راولپنڈی : عدالت عالیہ راولپنڈی بنچ کے جسٹس راجہ شاہد محمود عباسی نے امریکی نژاد خاتون

راولپنڈی : عدالت عالیہ راولپنڈی بنچ کے جسٹس راجہ شاہد محمود عباسی نے امریکی نژاد خاتون وجیہہ فاروق سواتی کے اغوا و قتل کے مقدمہ میں نامزدشریک ملزم و مقتولہ کے سسرکی درخواست ضمانت خارج کر دی ہے عدالت نے قرار دیا کہ جب عدالت پہلے ہی رضوان حبیب کے ملازمین کی درخواست ضمانت خارج کر چکی ہے تو ملزم کے والد کی ضمانت کیسے منظور کی جا سکتی ہے جبکہ قتل میں بیٹے کی معاونت میں والد کا کردار ملازمین سے زیادہ ہے گزشتہ روز مرکزی ملزم رضوان حبیب کے والد حریت اللہ بنگش کی درخواست ضمانت کی سماعت کے موقع پر مقتولہ کے وکیل عدیل احمد اور ملزمان کے وکیل طلعت محمود زیدی نے درخواست ضمانت پر دلائل دیئے ملزمان کے وکیل کا موقف تھا کہ اگر مرکزی ملزم رضوان حبیب کو جیل میں رکھا گیا ہے تو اس صورت میں باقی پوری فیملی کو بھی جیل میں رکھنے کا کوئی جواز نہ ہے ملزمان کے وکیل نے مزید کہا کہ چونکہ ملزم پر صرف سیکشن 201 پی پی سی کے تحت فرد جرم عائد ہوتی ہے جو قابل ضمانت ہے اس لئے درخواست گزار ضمانت کا حقدار ہے مزید یہ کہ حریت اللہ بنگش ضعیف آدمی ہے انہیں ضمانت ملنی چاہیے جبکہ مدعی کے وکیل کا موقف تھا کہ ملزم نے مقتولہ کی لاش کو 3 فٹ کے گڑھے میں پھینکنے اور اسے مٹی سے ڈھانپنے کے بعد اسے سیمنٹ کرنے کاکام کیا ملزم وجیہہ سواتی کے قتل کی پہلے سے منصوبہ بندی کرنے کے اس کے گھناؤنے جرم میں شریک ہے جبکہ ملزم کی عمر صرف 52 سال ہے جو ضعیفی کے زمرے میں نہیں آتامدعی کی وکیل کا موقف تھا کہ سیکشن 201 کے تحت محض الزام عائد کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مقدمے کے کسی بھی مرحلے پر الزام کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا قانون کو کسی بھی وقت شامل یا حذف کیا جا سکتا ہے جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اگر عدالت پہلے ہی رضوان حبیب کے ملازمین کی درخواست ضمانت خارج کر چکی ہے تو ملزم کے والد کی ضمانت کیسے منظور کی جا سکتی ہے جبکہ قتل میں بیٹے کی معاونت میں والد کا کردار ملازمین سے بڑھ کر ہے عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اگر والدین معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں تو اولاد کبھی ایسے جرائم کا تصور نہیں کر سکتی قبل ازیں جسٹس سردار احمد نعیم نے مذکورہ شریک ملزم و مقتولہ کے سسرکی درخواست ضمانت پر فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کررکھا تھا تاہم گزشتہ روز فریقین کے وکلا نے طویل دلائل دیئے جس کے بعد عدالت نے حریت اللہ بنگش کی درخواست ضمانت خارج کر دی یاد رہے کہ تھانہ مورگاہ پولیس نے وجیہہ سواتی کے اغوا کے الزام میں 2نومبر2021کومغویہ کے بیٹے عبداللہ مہدی کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی دفعات365 کے تحت مقدمہ نمبر577درج کیا تھا جس میں الزام تھا کہ اس کی والدہ اپنے بھانجے کے ساتھ 16اکتوبر کو فلائیٹ نمبر BA-0261کے ذریعے برطانیہ سے پاکستان آئی جبکہ انہوں نے 22اکتوبر کو فلائیٹ نمبرBA-0260سے واپس جانا تھا ایف آئی آرکے مطابق اس کی والدہ اپنے سابقہ شوہر رضوان حبیب سے جائیداد کے معاملات سلجھانے کے لئے پاکستان آئی تھیں لیکن رضوان حبیب نے انہیں جائیدا دکی خاطر اغوا کیا اور بعد ازاں 17اکتوبرکو قتل کر دیاتھااس مقدمہ میں 5 ملزمان قیداور1 ملزم ضمانت پر ہے۔
رپورٹ : افتخار خٹک سے



