احمد انسپکٹر ایس ایچ او جاتلی کوشہریوں کی درخواستوں پر بمطابق ایس او پی بروقت کارروائی نہ کرنے اور جرائم کی روک تھام کے لیے مناسب حکمت عملی نہ اپنانے پر ڈسمس فرام سروس کیا گیا۔ کفائت اے ایس آئی کو تھانہ دھمیال میں شہری پر جھوٹا مقدمہ درج کرنے اوردوران انکوائری گناہ گار ثابت ہونے پر ڈسمس فرام سروس کیا گیا۔ندیم ظفر سب انسپکٹر ایس ایچ او تھانہ نصیر آباد کوشہریوں کی درخواستوں پر بمطابق ایس او پی بروقت کارروائی نہ کرنے پر سزا تنزلی عہدہ سب انسپکٹر سے اے ایس آئی دی گئی۔عزیر اکبرسب انسپکٹر کو چوکی کرور تھانہ کوٹلی ستیاں تعیناتی کے دوران شہریوں کی درخواستوں پر بروقت کارروائی نہ کرنے کی پاداش میں دو مراحل میں سزا کمی تنخواہ برائے 2سال دی گئی، انسپکٹر ایس ایچ او تھانہ مری آصف محمودکو شہریوں کی درخواستوں پر بروقت کارروائی عمل میں نہ لانے پر 2سال ضبطی سروس کی سزا دی گئی جبکہ خداد مجید سب انسپکٹر کو محکمانہ امور میں غفلت برتنے پر معطل تبدیل ریجنل آفس کیا گیا۔ اس موقع پر آر پی او راولپنڈی ریجن سید خرم علی نے کہا کہ محکمانہ امور میں غفلت لاپرواہی اور عدم توجہی کے مرتکب افسران کو سخت احتساب کا سامنا کرنا ہوگا، سروس ڈیلیوری کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے کڑے احتساب کا عمل جاری رہے گا۔




