اہم خبریںسائنس اور ٹیکنالوجی

کائناتی سوالیہ نشان کائنات پہیلیوں سے بھری پڑی ہے؟

کائناتی سوالیہ نشان کائنات پہیلیوں سے بھری پڑی ہے۔

بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ کائنات خود ایک پہیلی ہے جسے انسان ہزاروں سال سے سلجھانے میں مگن ہے۔ لیکن جتنا اس پہیلی کو سلجھاتے ہیں، یہ ہمیں مزید حیران کرتی جاتی ہے اور انسانی ذہن میں کئی سوالیہ نشان چھوڑتی جاتی ہے۔

سوالیہ نشان؟
جی ہاں، کائنات نے اپنی وسعتوں کی گہرائی سے خود ہماری طرف ایک سوالیہ نشان بھیجا ہے۔
ماجرا کچھ یوں ہے کہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے نظام شمسی سے تقریباً 1470 نوری سال دور موجود گیس کے ایک ایسے بادل کی تصویر بنائی جہاں دو نئے ستاروں، جن کو ہربگ ہارو 46 اور 47 (Herbig-Haro 46,47) کا نام دیا گیا ہے، کی پیدائش کا عمل جاری ہے۔
فلکیات کی زبان میں ایسے بادل کو نبیولا Nebula کہا جاتا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق قابل مشاہدہ کائنات میں ہر سیکنڈ میں تین ہزار سے پانچ ہزار تک نئے ستارے بنتے اور ہر دس سیکنڈ بعد ایک ستارہ سپرنووا بن کر تباہ ہوتا ہے۔
گویا نئے ستاروں کی پیدائش کائنات کے لئے ایک بہت "بورنگ” سا موضوع ہے۔
لیکن ہمارے لئے یہ خاص دلچسپی کا حامل ہے کیونکہ اس عمل کے مطالعے سے ہمیں معلوم ہو سکتا ہے کہ ہماری کائنات میں ستارے کیسے بنتے اور کیسے تباہ ہوتے ہیں اور خاص طور پر خود ہمارا سورج اور اور ہمارا نظام شمسی کیسے بنا ہوگا اور اس کا اختتام کیسے ہوگا؟
اس عمل کے گہرائی میں مطالعے کے لئے جیمز ویب اسپیس ٹیلیسکوپ ایسے ہی اہم اور مفید ثابت ہوئی جیسے کسی حادثے کے بعد کسی انسان کے جسم میں ٹوٹی ہوئی ہڈی کو دیکھنے کے لیے ایکسرے مشین کارآمد ثابت ہوتی ہے۔
عام مشاہدہ ہے کہ قدرت میں پیدائش کا عمل اکثر پوشیدہ ہوتا ہے۔
ستاروں کی پیدائش کا یہ عمل بھی دراصل گیس اور گرد و غبار کے بادل میں لپٹا ہوتا ہے اور روشنی کی مرئی اسپیکٹرم Visible Spectrum میں کام کرنے والی ٹیلیسکوپس اس عمل کا اس حد تک بہتر مشاہدہ نہیں کر سکتیں اور پھر پتا چلتا ہے کہ جیمز ویب ٹیلیسکوپ پر خرچ ہونے والے 10 ارب ڈالر ضائع نہیں ہوئے…
جیسے ہر گھر میں ایک بچہ ایسا ہوتا ہے جو بریانی کی پلیٹ میں سے صرف بوٹیاں ہی تلاش کرتا ہے ویسے ہی فلکیات کے شائقین میں سے بھی کچھ ایسے ہیں جو اس تصویر میں نیبیولا کی خوبصورتی اور ستاروں کی پیدائش کے عمل کے نشاندہی والے علاقوں سے دور کہیں کچھ بہت خاص اور الگ ڈھونڈنے میں مصروف تھے۔
اور پھر انہیں وہ خاص مل گیا۔
تصویر کے نچلے دائیں حصے میں، اربوں سال کی دوری پہ موجود یہ ایک سوالیہ نشان.
کائنات کے چہرے پر یہ سوالیہ نشان کیسے ظاہر ہوا، یہ بھی اپنے آپ میں ایک پہیلی ہے۔
فلکیات دانوں کی طرف سے بتایا جا رہا ہے کہ قوی امکان ہے کہ یہ دو کہکشائیں ہیں جو آپس میں ضم ہونے کے مراحل سے گزر رہی ہیں اور اس عمل کے دوران ایک دوسرے سے ایسے زاویئے پر آ گئی ہیں کہ ایک سوال نشان کی مانند نظر آ رہی ہیں۔ اس سوالیہ نشان کا سرخ رنگ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ کہکشائیں ہمارے تخیل سے بھی زیادہ دور دراز فاصلے پر موجود ہیں کیونکہ بہت دور کے اجسام سے آنے والی روشنی اپنی ویو لینتھ کے پھیلنے کی وجہ سے سرخی یا نارنجی مائل رنگ ظاہر کرتی ہے۔
اب سوچنا تو یہ ہے کہ کیا اس سوالیہ نشان کے ذریعے کائنات ہم سے کوئی بات کرنا چاہتی ہے؟
کیا وہ ہمارا منہ چڑھا رہی ہے کہ تم جتنا مجھے سمجھنے کی کوشش کرو گے میں اتنا تمہیں حیران و پریشان کرتی جاؤں گی؟
یا کیا وہ ہماری حوصلہ افزائی کر رہی ہے کہ آؤ! مجھے اور جاننے کی کوشش کرو اور میں تم پر تخلیق و فنا کے راز عیاں کرتی جاؤں گی؟
یا پھر وہ ہمیں یہ پیغام دے رہی ہے کہ جناب! اشرف المخلوقات! آپ نے تو ابھی مجھے ایک فیصد بھی نہیں جانا، ابھی تو بے شمار پہیلیاں باقی ہیں۔

(تحریر: ڈاکٹر احمد نعیم)

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You