اہم خبریںپاکستان

لیگل ایڈ سوسائٹی کے تحت اسلام آباد میں عالمی معیار کے ADR تربیتی پروگرام کا انعقاد

اسلام آباد (اسٹاف رپورٹر) لیگل ایڈ سوسائٹی اور مصالحہ انٹرنیشنل سینٹر برائے ثالثی اور تنازعات کا حل، کی جانب سےاسلام آباد میں حال ہی میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سول اور کمرشل ثالثی کے ایک تربیتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ واضح رہے کہ مزکورہ پروگرام اسلام آباد ہائی کورٹ اور فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کی پارٹنرشپ میں منعقد ہوا تھا۔

اس پروگرام کا بنیادی مقصد پیشہ وارانہ تربیت یافتہ ثالثین کاایسا گروپ (کیڈر) تیار کرنا تھا جو اسلام آباد ADR ایکٹ 2017 کے تحت تنازعات کے متبادل حل(ADR )کے زریعے تنازعات کوحل کرنے میں معاون و مددگار ثابت ہو۔

اس سلسلے میں ثالثی کی تربیت فراہم کرنے والےایک مشہور عالمی ادارے، چارٹرڈانسٹیٹیوٹ آف آربیٹریٹرز(لندن) نے اسلام آباد کے 50 بہترین وکلاء کو تربیت فراہم کی۔ یہ وکلاءاسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے نامزد کیے گئے تھے۔

تنازعات کے متبادل حل کے زریعے مختلف آئینی طور پر تسلیم شدہ وہ طریقے متعارف کروائے جا رہے ہیں جن کے ذریعے فریقین (افراد اور ادارے) بغیر کسی کورٹ کے مقدمے کے تنازعات کو حل کر سکتے ہیں۔ عام طور پرADRکےطریقوں میں ثالثی، آربیٹریشن ، مفاہمت اور غیر جانبدار تشخیص شامل ہوتے ہیں۔ یہ طریقے کم خرچ اور وقت کو بچانے والے ہیں، اور ADR کے زریعے عمل اور نتائج پر فریقین کو مزید کنٹرول فراہم ہوتا ہے ۔

پاکستان کو انصاف کی موثر فراہمی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ پاکستان بھر کے بائیس لاکھ زیرِ سماعت مقدمات کے لیے صرف 3,067 ججز ہیں، لہذااس صورتحال میں سول تنازعات کے حل کی مدت تقریباً 6 سے 10 سال تک ہو سکتی ہے۔

عدالتوں پر مقدمات کا اس قدر بوجھ نہ صرف انصاف میں تاخیر کا سبب بنتا ہے بلکہ اُس وقت میں کمی کا باعث بھی بنتا ہے جو کہ مقدمات کو حل کرنے میں درکار ہوتا ہے ۔

اس صورتحال کے ممکنہ سماجی اثرات کو محسوس کرتے ہوئے حکومت پاکستان اور عدلیہ نے ADR کو قومی ترجیح دی ہے ۔

حال ہی میں اعلان کردہ نتائج کی بنیاد پر، اسلام آباد میں ADR کے حوالے سے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ 35 CIArb سول اور کمرشل کامیاب ثالث موجود ہیں جنہوں نے "اسسمنٹ” پاس کیا ہے اور اب وہ تجارتی اور سول ثالثی کریں گے۔

دوسری جانب، 15 تربیت یافتہ ثالثی وکلاء سول، تجارتی اور خاندانی معاملات کو مناسب طور پر حل کرتے ہوئے عدالتی نظام کو خدمات اور معاونت فراہم کریں گے۔

تجارت ،بینکنگ،ٹیلی کمیونیکیشن، آئل اینڈ گیس، پراپرٹی، کارپوریٹ، اور ایمپلائمنٹ کیسز کے حوالے سے 50 تربیت یافتہ ثالث اب MICADR کی تسلیم شدہ ثالثی ٹیم کا حصہ ہیں جو بالآخر اسلام آباد ADR لینڈ سکیپ کا حصہ بن گئے ہیں۔

مقدمات کے بر وقت اور سستے حل کے لیے اب عدالتیں زیرِ سماعت مقدمات ثالثین کو بھیج سکیں گی اور فریقین براہ راست بھی ان ثالثین کی خدمات کو حاصل کر سکیں گے۔

یہ اسلام آباد میں LAS کی کوششوں سے بنائے گئے (ADR) پریکٹیشنرز کے سب سے بڑے گروہوں میں سے ایک ہے جن کو عدلیہ ایک اعلیٰ اور معاون نظام کو فروغ دیتے ہوئے مقدمات کو عدالتوں کے ذریعے ریفر کرے گی جیسا کہ تنازعات کے متبادل حل کے ایکٹ، 2017 میں موجود ہے۔ (ADR کا 2017 کا ایکٹ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ اسلام آباد میں ADR ادارہ جاتی بنیادوں پر کام کر رہا ہے)

اسلام آباد اور سندھ کے مختلف اضلاع میں ADR کو فروغ دینے کے لیے LAS نے اس طرح کے تربیتی پروگراموں کا ماضی میں بھی کامیابی سے انعقاد کیا ہے اور ADR پریکٹیشنرز کی دستیابی کو بھی یقینی بنایا ہے جنہوں نے زیرِ سماعت مقدمات کے بیک لاگ کو کم کرنے میں مدد دی ہے۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You