کالم/مضامین

عنوان: سچ کبھی چھپتا نہیں ۔۔!!

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: سچ کبھی چھپتا نہیں ۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

اپنے آج کے کالم کیلئے جن ذرائع کا سہارا لینا پڑا ان میں جہاں ماضی کے اخبارات و جرائد اور تراشے شامل ھیں وہیں کئی رائٹرز کی کتب سے بھی مدد حاصل گئیں ان میں ایس ایم ظفر کی کتاب ڈکٹیٹر کون۔۔حسن محمود کی کتاب میرا سیاسی سفر۔۔ابراھیم جلیس کی کتاب فاطمہ جناح۔۔ظفرانصاری کی کتاب مادر ملت۔۔ وکیل انجم کی کتاب فاطمہ جناح حیات و خدمات۔ شامل ھیں۔معززقارئین!! پاکستانی تاریخ کے مطالعہ کے بعد میں بار ہا بار لکھ چکا ھوں کہ موجودہ جمہوری نظام ملک و قوم کو تباہی کے آخری دھانے تک پہنچا کر ملک و قوم کو نا تلافی نقصان سے دوچار کردیگا جس کی سزا ھماری کئی نسلیں بھگتیں گیں۔آج اگر پاکستان پر نظر دوڑائیں تو واضع طور پر ماضی کی شدید غلطیوں، غداروں کی مکاریوں اور شاطر، منافق کے مکروہ اعمال کی سزا ھم سب بھگت رھے ھیں، آج کی نسل ھماری تاریخ سے بیگانی ھے جو ھم سب کیلئے انتہائی خوفناک اور تشویشناک ھے۔ ماضی کی غلطیوں کو دھراتے رہنے سے نقصان در نقصان، تباہی در تباہی، بربادی در بربادی کے سوا کچھ حاصل نہیں ھوگا ۔۔۔ معزز قارئین!! کہتے ھیں کہ سچ بہت کڑوا ھوتا ھے مگر سچ سچ ھی ھوتا ھے اور سچ و حقیقت پر اللہ ساتھ ھوتا ھے اور سچ کا صلہ بھی رب العزت خود دیتا ھے کیونکہ سچ سے شیطان ابلیس ملعون کو شدید تکلیف پہنچتی ھے اسی لیئے شیطان سچ کو چھپانے پوشیدہ رکھنے اور دنیا کو غافل رکھنے کیلئے حضرت انسان سے قتل، بربریت، ظلم و تشدد اور سنگین جرم کروا بیٹھتا ھے اور حضرت انسان کو انتہائی نیچے اخلاقی طور پر بھی گرا دیتا ھے جہاں انسانیت بھی شرما جاتی ھے یاد رھے کہ اللہ نے پوری کائنات کی مخلوق بشمول ملائکہ و فرشتے ان سب سے بلند انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ھے اور بڑے بڑے اعزاز سے نوازا ھے۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! پاکستان میں پہلی دھاندلی سنہ انیس سو پینسٹھ عیسوی کے صدارتی الیکشن میں فوج، بیورو کریٹس، پیروں اور وڈیروں کے گٹھ جوڑ سے ہوئی جس کے بعد حق و سچ کا ساتھ دینے والے کتنے ہی لوگ جنہوں نے پاکستان کیلئے سب کچھ قربان کردیا تھا غدار کہلائے اور کیسے کیسے لوگ معتبر بن بیٹھے۔ فساد کی ماں سنہ انیس سو پینسٹھ عیسوی کے صدارتی الیکشن پر اب کوئی بات بھی نہیں کرتا اور نہ ان کے بارے میں کچھ لکھا جاتا ہے کہ نئی نسل کو آگہی ہو کہ کیسے اس الیکشن نے پاکستان کی تباہی کی بنیاد رکھی، کیسے اس نے پاکستان کو دولخت کرنے میں جلتی پر تیل کا کردار ادا کیا اور باقی ماندہ پاکستان پر اک ایسی رجیم مسلّط کردی جس نے یہاں کبھی جمہوریت کو پنپنے ہی نہیں دیا۔ سنہ انیس سو پینسٹھ عیسوی کےصدارتی الیکشن میں پہلی دھاندلی خود فیلڈ مارشل ایوب خان نے کی جو پہلےالیکشن بالغ رائے دہی کی بنیاد پر کروانے کا اعلان کرکے مُکر گئے۔ یہ اعلان نو اکتوبر سنہ انیس سو چونسٹھ عیسوی کو ہوا مگر مادر ملت فاطمہ جناح کے امیدوار بننے اور ایوب خان کے خلاف میدان میں اترنے کے بعد یہ اعلان صدرِ پاکستان کا نہیں ایوب خان کا انفرادی ‏اعلان ٹھہرا اور سازش کےتحت یہ ذمہداری حبیب اللہ خان پر ڈالی گئی یہ پاکستان کی پہلی پری پول دھاندلی تھی۔ کابینہ اجلاس میں تو وزراء نے خوشامد کی انتہا کردی حبیب اللّہ خان نے فاطمہ جناح کو ایبڈو کرنے کی تجویز دی، اگر یہ تجویز منظور کرکے مس فاطمہ جناح کو غدّار قرار دے دیا جاتا تو پاکستان کی تاریخ کا بھیانک سانحہ ہوتا۔وحید خان نے جو وزیر اطلاعات اور کنویشن لیگ کے جنرل سیکرٹری تھے۔ تجویز دی کہ ایوب ‏کو تاحیات صدر قرار دینے کیلئے ترمیم کی جائے۔ ایوب خان کے منہ بولے بیٹے ذوالفقار علی بھٹو نے مس جناح کو بڑھیا اور ضدی کے القابات سے نوازا۔ دوسری طرف جماعت اسلامی کے مولانا ابو الاعلی مودودی، سندھ سے جی ایم سید اور صوبہ سرحد سے خان عبدالغفار خان نے جبکہ مشرقی پاکستان سے شیخ مجیب نے کھل کر فاطمہ جناح کی حمایت کی۔ پنجاب کے تمام سجادہ نشینوں نے سوائے پیر مکھڈ صفی الدین کے فاطمہ جناح کےخلاف فتویٰ دیا۔ ایوب خان کی انتظامی مشینری نے دھاندلی کا منصوبہ ترتیب دیا اور الیکشن تین طریقوں سے لڑنے کا فیصلہ کیا اول مذھبی سطح پر کیا گیا جس کے انچارج پیر آف دیول شریف تھے جنہوں نے مس جناح کے خلاف فتوے نکلوائے۔ دوئم انتظامی سطح پر کیا گیا چونکہ باسٹھ کے آئین کے تحت ایوب خان کو یہ سہولت میسر تھی کہ وہ تب تک صدر رہ سکتے تھے جب تک انکا جانشین نہ منتخب ہوجائے لہٰذا ایک حاضر سروس طاقتور صدر کے حق میں پوری سرکاری مشینری استعمال کی گئی۔ جسکا نتیجہ یہ ہیکہ آج بھی الیکشن سرکاری ملازمین کے دباؤ سے جیتے جاتے ہیں۔ تیسری سطح پر
مس جناح کےحامیوں پر جھوٹے مقدمات درج کئے گئے۔ عدالتوں سے ‏ان کے خلاف فیصلے لئے گئے اور یہی عدلیہ کے تابوت میں پہلی اور آخری کیل ثابت ہوئی جو آج تک ٹھکی ھوئی ہے۔ سندھ کے تمام جاگیردار گھرانے ایوب خان کیساتھ ھوگئے بھٹو فیملی، جتوئی فیملی، محمد خان جونیجو فیملی، ٹھٹھہ کے شیرازی، خان گڑھ کے مہر نوابشاہ کے سادات، بھر چونڈی، رانی پور، ہالا کے اکثر پیران کرام، ایوب خان کیساتھ تھے۔ سوائے کراچی میں گہری جڑیں رکھنےوالی جماعت اسلامی، اندرون سندھ کے جی ایم سید حیدرآباد کے تالپور برادران، بدین کے فاضل راہو اور رسول بخش پلیجو مس جناح کے حامی تھے۔ تاریخ کا جبر دیکھیں یہی لوگ بعد میں پاکستان کے غدار بھی ٹہراےُ گئے۔ پنجاب کے تمام گدّی نشین اور صاحب زادگان و سجادہ نشین سوائے پیر مکھڈ صفی الدین باقی سب ایوب خان کیساتھ ھوگئے تھے۔ سیال شریف کے پیروں نے تو فاطمہ جناح کیخلاف فتوی بھی دیا تھا۔ پیر آف دیول نے داتا دربار پر مراقبہ کیا اور فرمایا کہ داتا صاحب نے حکم دیا ہے ایوب خان کو کامیاب کیا جائے ‏ورنہ خدا پاکستان سے خفا ہو جائیگا۔ آلو مہار شریف کے صاحبزادہ فیض الحسن نے عورت کے حاکم ہونے کے خلاف فتوی جاری کیا مولانا عبدالحامد بدایونی صدر جمعیت علماء پاکستان نے فاطمہ جناح کی نامزدگی کو شریعت سے مذاق اور ناجائز قرار دیا۔ مولانا حامد سعید کاظمی کے والد علامہ احمد سعید کاظمی نے ‏ایوب خان کو ملت اسلامیہ کی آبرو قرار دیا یہ وہ لوگ تھے جو دین کےخادم ہیں۔ لاھور کے میاں معراج الدین نے فاطمہ جناح کیخلاف جلسہ منعقد کیا جس سے مرکزی خطاب عبدالغفار پاشا اور وزیر بنیادی جمہوریت نے خطاب کیا۔ معراج الدین نے فاطمہ جناح پر اخلاقی بددیانتی کا الزام لگایا موصوف موجودہ بیمار ‏وزیر صحت یاسمین راشد کے سسر تھے۔
