عنوان: قائداعظم محمد علی جناح ؒ کا کیس اور پاکستان۔۔۔۔!!

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: قائداعظم محمد علی جناح ؒ کا کیس اور پاکستان۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
زمیں کی گود رنگ سے امنگ سے بھری رہے
خدا کرے سدا ہری بھری رہے

حقیقت تو یہ ھے کہ اس سرزمین پاک کے باشندے چاہے وہ کسی بھی مقام پر کسی بھی حیثیت میں کسی بھی منصب پر اور کسی بھی حالت میں ھوں ان کا دل و دماغ اپنے وطن عزیز پاکستان کی بقاء و سلامتی اور خوشحالی کیلئے سرگرم عمل رہتا ھے یہی وجہ ہے کہ بیرون ملک پاکستانی اپنے وطن کیلئے مالی و جسمانی خدمات سے ہمہ وقت پیش خدمت رہتے ھیں۔ یہ الگ المیہ ھے کہ ھمارے ملک کو جمہور اور جمہوریت کے ٹھیکیداروں نے بھربھرا کرکے رکھ دیا۔ ان حکمرانوں نے اپنی ذاتی خواہشات پر افواج پاکستان اور عوام کو بھینٹ چڑھادیا ایک جانب اپنی ناکامی اور ناکارہ کارکردگی کو چھپانے کیلئے ہر ایک نے اداروں کو تہس نہس کردیا تو دوسری جانب ھمارے محافظوں اور منصفوں کو بدنام کرنے کی ناکام کوششیں جاری رکھیں ان کا سب سے بڑا ہتھیار میڈیا رھا جو اپنی بلیک منی کو وائٹ کرنے کیلئے بے جا الزامات تہمتیں اور جھوٹے دعوے کرتے رھے اور ریاست کی طاقت کو زائل کرنے کیلئے بیرونی آقاؤں کے اشاروں پر ناچتے رھے جو عوام اینکروں اور سیاسی مداریوں کی شکل میں دیکھتے چلے آرھے ھیں۔ اس پرگندہ ماحول میں چند ایک کے علاوہ بیشتر صحافیوں، قلمکاروں، رپورٹروں، معلمین دانشوروں مفکروں محققین اور وطن کے مخلصین نے دشمنانان وطن سے مقابلہ کرنے کیلئے اپنے اپنے مورچوں سے حملہ آور رھے اور اپنی افواج کے شانہ بشانہ چلتے رھے۔ وطن عزیز پاکستان کے بیٹے سائنسدان محقق ماہر پالیسی ڈاکٹر انجینئر سید صادق علی نے قدم بڑھایا ھے۔ اس سیدزادے بہادر عظیم مخلص اور جانثار وطن کیلئے میں یہی شاعر محمد فاروق دیوانہ کے شعر نذر پیش کرتا ھوں ۔۔۔۔!
گر قوم کی خدمت کرتا ھے
احسان تو کس پر کرتا ھے
کیوں غیروں کا دم بھرتا ھے
کیوں خوف کے مارے مرتا ھے
اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ھے!
پھر دیکھ خدا کیا کرتا ھے!
یہ اشعار اس لئے منتخب کئے کہ وہ ریاست پاکستان کے اہم منصبوں پر برجمان لوگوں سے کہہ رھے ھیں کہ قائداعظم کی آواز سنیں جو انھوں نے اس ملک و قوم کیلئے وصیت کی تھی۔ وہ معتبر پاکستان کے بیٹے سید صادق علی اپنی قوم سے مخاطب ھوکر کہتے ھیں کہ میرے پیارے پاکستانیو، برائے مہربانی اس پیغام کو سب کیساتھ شیئر کریں۔ قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کی ہدایات کے مطابق، یہ عدلیہ یعنی سپریم کورٹ آف پاکستان کی ذمہ داری تھی کہ وہ پاکستان پر پارلیمانی نظام کو مسلط نہ ہونے دے کیونکہ یہ ایک جمہوری فراڈ ہے۔ پارلیمانی نظام میں میرے ووٹ کی قدر پاکستان کے دیگر حلقوں میں رہنے والے ووٹرز کے ووٹ کی قدر کے برابر نہیں ہے۔ ووٹ کی قدر میں یہ عدم مساوات جمہوریت اور آئین کی تمہید اور آرٹیکل 2A، 8 اور 25 کی خلاف ورزی ہے۔ پارلیمانی نظام کی حمایت کرنا آرٹیکل 2A، 8 اور 25 کے تحت ایک آئینی جرم ہے۔ آئینی طور پر صرف سپریم کورٹ آف پاکستان پارلیمانی نظام کو ختم کرنے کی مجاز ہے۔ برائے مہربانی اس نازک وقت میں پاکستان کو تمام بے غیرت، لٹیرے اور خائن سیاستدانوں سے بچانے کیلئے متحد ہوکر قائداعظم محمد علی جناح ؒ کے پاکستان کو دوبارہ دریافت کرنے کی اس مہم کا حصہ بنیں جو میں نے سپریم کورٹ میں دائر کی ھوئی ھے۔ اس بابت چیف جسٹس جناب عمر بندیال صاحب سے بفس نفیس ملاقات کی اور ملاقات میں اپنے اس قومی کیس کی تفصیل اور تشریح بھی بیان کی لیکن تا حال انھوں نے میرے کیس کو سن لیئے تاریخ ابھی تک نہیں دی ھے۔ یہ کیس میری ذایات سے متعلق ہرگز نہیں بلکہ یہ کیس ریاست و مملکت پاکستان اور عوام کا کیس ھے جو قائداعظم محمد علی جناح ؒ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں لکھا تھا۔ میں تو قائد کے فرمان کی حقیقی تشکیل اور عمل کیلئے کوشاں ھوں کیونکہ آئین کے مطابق یہ میرا حق ھے اور ذمہداری بھی۔ اس سلسلے میں آرمی چیف جناب عاصم منیر صاحب کو بھی خطوط لکھے ھیں۔ پاکستانی عوام پر ذمہداری عائد ھوتی ھے کہ وہ لاکھوں جانیں نچھار کرنے والوں کی قربانی زائل نہ ھونے دیں اور اس کیس میں ہر شخص فریق بن جائے تاکہ سپریم کورٹ قائداعظم محمد علی جناح ؒ کی آواز سن سکیں اور قائد کے فرمان کے مطابق جمہوریت کا خاتمہ اور صدارتی نظام کا رائج ھونا ہی اس ملک کی بقاء و سلامتی اور خوشحالی کی ضمانت ھے۔۔۔۔۔!!



