کرائمز

ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جسٹس صداقت علی خان اور جسٹس وقاص رؤف مرزا پر مشتمل ڈویژن بنچ نے

راولپنڈی (افتخار خٹک سے رپورٹ )ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جسٹس صداقت علی خان اور جسٹس وقاص رؤف مرزا پر مشتمل ڈویژن بنچ نے تھانہ رتہ امرال کے مشہور قتل کیس میں ماتحت عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے نامزد ملزم کو بری کرنے کا حکم دیا ہے تھانہ رتہ امرال پولیس نے25 جنوری 2021کو محمد مبشر کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 302،324اور34کے تحت مقدمہ درج کیا تھا جس میں الزام تھا کہ طارق محمود اور اس کے بیٹے ثمر علی خان نے معمولی تلخ کلامی کا بدلہ لینے کے لئے اس کے بھائی محمد اخترکو فائرنگ کر کے شدید زخمی کر دیا تھا جو بعد ازاں دم توڑ گیا تھاجس پر راولپنڈی کی سیشن عدالت نے گزشتہ سال24فروری کوٹرائل مکمل ہونے پرطارق محمود کو موت کی سزا سنائی تھی جبکہ مقتول کے قانونی ورثا کو 5لاکھ روپے بطور ہرجانہ بھی ادا کرنے کا حکم دیا تھاعدالت نے طارق کے بیٹے ثمر علی کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے مقدمہ سے بری کر دیا تھا سزا پانے والے ملزم نے مسعود شاہ ایڈووکیٹ کے ذریعے ماتحت عدالت کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائرکی تھی گزشتہ روز حتمی دلائل مکمل ہونے پر ڈویژن بنچ نے سیشن کورٹ کافیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے سزا یافتہ ملزم کو بری کرنے کا حکم دیا ہے۔
۔۔۔۔۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You