گجرانوالہ کے غلام دستگیر نے مس جناح کی تصویریں کتیا کے گلے میں ڈال کر پورے گجرانوالہ میں جلوس نکالے۔ میانوالی کی ضلع کونسل نے فاطمہ جناح کیخلاف قرار داد منظور کی۔ مولانا غلام غوث ہزاروی سابق ناظم اعلیٰ مجلس احرار اور مرکزی رہنماء جمعیت علمائے اسلام ‏نے کھل کر ایوب خان کی حمایت کا اعلان کیا اور دعا بھی کی۔ پیر آف زکوڑی نے فاطمہ جناح کی نامزدگی کواسلام سے مذاق قرار دیکر عوامی لیگ سے استعفی دیا اور ایوب کی حمایت کا اعلان کیا۔ دوسری طرف جماعت اسلامی کے امیر مولانا سید ابو الاعلی مودودی کا ایک جملہ زبان زد عام ہوگیا ۔ایوب خان میں ‏اس کے سوا کوئی خوبی نہیں کہ وہ مرد ہیں اور فاطمہ جناح میں اس کے سوا کوئی کمی نہیں کہ وہ عورت ہیں۔ بلوچستان میں مری سرداروں اور جعفر جمالی ظفر اللہ جمالی کے والد صاحب کو چھوڑ کر سب فاطمہ جناح کے خلاف تھے۔ قاضی محمد عیسٰی جسٹس فائز عیسٰی کے والد مسلم لیگ کا بڑا نام ‏بھی فاطمہ جناح کے مخالف اور ایوب خان کے حامی تھے۔ انہوں نے کوئٹہ میں ایوب خان کی مہم چلائی حسن محمود نےپنجاب اور سندھ کے روحانی خانوادوں کو ایوب کی حمایت پر راضی کیا۔ پورا مشرقی پاکستان غدار ٹہرا کہ وہ سب مس جناح کیساتھ تھے خطۂ پوٹھوہار کے تمام بڑے گھرانے اور سیاسی لوگ ایوب خان کیساتھ تھے۔ بریگیڈئر سلطان والد چودھری نثار، ملک اکرم دادا امین اسلم، ملکان کھنڈا، کوٹ فتح خان، پنڈی گھیب اور تلہ گنگ ایوب کیساتھ تھے اس کی وجہ یہاں کے سب لوگ فوج سے وابستہ تھے سوائے چودھری امیر اورملک نواب خان کے جن کو الیکشن کے دو دن بعد قتل کردیا گیا تھا شیخ مسعود صادق نے ایوب خان کیلئے وکلاء ‏کی حمایت کا سلسلہ شروع کیا کئی لوگوں نے انکی حمایت کی، پنڈی سے راجہ ظفر الحق بھی ان میں شامل تھے اس کے علاوہ میاں اشرف گلزار بھی فاطمہ جناح کے مخالفین میں شامل تھے۔ صدارتی الیکشن سنہ انیس سو پینسٹھ عیسوی کے دوران گورنر امیر محمد خان صرف چند لوگوں سے پریشان تھے ان میں سر فہرست سید ابو الاعلی مودودی، شوکت حیات، خواجہ صفدر والد خواجہ آصف چودھری احسن والد اعتزاز احسن، خواجہ رفیق والد سعد رفیق، کرنل عابد امام والد عابدہ حسین اور علی احمد تالپور شامل تھے یہ لوگ آخری وقت تک فاطمہ جناح کیساتھ رہےصدارتی الیکشن کے دوران فاصمہ جناح پر پاکسان توڑنے کا الزام بھی لگا یہ الزام زیڈ اے سلہری نے ‏اپنی ایک رپورٹ میں لگایا جسمیں مس جناح کی بھارتی سفیر سے ملاقات کا حوالہ دياگیا تھا یہ بیان کہ قائد اعظم تقسیم کیخلاف تھے یہ وہی تقسیم تھی جس کا پھل کھانے کیلئے آج سب اکٹھے ہوئے تھے یہ اخبار ہر جلسے میں لہرایا گیا۔ ایوب اس کو لہرا لہرا کر مس جناح کو غدار کہتے رہے۔ پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللّہ جیسی نظم لکھنے والے اصغر سودائی ایوب خان کے قصیدے اور ترانے لکھتے تھے اوکاڑہ کے ایک شاعر ظفر اقبال نے چاپلوسی کے ریکارڈ توڑ ڈالے یہ وہی ظفر اقبال ہیں جو بعد میں اپنے کالموں میں سیاسی راہنماؤں کا مذاق اڑاتے رہے۔ سرور انبالوی و دیگر کئی شعراء اسی کام میں مصروف تھے دوسری طرف حبیب جالب، ‏ابراھیم جلیس میاں بشیر فاطمہ جناح کے جلسوں کے شاعر تھے۔ جالب نے ان جلسوں سے اپنے کلام میں شہرت حاصل کی۔ میانوالی جلسے کے دوران جب گورنر امیر خان کے غنڈوں نے فائرنگ کی تو فاطمہ جناح ڈٹ کر کھڑی ہوگئیں اسی حملے کی یادگار۔۔بچوں پہ چلی گولی ماں دیکھ کے یہ بولی نظم ہے۔ فیض احمد فیض خاموش حمائتی تھے۔ چاغی، لورالائی، سبی، ژوب، مالاکنڈ، باجوڑ، دیر، سوات، سیدو، خیرپور، نوشکی، دالبندین، ڈیرہ بگٹی، ہرنائی، مستونگ، چمن، سبز باغ سے فاطمہ جناح کو کوئی ووٹ نہیں ملا۔ سارا اردو اسپیکنگ طبقہ جو جماعت اسلامی کی طاقت تھا فاطمہ جناح کی حمایت کرتا رہا ان کو کراچی سے ایک ہزار چونسٹھ ایوب خان کو آٹھ سو سینتیس ووٹ ملے۔مشرقی پاکستان مس جناح کیساتھ تھا فاطمہ جناح کو ڈھاکہ سے تین سو تریپن اور ایوب خان کو ایک سو ننانوے ووٹ ملے جس کی سزا اسٹیبلشمنٹ نے یہ دی کہ انہیں دو نمبر شہری اور پاکستان سے الگ ہونے پر مجبور کردیا گیا۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ایوب خان اور مس فاطمہ کے ووٹ برابر تھے مس جناح کے ایجنٹ ایم حمزہ تھے اور اے سی جاوید قریشی جو بعد میں چیف سیکرٹری بنے۔ مس جناح کو کم ووٹوں سے شکست اکیلی عورت فوج، بیورو کریٹ، پیروں، وڈیروں، جاگیرداروں سے مقابلہ کررہی تھی جہلم سے ایوب کے بیاسی اور مس جناح کے سرسٹھ ووٹ تھے اس الیکشن میں جہلم کے چودھری الطاف فاطمہ جناح کے حمائتی تھے مگر نواب کالاباغ کے دھمکانے کے بعد پیچھے ہٹ گئےیہاں تک کہ جہلم کے نتیجے پر دستخط کیلئے مس جناح کے پولنگ ایجنٹ گجرات سے آئے اسطرح کی دھونس اور دھاندلی عام رہی۔ اس الیکشن میں مس فاطمہ جناح نہیں ہاری بلکہ جمہوریت ہار گئی، پاکستان ہار گیا جو محبِ وطن اور جان نثار تھے غدّار ٹہرےاور اسمبلیوں اور ایوانوں سے انکا خاتمہ ہوگیا۔ ابن الوقت اور چاپلوسی کرنے والے معتبر ٹہرے اور آج بھی اسمبلیوں میں انہی ‏کی اولادیں موجود ہیں اس کے بعد پاکستان کی عوام نے کوئی نیا لیڈر پیدا نہیں کیا نہ ان حالات میں ممکن ھوسکتا ھے البتہ بہروپیئے، مداری، چالباز، جھوٹے، منافق بہت مل جائیں گے کیونکہ یہ نظام انہی کی نسلوں کا بنایا ھوا ھے اور وہی اس نظام پر قابض ھیں۔قوم کو پہلے ماضی کا مکمل مطالعہ کرنا ھوگااپنے شعور اور سیاسی بصیرت کو بیدار کرتے ھوئے خود کو پہلے بدلنا ھوگا موجودہ سیاستدانوں کے پیچھے جانے کے بجائے انہیں اپنی پیچھے دوڑنے پر مجبور کرنا ھوگا عوام کو اپنی وقعت، قدر، عزت اور مقام کا احساس ان میں پیدا کرنا ھوگا تب کہیں جا کر آپ قائد اعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کا آزاد خود مختار پاکستان حاصل کرسکیں گے جس میں نظام مصطفیٰﷺ رائج ھو اے اللہ اس قوم کو عقل سلیم عطا فرما آمین یا رب اللعالمین!!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You