عنوان: پاکستان کو سیاستدان نہیں لیڈر چاہئے۔۔۔؟؟

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: پاکستان کو سیاستدان نہیں لیڈر چاہئے۔۔۔؟؟
کالمکار: جاوید صدیقی

لیڈر ہندوستان کا ھو یا پاکستان کا لیڈر، لیڈر ھوتا ھے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ سیاستدان کبھی لیڈر نہیں ھوتا۔ خاص طور سے اگر جمہوری طرز حکومت کا مطالعہ کریں تو وہاں لیڈر نہیں سیاستدان پائے جاتے ہیں بلکہ یوں کہنے دیجئے کہ ولائتی سیاستدان بھٹی میں تیار کئے جاتے ہیں، جب میں کہتا ھوں کہ سیاستدان تو سب ہی سیاسی جماعت کے سیاستدان ھوتے ھیں مگر ان سیاسی جماعتوں میں لیڈر کوئی نہیں ھوتا، اب یہ سمجھنا لازمی ھے کہ لیڈر یعنی رہنما اور سیاستدان میں فرق کیا ھے!! لیڈر یعنی رہنما اپنے کردار سے ثابت کرتا ھے کہ وہ لیڈر ھے اس کے کردار میں ملک و قوم کیلئے خالص خلوق، قوم کا درد، قومی خذانے کی حفاظت اور بہت احتیاط سے استعمال، ذاتی زندگی کو ملک و قوم پر فدا کرنا، نیک نیتی اور ایمانداری سے امور طے کرنا وغیرہ وغیرہ عادات میں عملی طور پر شامل ھوتی ھیں جبکہ سیاستدان نام کی طرح سیاست کرتے ہیں جس میں بھرپور طریقے سے سازش، چالاکی، جھوٹ، منافقت، اور دھوکہ دہی کیساتھ ساتھ خائن، چور اور ڈاکو و لٹیرے پن میں خود کو ڈھال کر ماہر بن جاتے ھیں اور ریاست کو دیمک کی طرح آہستہ آہستہ چاٹ چاٹ کر راکھ بنادیتے ھیں جو پاکستان میں کرتے چلے آرھے ھیں۔ ہمیں تاریخ یاد دلاتی رہتی ھے کہ سیاستدانوں سے جان چھڑا کر لیڈر کی تلاش کرو اور لیڈر کا انتخاب کرکے اسکی اطاعت کرو تاکہ وہ ریاست کی بہتری اور ملک و قوم کی خوشحالی کیلئے متحرک رھے۔ ہندوستان کا ایک بڑا نام بڑا لیڈر جس کی زندگی نہ صرف بھارتیوں کیلئے مشعل راہ ھے بلکہ پاکستانیوں کیلئے سبق آموز ھے ۔۔۔۔ معزز قارئین!! نوے برس کے ضعیف آدمی کے پاس کوئی پیسہ نہیں تھا۔ مالک مکان کو پانچ مہینے سے کرایہ بھی نہیں دے پایا تھا۔ ایک دن مالک مکان طیش میں کرایہ وصولی کرنے آیا۔ بزرگ آدمی کا سامان گھر سے باہر پھینک دیا۔ سامان بھی کیا تھا۔ ایک چار پائی، ایک پلاسٹک کی بالٹی اور چند پرانے برتن۔ پیرانہ سالی میں مبتلا شخص بیچارگی کی بھرپور تصویر بنے فٹ پاتھ پر بیٹھا تھا۔ احمدآباد شہر کے عام سے محلہ کا واقعہ ہے۔ محلے والے مل جل کر مالک مکان کے پاس گئے۔ التجا کی کہ اس بوڑھے آدمی کو واپس گھر میں رہنے کی اجازت دے دیجیے کیونکہ اس کا کوئی والی وارث نہیں ہے۔ دو ماہ میں اپنا پورا کرایہ کہیں نہ کہیں سے ادھار پکڑ کر ادا کردے گا۔ اتفاق یہ ہوا کہ ایک اخبار کا رپورٹر وہاں سے گزر رہا تھا۔ اسے نحیف اور لاچار آدمی پر بہت ترس آیا۔ تمام معاملہ کی تصاویر کھینچیں۔ ایڈیٹر کے پاس گیا کہ کیسے آج ایک مفلوک الحال بوڑھے شخص کو گھر سے نکالا گیا اور پھر محلہ داروں نے بیچ میں پڑ کر دو ماہ کا وقت لے کردیا ہے۔ ایڈیٹر نے بزرگ شخص کی تصاویر دیکھیں تو چونک اٹھا۔ رپورٹر سے پوچھا کہ کیا تم اس شخص کو جانتے ہو۔ رپورٹر ہنسنے لگا کہ ایڈیٹر صاحب۔ اس بابے میں کونسی ایسی غیر معمولی بات ہے کہ کوئی بھی اس پر توجہ دے۔ اسے تو محلہ والے بھی نہیں جانتے۔ ایک وقت کا کھانا کھاتا ہے۔ برتن بھی خود دھوتا ہے۔ معمولی سے گھر میں جھاڑ پوچا بھی خود لگاتا ہے۔ اس کو کس نے جاننا ہے۔ ایڈیٹر نے حد درجہ سنجیدگی سے رپورٹر کو کہا کہ یہ ہندوستان کا دو مرتبہ وزیراعظم رہ چکا ہے اور اس کا نام گلزاری لال نندہ ہے۔ رپورٹر کا منہ حیرت سے کھلے کا کھلا رہ گیا۔ ہندوستان کا وزیراعظم اور اس بدحالی میں۔ خیر اگلے دن اخبار چھپا تو قیامت آگئی۔ لوگوں کو معلوم ہوا کہ یہ عاجز سا بوڑھا ہندوستان کا دو وبار وزیراعظم رہ چکا ہے۔ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم کو بھی معلوم ہوگیا کہ گلزاری لال کس مہیب مفلسی میں سانس لے رہا ہے۔
خبر چھپنے کے چند گھنٹوں بعد ریاست کا وزیراعلیٰ، چیف سیکریٹری اور کئی وزیر اس محلے میں پہنچ گئے۔ سب نے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ آپ کو سرکاری گھر میں منتقل کردیتے ہیں اور سرکار ماہانہ وظیفہ بھی لگادیتی ہے۔ خدارا اس معمولی سے مکان کو چھوڑیے مگر گلزاری لال نے سختی سے انکار کر دیا کہ کسی بھی طرح کی سرکاری سہولت پر اس کا کوئی حق نہیں ہے۔ وہ یہیں اسی کوارٹر میں رہے گا۔ گلزاری لال کے چند رشتہ داروں نے منت سماجت کرکے بہرحال اس بات پر آمادہ کرلیا کہ ہر ماہ پانچ سو روپے وظیفہ قبول کرلے سابقہ وزیراعظم نے حد درجہ مشکل کے بعد یہ پیسے وصول کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ اب اس قلیل سی رقم میں کرایہ اور کھانا پینا شروع ہوگیا۔
مالک مکان کو جب علم ہوا کہ اس کا کرایہ دار پورے ملک کا وزیراعظم رہ چکا ہے۔ تو گلزاری لال کے پاس آیا اور پیر پکڑ لئے کہ اسے بالکل معلوم نہیں تھا کہ اس کا کرایہ دار اس اعلیٰ ترین منصب پر فائر رہ چکا ہے۔ بوڑھے شخص نے جواب دیا کہ اسے یہ بتانے کی ضرورت ہی نہیں تھی کہ وہ کون ہے۔ وہ تو ایک معمولی سا کرایہ دار ہے اور بس۔ جب تک گلزاری لال زندہ رہا اسی مکان میں رہا اور مرتے دم تک پانچ سو روپے میں گزارا کرتا رہا۔ گلزاری لال نندہ حیرت انگیز کردار کا انسان تھا۔ سیالکوٹ میں جولائی سنہ اٹھارہ سو اٹھانوے میں پیدا ہوا اور جنوری سنہ انیس سو اٹھانوے میں احمدآباد میں فوت ہو گیا۔ جواہر لال نہرو کے انتقال کے بعد سنہ انیس سو چونسٹھ میں وزیر اعظم رہا اور سنہ انیس سو چھیاسٹھ میں لال بہادر شاستری کے انتقال کے بعد بھی اس بلند پایہ منصب پر فائز رہا۔ بنیادی طور پر ایف سی کالج لاہور سے اقتصادیات کی تعلیم حاصل کرتا رہا۔ دراصل وہ اقتصادیات کا استاد تھا۔ ممبئی اور احمدآباد کی یونیورسٹیوں میں پڑھاتا رہا۔ سیاست میں آیا تو یونین منسٹر وزیر خارجہ اور ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن بھی رہا۔ متعدد بار لوک سبھا کا ممبر بھی منتخب ہوا۔ گلزاری لال کا فلسفہ تھا کہ زندگی کو بہت سادہ گزارنا چاہئے۔ کسی شان و شوکت کے بغیر انتہائی قلیل رقم میں خوش رہنا ہی اصل امتحان ہے۔ ویسے گلزاری لال سادگی بلکہ عسرت میں رہنے کی جو مثال قائم کر گیا اس کیلئے حد درجہ مضبوط کردار کی ضرورت ہے۔ ننانوے سال کی عمر میں فوت ہوتے وقت اس کے پاس کسی قسم کی جائیداد، کوئی بینک بیلنس اور کوئی ذاتی گھر تک نہیں تھا۔ بس ایک عزت و احترام کا وہ خزانہ تھا جو امیر سے امیر لوگوں کے پاس بھی نہیں ہوتا۔ یہ حقیقت ہیکہ ہندوستان میں سیاست میں حد درجہ کرپشن ہے مگر اس کے باوجود ہمیں بار ہا بار گلزاری لال جیسے کردار مل ہی جاتے ہیں البتہ پاکستان ان جیسے باکردار سے خالی ھے۔ انڈیا میں کئی ایسے بلند سطح کے سیاستدان موجود ہیں جن کے اثاثے کچھ بھی نہیں ہیں مگر اس سطح کی سادگی کی عملی مثال ہمارے ہاں ڈھونڈنا ناممکن ہے۔ بھارت ایک غیر مسلم اسٹیٹ ھے وہ جو بھی نظام رائج کرے کوئی فرق نہیں پڑتا البتہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ھے یہ بناء نظام اسلام یعنی اسلامی صدارتی نظام کے بغیر کبھی بھی نہ ترقی کرسکتا ھے اور نہ ہی خوشحال بن سکتا ھے یہی اسباب ھیں جو آج اسلامی صدارتی نظام نہ ھونے کے سبب پیش آرھے ھیں۔ جمہوریت نے ستر سالوں سے زائد صرف ریاست پاکستان اور حکومت پاکستان کو تباہی و بربادی مہنگائی و لوٹ مار عدم انصاف و ظلم و بربریت کے سوا کچھ نہ دیا ھمیں درجنوں گندے انڈے سیاستدانوں کی شکل میں دیئے۔ زیادہ دور نہ جائیں حالیہ چند سالوں میں افغانستان میں اسلامی لیڈروں نے اسلام مخالف قوتوں سے آزادی حاصل کی ان کے لیڈروں میں سچائی ایمانداری دیانتداری سادگی خلوص نیک نیتی اور عشق رسول ﷺ کے رنگ بھرپور نظر آتے ھیں۔ لیڈر کی سب سے بڑی نشانی ان کا باکردار ھونا سادگی زندگی استوار رکھنا اور عدل و انصاف برتنا ملکی و قومی خذانے کی حفاظت کرنا اور احتیاط کیساتھ برتنا کہ اللہ کو ایک ایک پائی کا حساب دینا ھے، پاکستان میں تمام تر سیاستدان ھیں مگر افسوس ایک بھی لیڈر نہیں، شکر ھے کہ اللہ نے ھم سب پر کرم فرمایا اس فسطانیتی و دجالی دور میں ایک شچا عاشق رسول مسلمان مومن قائداعظم محمد علی جناح ؓ کا جانشین ڈاکٹر انجینئر سید صادق علی موجود ھے مگر ھماری عدلیہ اور سیاستدان اس کے علم و عمل سے خائف ھیں ڈرتے ھیں اس کی بے باکی حق و سچ گوئی پر ثابت قدمی پر اصول و قوائد کے پابند ھونے پر اللہ سے خوف رکھنے اور اسکے حبیب ﷺ و اہلِ بیت سے عشق و محبت رکھنے پر کیونکہ وہ سچا صادق الامین و مخلص وطن اور عوام کے دکھ درد کو سمجھنے والا ھے اس کے نزدیک بناء اسلام کے کوئی نظام سنبھل نہیں سکتا کھڑا نہیں ھوسکتا چل نہیں سکتا، اس کا نظریہ ھے کہ پاکستان میں قائداعظم محمد علی جناح کی وصیت تھی کہ ریاستِ پاکستان میں اسلامی صدارتی نظام رائج ھونا چاہئے لیکن نہیں ھوا اسلامی صدارتی نظام کو لازماً ھونا چاہئے کیونکہ قائداعظم ایک دوراندیش لیڈر و رہنما تھے، آپ سیاستدان نہیں تھے بلکہ آپ صرف لیڈر تھے، آپ جانتے تھے کہ سیاستدان ملک نہیں چلا سکیں گے آپ محسوس کرچکے تھے کہ ریاستِ پاکستان کی بقاء صرف اور صرف اسلامی صدارتی نظام سے جڑی ھوئی ھیں اسی لیئے قائداعظم محمد علی جناح وصیت اور فرمان اسلامی صدارتی نظام کیلئے تحریری کر گئے۔ سپریم کورٹ کا فرض ھے کہ انصاف و عدل کے تقاضہ کو بروئے کار لاتے ھوئے اس پٹیشن پر سنوائی کریں جو قائداعظم محمد علی جناح کی وصیت کے حوالے سے داخل کی گئی ھے جتنی تاخیر ھوگی اسی قدر ریاست پاکستان اور ملک و قوم کو نقصان اٹھانا پڑیگا اور یہ سب سپریم کورٹ کی مجرمانہ خاموشی تاریخ میں لکھی جائیگی۔۔۔۔!!




