کالم/مضامین

کانپتےجسموں کےلیےراحت کاساماں کیجیئے، لیگل ایڈ سوسائٹی کادل کھول کرساتھ دیجیئے

ابھی خُشک بھی نہ ہوئے تھے وہ اشک
جو سیلاب سے آئے تھے آنکھوں میں
کانپتے جسموں کی بےبسی نے،
پھر سے ہمیں روُلا دیا

گُزری ہی تھی قیامت ضعیفوں، جوانوں پر ابھی ابھی
سرد موسم نے غریبوں کو،
اک اور امتحاں میں ڈال دیا

بڑے تو بڑے ہیں، کچھ دن صبر کرجائیں گے
کم سن وجود سردی کی
بھلا کیسے تاب لا پائیں گے
پھولوں کی مانند بہت سے بچے
بن کِھلے ہی مُرجھا جائیں گے

شب بھر کُھلے آسماں تلے
دیکھ کر پریشاں خلق کو
چاند، ستارے مانگتے ہیں، اپنے خالق سے دعا اس طرح
کہ پلکوں کے جھپکتے ہی طلوع آفتاب ہو
اے قادرِ مطلق ۔ ۔ ۔ گھٹ جائے، اسقدر ہمارا دوراں

چاند، ستاروں کی دیکھا دیکھی
چلو ہم بھی اُنکا ساتھ دیں
گرم کپڑوں، شالوں، لحافوں سے
ٹھٹرتے جسموں کو جلدی ڈھانپ دیں!!

(کاشف شمیم صدیقی)

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You