پنجاب

راولپنڈی : ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج راولپنڈی محمد افضل مجوکہ نے امریکی نژاد

راولپنڈی : ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج راولپنڈی محمد افضل مجوکہ نے امریکی نژاد خاتون وجیہہ فاروق سواتی کے اغوا و قتل کے مقدمہ میں استغاثہ کے اہم ترین گواہ مقدمہ کے تفتیشی ”ایچ آئی یو“ڈیپارٹمنٹ کے سب انسپکٹرغلام مرتضیٰ پر جرح کے دوران عدالتی وقت ختم ہونے کے باعث سماعت29اگست تک ملتوی کر دی ہے ہفتہ کے روز سماعت کے موقع پر مقدمہ کے مرکزی ملزم رضوان حبیب، اس کا والد حریت اللہ ڈرائیور سلطان احمداور گھریلو ملازمہ زاہدہ یوسف اس کے شوہریوسف مسیح کو پولیس حراست میں عدالت میں پیش کیا گیا جبکہ ضمانت پر رہا شریک ملزم رشید احمد بھی عدالت میں موجود تھااس موقع پرملزمان کے وکیل نے سب انسپکٹر غلام مرتضیٰ پر جرح کا آغاز کیا قبل ازیں غلام مرتضیٰ نے عدالت کے روبرو شہادت قلمبند کرواتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ سال26دسمبر کو تھانہ مورگاہ میں اس کی تعیناتی ہوئی اور اسی روز وجیہہ سواتی قتل کیس کی تحقیقات اسے سونپی گئیں اس وقت مقدمہ کا مرکزی ملزم و مقتولہ کا شوہر رضوان حبیب، اس کا والد حریت اللہ اور ان کا ڈرائیور سلطان جسمانی ریمانڈ پر تھے 27دسمبر کو تحقیقات کے آغاز پر میں ملزم رضوان حبیب کو اس کے گھر واقع ڈی ایچ اے لے کر گیا جہاں پر کرائم سین کا مشاہدہ کرنے کے ساتھ موقع سے کچھ شواہد اکٹھے کئے اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ161کے تحت ملزم کا بیان ریکارڈ کیا 28دسمبر کی صبح تھانے سے سی ایم او کے تصدیق اور پیک شدہ 6باکس کے علاوہ پی ایف ایس اے کے 3سیل بند پیکٹ اور محرر مالخانہ کے5سیل بند پیکٹ وصول کئے جس کے بعد تینوں ملزمان کو سرکاری گاڑی پر لاہور پنجاب فرانزک لیب لے کر گیا اس دوران مقتولہ کی بہن آمنہ فاروق سواتی کو بھی دی این اے کے لئے لاہور بلوایا 29دسمبر کو تینوں ملزمان کوجسمانی ریمانڈ کے لئے علاقہ مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا اسی روزڈرافٹسمین خرم شہزاد کو پولیس اہلکاروں کے ہمراہ رضوان حبیب کے گھر لے کر گیاجس کے بعد مقتولہ کے سسر حریت اللہ کی اہلیہ نیاز آمنہ کے گھر لکی مروت (پیزو)گئے پھر مقتولہ کے شوہر و مرکزی ملزم سے قتل میں استعمال ہونے والی چھری، مقتولہ کا ہینڈ بیگ،موبائل فون اور جیکٹ کی برآمدگی کے لئے ملزم کے گھر ڈی ایچ اے گئے جہاں سے ملزم نے پھولدار پودوں اور کمپیوٹر کے سامان کے نزدیک چھپائی گئی چھری برآمد کروائی اسی طرح ملزم نے مختلف جگہوں سے مقتولہ کا ہینڈ بیگ،موبائل فون اور جیکٹ بھی برآمد کروائی اس طرح واپس پہنچ کر میں نے تمام اشیا محرر مالخانہ کے پاس جمع کروائیں 31دسمبر کو تینوں ملزمان سے تحقیقات کا آغاز کیا اس دوران طلب کرنے پر مرکزی ملزم کے ذاتی ملازمین زاہدہ یوسف، اس کا شوہر یوسف مسیح اور رشید بھی وہاں آگئے جہاں پر ان تینوں کی گرفتاری بھی عمل میں لائی گئی دوران تفتیش رشید نے اقرار کیا کہ وہ رضوان حبیب کے گھر سے فون برآمد کروا سکتا ہے زاہدہ یوسف نے