
راولپنڈی : ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی جاوید اقبال سپرا نے سینٹرل جیل اڈیالہ میں ڈکیتی و قتل کے مقدمہ میں نامزد ملزم کو جنسی ہراساں کرنے، تشدد کا نشانہ بنانے اور70دن تک ٹارچر سیل میں بند رکھنے پرڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل اور ہیڈ وارڈر سمیت دیگر کے خلاف مقدمہ کے اندراج کے لئے دائر درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کر تے ہوئے 14نومبر کو جواب طلب کر لیا ہے عبدالواجد سکنہ آزاد کشمیر نے سٹی پولیس افسر (سی پی او)راولپنڈی تھانہ صدر بیرونی کی چوکی اڈیالہ کے انچارج کو فریق بناتے ہوئے ضابطہ فوجداری کی دفعہ22-Aکے تحت مقدمہ کے اندراج کے لئے درخواست دائر کی تھی سید علی طیب کاظمی ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ درخواست گزار تھانہ نیوٹاؤن میں 22فروری 2020کو تعزیرات پاکستان کی دفعات 392،302اور411کے تحت درج مقدمہ نمبر514میں نامزد ملزم اور سینٹرل جیل اڈیالہ کا حوالاتی ہے جس کا مقدمہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد وارث جاوید کی عدالت میں زیر سماعت ہے درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ اقبال نامی جیل کا ہیڈ وارڈراپنی جنسی خواہشات کی تکمیل کے لئے اسے جیل میں مسلسل جنسی ہراساں اور بلیک میل کرتا تھا جس پر درخواست گزار نے اس کی بات ماننے سے انکار کے بعد جب جیل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اکرم بٹ کواسکی شکائیت کی تو ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نے بھی نہ تو اس کے خلاف کوئی کاروائی کی اور نہ ہی کوئی انکوائری کروائی جس پرہیڈ وارڈر اقبال نے سزا کے طور پر اس پرجیل میں ذہنی وجسمانی تشدد کیاجس پر درخواست گزار کی استدعا پر عدالت میں درخواست گزار کی پشت پر تشدد کے نشانات بھی دیکھے گئے اور درخواست گزارنے طبی معائنے اورعلاج معالجے کے لئے متعلقہ ٹرائل کورٹ میں درخواست دائر کی جس کے بعد ہیڈ وارڈر اقبال نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سے مل کر جیل نگران اکرام اور شاہزیب کے ذریعے دوبارہ تشدد کا نشانہ بنایا اور غیر قانونی طور پر اس ٹارچر سیل(ایچ ایس بی) میں بند کر دیاجہاں دہشت گردو ں کو رکھا جاتا ہے اس طرح درخواست گزار کو70دن تک غیر قانونی طور پر ٹارچر سیل میں قید تنہائی میں رکھا گیا اس دوران ہیڈ وارڈر اقبال اسے سیل میں بھی جنسی طور پر ہراساں کرتا رہا اور دھمکی دی کہ اگر اس نے اس کی خواہش پوری نہ کی تو وہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سے مل کر اسے کسی دوسری جیل میں منتقل کروا دے گااس طرح رواں سال28مئی کو اس نے بدنیتی کے ساتھ 92گرام چرس برآمدگی کے الزام میں اس وقت درخواست گزار کے خلاف اینٹی نارکوٹکس ایکٹ1997کی دفعہ9-Bکے تحت ایک نیا مقدمہ درج کروا دیا جب درخواست گزار پولیس حراست میں عدالت میں زیر سماعت اپنے مقدمہ کی تاریخ پیشی کے بعد جیل پہنچا اس طرح درخواست گزار نے متعلقہ ٹرائل کورٹ میں ایک درخواست دائر کی جس پر عدالت نے جیل سپرنٹنڈنٹ کو ہدائیت کی کہ درخواست گزارکوڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے ذریعے طبی معائنہ کروا کے رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے جبکہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ میں تشدد بھی ثابت ہو گیا تھا جس پر عدالت نے پولیس کو تشدد اور جنسی ہراساں کرنے پر قانونی کاروائی کا حکم دیا تھا اس طرح عدالت نے سی پی او راولپنڈی کو ہدائیت کی کہ وہ قانون کے مطابق درخواست پر کاروائی کریں جس پر سی پی او کی جانب سے مقرر کردہ پولیس افسر نے جیل میں آکر درخواست گزار کا بیان تو ریکارڈ کیا ہیڈ وارڈر سمیت کسی کے خلاف تاحال کوئی قانونی کاروائی نہیں کی گئی درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ پولیس کو حکم دیا جائے کہ جیل میں اس ساری صورتحال کے ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔
رپورٹ : افتخار خٹک سے



