وہ دور ختم ھوا جب اس ملک میں آئین و قانون کی پاسداری ھوا کرتی تھی اور آئین میں قرآن

وہ دور ختم ھوا جب اس ملک میں آئین و قانون کی پاسداری ھوا کرتی تھی اور آئین میں قرآن و حدیث کے چند ایک اصول وضع کیئے تھے پھر وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ ظالم و جابروں اور جاہلوں نے آہستہ آہستہ آئین پاکستان دستور پاکستان سے دین محمد ﷺ کی روح فنا کردی اب یہ آئین صرف ایک تماشا اور مزاق بن کر رہ گیا ھے اگر پاکستان کو بچانا ھے تو فوری شرعی آئین نافذ کردیا جائے نظام مصطفیٰ کا اجراء کردیا جائے وگرنہ بربادی تباہی ھمارا مقدر ٹھہرے گی۔ اس وقت جب ھمارے محافظ ھمارے نگہبان پولیس اہلکار و افسران جرائم پیشہ عناصروں کی غلامی کا طوغ پہن لیں ھیں اور قاضی یعنی عدالتوں کے ججز نے عدل و انصاف سے عاری ھوگئے ھیں تو اب اس ملک میں امن و امان اور انصاف تلاش کرنا احمقانہ سوچ اور بیوقوفانہ حرکت ھوگی۔ پاکستان میں اس وقت صرف طاقت کو طاقت سے کچلا جاسکتا ھے غریب امیر کمزور کا اس عمل سے تعلق نہیں کوئی ظالم ظلم کرے تو فوری حکمت عملی سے جواب دیدو جب تک ظالم ذبح نہیں ھوگا وہ اسی طرح ظلم کے خنجر چلاتا رہیگا کیونکہ اب پاکستان فروخت ھوچکا ھے ظالموں قاتلوں لٹیروں بدمعاشوں رہزنوں جاہلوں منافقوں موقع پرستوں عیاشیوں کنجروں کنجریوں طوائفوں بھڑوں اور غدار وطنوں کے ہاتھوں اور ان کے ہاتھ بھی جو دین کودرہم و دینار میں بیچتے ھیں۔ اب اس کا کوئی ولی وارث نہیں کیونکہ ہر ایک نے ریاست کو اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کو مزاق بناکر رکھ دیا ھے۔ کئی اینکرز جو صحافی ہرگز نہیں خود ساختہ صحافی بن کر میڈیا مالکان کے اشاروں پر رقص کرکے ملک میں انتشار فتنہ فسادات کی فضا قائم کرنے میں مجرمانہ کردار ادا کرتے ھیں اور کچھ جعلی صحافی بنکر بلیک میلنگ کرکے شعبہ صحافت پر داغ لگانے کی کوشش کرتے ھیں یہ ملک بندروں اور لنگوروںکے ہاتھ لگتا چلا آرھا ھے ھر بندر اپنی اپنی باری میں ستیاناس کرنے میں پیچھے نہیں جب تک ان بندروں اور لنگوروں کا وقت ختم نہیں کرتے یہ لشکر بندروں اور لنگوروں کا اس سر زمیں کو پاش پاش کردے گا کوئی غیبی مدد ہر گز نہیں آئیگی اگر اس قوم نے غیرت اور ایمان کو نہیں تھاما تو یہ قوم بھی نہیں رہ سکے گی فیصلہ اب عوام کا ھے کہ چار دن کی چاندنی پھر انھیری رات یعنی شیطانی و ابلیسی راہ پر چلے تو چار دن کی چاندنی ھوگی پھر ہمیشہ کیلئے رات ادھیرا اور اگر سچائی ایمان اخوت کی راہ پر چلیں گے تو ہمیشہ نصرت و رحمت نصیب ھوگی یاد رکھئے یہ صدی پندرہ ویں صدی ھے قدم بہت احتیاط سے رکھنا ھے کسی بھی شکل کسی بھی صورت کسی بھی انداز میں شیطان ابلیس اور دجال اس کے چیلے حملے کرتے رھیں گے ان سے بچت صرف ایمان اور سچائی سے ممکن ھے۔ دعا ھے اللہ پاکستان اور پاکستانی قوم کی حفاظت فرمائے آمین
جاوید صدیقی جرنلسٹ و کالمکار کراچی


