عنوان: گورنر آف اسٹیٹ بینک افغانستان

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: گورنر آف اسٹیٹ بینک افغانستان۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
پاکستان کی سیاسی عدم استحکام اور سربراہوں کی غیر سنجیدگی کی وجہ سے ایک جانب مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی تو دوسری جانب امریکی کرنسی ڈالر بلند ھونے سے رک نہیں رہا بظاہر خبروں کی زینت بنے والے موجودہ حکمران اور انکے وزراء ڈالر پر گرفت کرنے کا عندیہ دیتے رہے ہیں مگر حقیقت بالکل برعکس ھوتی جارہی ھے۔ اسی پریشانی کو ھم نے اپنے دوست سے بھی اظہار کیا تو انھوں نے ہمیں ہمارے پڑوسی ملک افغانستان کا ایک حقیقی واقعہ بیان کیا کہ بالکل بلکہ اس سے بدتر حالت وہاں کی تھی تو انھوں نے کس طرح ڈالر کو مستحکم کیا ذرا ان ہی کی زبانی سنتے ہیں وہ مجھے بتاتے ہیں کہ آج سے تقریباً دو ماہ قبل افغانستان میں ڈالر چھہتر افغانی کا تھا۔طالبان کی پیشقدمی کے دنوں میں ڈالر ایک سو چھ افغانی تک جا پہنچا۔ طالبان کیلئے بڑھتا ڈالر روکنا ظاھری بات ھے مشکل تھا پھر ایک شام ایک ملا کو اسٹیٹ بینک کا گورنر بنا دیا گیا۔ اس نے اسی شام بینک کے ملازمین اور افسروں کو بلوایا میٹنگ روم میں جہاں سب افسران ان کے آنے کے منتظر تھے۔ کچھ دیر بعد ایک دیہاتی شکل والا ملا نمودار ھوا وضح قطع نہایت رعب دار تھی۔ افسران سے مخاطب ھوا "میرے بھاٸیو ۔۔!!” مجھے ضرب تقسیم، جمع، تفریق، زرمبادلہ، درآمدات، برآمدات کا کچھ پتا نہیں میرا بس کہنا یہ ھے کہ ڈالر کو نیچے لیکر آو بس۔۔۔!! ورنہ یہ سب ھمارے لیئے اچھا نہیں ھو گا۔ آپ کی کسی بات کو سمجھنا میرے بس کی بات نہیں۔ آپ جاسکتے ھو وہ مڑا اور دوسرے دروزے سے باھر نکل گیا۔افسران ایک دوسرے کا منہ تکتے رہ گئے۔ ایک بولا اپنی جان کی امان دیکھتے ھوۓ۔ ھمیں کچھ کرنا ھو گا ورنہ ورنہ اپ سن چکے ھیں۔
آفیسر باھر آئے اور آکر اسی شام اعلان ھوا ڈالر اٹھاسی افغانی کا ملے گا۔ اگلی صبح پھر اعلان ھوا ڈالر بیاسی روپے کا ھوگا۔ اب موجودہ افغانستان میں ڈالر کی حیثیت آپ معزز قارئین نیٹ پر دیکھ سکتے ہیں۔ بات یہ ھے کہ جب بڑے بڑے ذاتی مفادات خودغرض صنعتکار وزیراعظم و وزراء بنادیئے جائیں گے تو وہ صرف اپنے کاروبار اور اپنی ذات تک محدود رہیں گے یہی کچھ پاکستان میں ایک عرصہ سے ھوتا آرھا ھے سب سے بڑا مجرم زمیندار ھے جو آج تک اپنی زراعت پر ٹیکس نہیں دے رہا یہی اسمبلیوں کے ممبرز بھی ہیں اور یہی وزراء بھی بنتے چلے آرھے ہیں اب تو بیشتر جاگیردار ان سولتوں کے سبب اس قدر مالدار ھوچکے ہیں کہ انھوں نے فیکٹریوں کے جال بچھادیئے ہیں مگر ٹیکس سے مستثیٰ سارا کا سارا ٹیکس عوام بھگتے۔ عسکری قیادت کو اس بابت سنجیدگی سے سوچنا ھوگا اس ملک و قوم کی بقاء کیلئے بصورت یہ عوام مہنگائی کے بوجھ تلے مرتی چلی جائیگی اور روزِ قیامت الله کے حضور آپ بھی ان سیاستدانوں کے جرم میں ساتھ کھڑے ھونگے بہتر یہی ھے کہ الله اور اس کے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا کیلئے فی الفور "آپریشن رد المالیات” شروع کردیا جائے کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ ان سب یاستدانوں نے نیب کو اپنی لونڈی بنائے رکھا ھے جبکہ نیب احتسابی ادارہ ھے اسے آزاد خود مختار ادارہ رہنے دیا جائے تب ہی پاکستان آگے بڑھ سکے گا یاد رھے اسلام نے ہی سزا و جزا کا قانون دیا ھے الله کے ہر قانون میں بڑی حکمت پہنا ھوتی ھے۔۔۔۔۔!!



