وہ ماحول لوٹا دو مجھے پلیز۔۔۔۔!!

وہ ماحول لوٹا دو مجھے پلیز۔۔۔۔!!
وہ سردیوں کی صبح تھی پہلا پریڈ انگریزی کا اور کچھ کام رہ گیا انتہائی ٹھنڈے ہاتھوں پر سخت ڈنڈے کی چوٹ سے کئی منٹ تک درد کی شدت رہتی تھی اور ہاتھ لرز جاتا تھا وہ پٹائی اور سختی ھم شاگردوں کو لائق اور اچھا انسان بنانے کیلئے تھی۔ وہ استاد اپنے منصب کو عبادت کی طرح ادا کرتے تھے نیک نیتی سچائی ایمانداری عزت نفس اور شرافت کیساتھ حسن ظن و حسن سلوک پنہاں تھا اور آج وہ ماحول ہی ختم ھوگیا اسی لئے نہ وہ استاد رھا اور نہ ہی شاگرد ھمیں واپس اپنے اسی ماحول کی جانب جانا پڑیگا کیونکہ وہ ماحول مذہب اسلام اور ایمان میں رنگا ھوا تھا ممکن ھے کئی دوست میرے اس موقف سے اختلاف کریں لیکن میرا موقف اور تحقیق نجانے کیوں مجھے درست کہتا ھے۔ بس اب میں حالات کو دیکھ کر نہایت افسردہ اور غمگین ھوجاتا ھوں دعا کرتا ھوں کہ اللہ ھمیں نافع عمل سے نوازے جو تیرے عبادت سے منسلک ھو آمین یا رب اللعالمین۔۔۔۔
جاوید صدیقی جرنلسٹ و کالمکار کراچی



