کالم/مضامین

خونِ ناحق اطفال کا، پکارتا ہے غزہ سے۔ ۔ ۔

اے انسا نیت ۔ ۔ ۔ کہاں ہو تم
تمہیں ڈھونڈتی ہیں نگاہیں
آجا ؤ کہ شاید تمہیں دیکھ کر
لوٹ آئیں سانسیں

خود کو بچاتے، بچاتے تھک گیا تھا میں
کچھ دیر تیرے سائے میں، سونا چاہتا تھا
یہاں خون ہی خون بکھرا ہے، ڈر ہے مجھے لگتا
نہ جانے یہ کیا ہوا ہے مجھے،
کہ میں کچھ بھی نہیں کر سکتا

کچھ خواب آنکھوں میں تھے سجے
انہیں پورا کرنا چاہتا تھا
زندگی خوبصورت ہے،
میں اسے جینا چاہتا تھا
اسکول جانا تھا مجھے،
بستے میں رکھنی تھیں کتابیں
کھیل بہت سے کھیلنے تھے،
دوستوں سے کرنی تھیں باتیں

ماں کھیر بناتی تھی جب
شوق سے میں کھاتا تھا
پھر اُنگلی پکڑ کر با با کی،
ٹافی لینے جاتا تھا
لیکن اب سنتا ہوں کہ
اک اندھیرے گڑھے میں چھوڑ آئیں گے مجھے
مٹی ڈال کر پھولوں سے،
پھر سجائیں گے اُسے
کہہ دوں گا اُن سے، نہ مجھے وہاں لے جا نا
میری ماں کی گود ہے، میرا آشیانہ

کیا قصور تھا میرا، میں نہیں جانتا
میں تو معصوم تھا،
یہ تو ہر ایک تھا جانتا
لیکن پھر بھی چھین لیں مجھ سے میری پناہیں۔ ۔ ۔
اے انسانیت کہاں ہو تم
کہ تمہیں ڈھونڈتی ہیں نگاہیں

(کاشف شمیم صدیقی)

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You