اہم خبریںپنجاب

راولپنڈی : (افتخار خٹک سے رپورٹ)سینئر سول جج (کرمنل ڈویژن)راولپنڈی غلام اکبر نے سابق

راولپنڈی : (افتخار خٹک سے رپورٹ)سینئر سول جج (کرمنل ڈویژن)راولپنڈی غلام اکبر نے سابق گورنر سندھ اور سابق وزیر صحت کے خلاف محکمہ مال کے ریکارڈ میں ردوبدل اور جعلسازی کے مقدمہ میں گرفتار دونوں پٹواری ملزمان کو 2روزہ جسمانی ریمانڈ پر اینٹی کرپشن حکام کی تحویل میں دے دیا ہے عدالت نے ہدائیت کی ہے کہ 11مارچ کو دوبارہ ملزمان کو عدالت میں پیش کر کے تحقیقات میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا جائے جمعرات کے روز اینٹی کرپشن پولیس کے اسسٹنٹ سب انسپکٹرنعیم عباس نے پٹواری محمدسلیم اختر اورراجہ اشفاق پر مشتمل دونوں ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا اس موقع پر اینٹی کرپشن کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل (1)،شہزاد احمد اور اسسٹنٹ ڈائریکٹرنثار احمد جوئیہ کے علاوہ ملزمان کے وکلا راجہ گفتار احمد اور مہران چوہدری بھی موجود تھے اینٹی کرپشن نے عدالت میں دیئے گئے پرچہ ریمانڈ میں موقف اختیار کیا کہ مذکورہ ملزمان کو مقدمہ نمبر6میں گرفتار کیا گیا ہے پٹواری راجہ اشفاق نے ایک غیر قانونی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کو فردات جاری کئے گزشتہ سال10اکتوبر کو جاری کردہ فردات پر اشفاق احمد کے دستخط اور مہر موجود ہے جبکہ ان فردات سے متعلق انتقال نمبر4075بھی منظور شدہ نہ ہے اس طرح ملزم نے غیر قانونی سوسائٹی کو فائدہ پہنچانے کے لئے خلاف ریکارڈ اور غیر قانونی طور پر فرد جاری کیا جبکہ سلیم اختر نامی ملزم نے حلقہ موضع ہتھیال کے پٹواری کی حیثیت سے انتقال نمبر2883سے2888تک کے انتقالات سے قبل 30جون2019کو انتقال نمبر3037درج کیااور جس کے لئے سلیم اختر نے یہ تسلیم بھی کیا کہ مذکورہ انتقالات پر حکم امتناعی 26جولائی2019کو ختم ہوا جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سرکاری ریکارڈ میں غیر قانونی ردوبدل کیا گیا اب اشفاق پٹواری بھی اپنے دستخطوں سے انکاری ہے اور سلیم اختر بھی حقائق واضح کرنے میں لیت و لعل سے کام لے رہا ہے جس وجہ سے سرکاری ریکارڈ کی پڑتال کے ساتھ ملزمان سے ریونیو ریکارڈ کی بھی پڑتال کرنی ہے اسی طرح ملزمان سے دیگر نامزد ملزمان سے متعلق بھی پوچھ گچھ کرنی ہے لہٰذا ملزمان کا7یوم کا جسمانی ریمانڈ جاری کیا جائے اس موقع پر ملزمان کے وکلا نے موقف اختیار کیا کہ مقدمہ کے مندرجات کے مطابق سلیم اختر کا تو اس مقدمہ سے کوئی تعلق ہی نہیں بنتا نہ ہی اس کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد موجود ہیں انتقال نمبر4075کے تحت جاری فرد کو ہاؤسنگ سوسائٹی نے استعمال کیا لیکن اس میں سلیم اختر کے کردار کا کوئی تعین بھی نہیں کیا گیا راجہ گفتار ایڈووکیٹ کا موقف تھا کہ انتقال کی منظوری دینا پٹواری کا کام ہی نہیں اینٹی کرپشن اس مقدمہ کی بنیاد پر کوئی نیا مقدمہ قائم کرنا چاہتے ہیں کیونکہ اس مقدمہ میں سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل اور سابق وزیر صحت عامر محمود کیانی کو بھی نامزد کیا گیا ہے اور انہیں فکس کرنے کے لئے مذکورہ دونوں ملزمان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کر کے ان سے مرضی کے بیان دلوانے کی کوشش کی جائے گی ملزمان کے وکلا نے عدالت سے استدعا کی کہ کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں لہٰذا عدالت ملزمان کا جسمانی ریمانڈ جاری کرنے کی بجائے انہیں مقدمہ سے ڈسچارج کرے یاد رہے کہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ راولپنڈی نے 8مارچ کو اینٹی کرپشن ایکٹ کی دفعہ5/2/47کے علاوہ تعزیرات پاکستان کی دفعات 420،468،471اور409کے تحت مقدمہ درج کیا تھا مقدمہ کے متن کے مطابق شہرت خراب ہونے کے باعث عبداللہ سٹی نامی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کا نام تبدیل کر کے ایولان سٹی رکھ دیا گیا اور سادہ لوح شہریوں کوتشہیر بازی کر کے دھوکہ دہی سے لوٹنا شروع کر دیا جبکہ یہ سوسائٹی آر ڈی اے سے منظور شدہ ہے نہ ہی اسے کوئی این او سی جاری کیا گیا ہے جس کی انکوائری کے بعد پٹواری راجہ محمد اشفاق،محمد سلیم اختر،عاصم نذیر،عمران اسماعیل، عامر محمود کیانی،اس کا بیٹا فہد عامر کیانی،عباد رسول قریشی،محمود باقی مولوی،محسن حمیدی اور وقاص عزیز کا ملوث ہونا پایا گیا ہے۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You