کالم/مضامین

عنوان : غلامانِ مصطفیٰ ﷺ کے عاشق کی نظر سے

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان : غلامانِ مصطفیٰ ﷺ کے عاشق کی نظر سے

کالمکار: جاوید صدیقی

ھر مسلم یہ بات اچھی طرح سے جانتا ھے کہ مسجدِ نبویﷺ اور موجہ رسول ﷺ کی زمین آپ ﷺ نے مدینة المنورہ پہنچ کر دو یتیم بچوں سے خریدی یہاں تک تو ہمیں بچپن سے اسکول و مدارس اور گھروں میں پڑھایا جاتا رھا ھے لیکن اس زمینی ٹکڑے کے متعلق علماء کرام پیر عظام مفتیان کرام و مذہبی اسکالرز و ڈاکٹرز نے یہ بھی بتایا کہ آپ ﷺ کے ہجرہ مبارک سے منبرِ رسول ﷺ تک کا حصہ جنت کا ھے اور آج بھی وہاں تحریر و نشانی عائد کی ھوئی ھے۔۔۔۔ معزز قارئین!! آج آپ کی خدمت میں یہ خاکسار گناہگار لیکن غلاموں کا غلام ادنیٰ بے وقعت بے توقیر بندہ خدا بتانا چاہتا ھے کہ جب آپ ﷺ کو وہ زمین کا ٹکڑا پسند آیا جہاں کائنات کے والی سرکار کا دولت کدہ اور مسجد الحرام کا بننا مقصود تھا۔ آپ ﷺ جانتے تھے کہ ازل دنیا سے یہی ٹکڑا امانتً رکھا گیا ھے اسی لیئے اس زمینی ٹکڑے پر کبھی بھی تعمیر نہ ہوئی نہ تعمیر کا سوچا کیونکہ یہ مقدس مقام حضور کائنات ﷺ کیلئے اللہ نے جنت سے اتارا تھا۔ ھمارے بزرگ اکثر کسی کی موت کی خبر سنتے تو وہ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ کہنے کے بعد کہا کرتے تھے پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا۔ آپ ﷺ کو اللہ نے بشری لبادہ میں پیدا کیا تھا آپ ﷺ کے نور کا عالم اور مقام خود اللہ تبارک تعالیٰ نے شب معراج کو عرش پر جسم و روح کیساتھ مدعو کیا جہاں فرشتوں کے سردار کا نور بھی جل جاتا ھے اس سے بڑھ کر کوئی دلیل ثبوت نہیں کہ آپ ﷺ نورِ مجسم ھیں۔ دوسرا یہ کہ جب حضورِ کائنات آخرالزمان محمد مصطفیٰ ﷺ نے یتیم بچوں سے زمین خریدی تھی تو اس کا رقبہ بھی صرف اتنا تھا جتنا جنتی ٹکڑا ھے اور کچھ تھوڑا اور۔ اصحاب صوفہ کا چبوترا اس وقت مسجد و حجرہ سے باھر تھا۔ وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ ھوتا گیا اب مسجد نبوی آپ ﷺ کے زمانے کا مکمل مدینة المنورہ اندر سمٹ گیا ھے۔ نور والے کیلئے جنتی ٹکڑا رکھا گیا تھا اگر دلوں پر مہر لگی ھوگی تو وہ کبھی بھی اس حقیقت کو تسلیم نہیں کریں گے کیونکہ آپ ﷺ کے زمانے میں ابوجہل کے دل پر بھی مہر لگی ھوئی تھی اور آج بھی کچھ ایسے ہیں لیکن غلام اور عاشقین آپ ﷺ کی عظمت و مقام سے جھومتے اور ناز کرتے پھرتے رہتے ھیں۔دعا ھے اللہ مجھے اور آپ سب قارئین کو آخری نبی ﷺ کا غلام اور عاشق بنائے رکھے۔۔۔۔!!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You