بتایا کہ وہ واردات میں استعمال ہونے والے تکئے برآمد کروا سکتی ہے جبکہ یوسف مسیح نے بتایا کہ وہ سواں نالے میں اس جگہ کی نشاندہی کروائے گا جہاں پر مقتولہ کے جوتے پھینکے گئے اور پھر رشید نے گھر کی بیسمنٹ سے مقتولہ کا 4لالاکھ روپے مالیت کا فون،زاہدہ رشید نے رضوان حبیب کے رہائشی کمرے کی الماری سے2تکئے برآمد کروائے جس کے بعد خاتون ملزمہ کو ویمن پولیس سٹیشن اور دیگر ملزمان کو تھانہ سول لائن میں بند کیا گیا بعد ازاں مرکزی ملزم رضوان حبیب نے اذان رینٹ اے کار خیابان سرسید سے ہنڈا کار نمبر اے ڈی ٹی 938برآمد کروائی جس کے بعد میں نے مجاز عدالت سے تمام 6ملزمان کامزید3یوم جسمانی ریمانڈ حاصل کیا اور زاہدہ یوسف کو ویمن پولیس سٹیشن جبکہ باقی ملزمان کو تھانہ سول لائن میں چھوڑا جس کے بعد میں نے تمام ملزمان سے الگ الگ تحقیقات کیں جس میں رشید احمد نے بتایا کہ رضوان حبیب نے27اکتوبرکو اسے ڈی وی آر سسٹم دیا کہ اسے سواں نالے میں پھینک دو اور اس طرح رشید احمد نے ایک نجی ہاؤسنگ سواسئٹی مین سواں نالے پر واقع پل سے اس جگہ کی نشاندہی کی جہاں اس نے ڈی وی آر پھینکی تھی اس کے بعد میں نے رواں سال 4جنوری کو تمام ملزمان کے روبرو عدالت میں پیش کیا جہاں سے انہیں جوڈیشل لاک اپ میں بھجوا دیا گیا پھر 5جنوری کو ڈرافٹسمین خرم شہزاد نے سائٹ پلان مجھے دیا اور میں نے اس کا بیان ریکارڈ کیا اس کے بعد 10جنوری کو میں نے سی پی او آفس سے ایک ڈاکٹ تیار کی اور ایف آئی سے سے استدعا کی کہ مجھے ایان خان کی ٹریول ہسٹری فراہم کی جائے پھر میں رضوان حبیب کے 2موبائل فون وصول کئے جن میں ایک سے مقتولہ کا اور دسرا حریت اللہ کا تھا 18جنوری کو یو بی ایل پشاور سے مقتولہ وجیہ سواتی کی 10صفحات پر اور اور ملزم رضوان حبیب کی 25صفحات پر مشتمل بنک اکاؤنٹس کی تفصیلات حاصل کیں اسی طرح ویڈیو لنک کے ذریعے وجیہہ سواتی کی بہن فائزہ سواتی اوربھانجے ایان خان کے بیان ریکارڈ کئے اس طرح تحقیقات مکمل ہونے کے بعد رپورٹ مرتب کی غلام مرتضیٰ پر جرح جاری تھی کہ عدالتی وقت ختم ہونے کے باعث سماعت 29اگست تک ملتوی کر دی گئی یاد رہے کہ تھانہ مورگاہ پولیس نے وجیہہ سواتی کے اغوا کے الزام میں رواں سال 2نومبرکومغویہ کے بیٹے عبداللہ مہدی کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی دفعات365 کے تحت مقدمہ نمبر577درج کیا تھا جس میں الزام تھا کہ اس کی والدہ اپنے بھانجے کے ساتھ 16اکتوبر کو فلائیٹ نمبر BA-0261کے ذریعے برطانیہ سے پاکستان آئی جبکہ انہوں نے 22اکتوبر کو فلائیٹ نمبرBA-0260 سے واپس جانا تھا ایف آئی آرکے مطابق اس کی والدہ اور ان کے2مزید بچے سب امریکی شہریت کے حامل ہیں اور والد کی وفات کے بعد سے امریکہ میں ہی مقیم ہیں جبکہ اس کی والدہ اپنے سابقہ شوہر رضوان حبیب سے جائیداد کے معاملات سلجھانے کے لئے پاکستان آئی تھیں لیکن رضوان حبیب نے انہیں جائیدا دکی خاطر اغوا کیا اور بعد ازاں 17اکتوبرکو قتل کر دیاتھااس مقدمہ میں 5 ملزمان قیداور1 ملزم ضمانت پر ہے۔

راولپنڈی(افتخار خٹک سے رپورٹ)

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You