کالم/مضامین

عنوان: آخر کب تک ۔۔۔!!

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: آخر کب تک ۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

گزشتہ روز میں نے ایک چھوٹی سی تحریر شوشل میڈیا میں شیئر کی جس میں لکھا تھا کہ ایک بار پھر یاد دلاتا چلوں کہ عوام ٹرک کی بتی کے پیچھے دوڈنا چھوڑ دیں یہ سب کے سب سیاستدان مداری ہیں عوام کو اپنے سیاسی کرتب میں الجھا کر رکھے ھوئے ہیں جب یہ زیادہ پئی لیتے ہیں تو زیادہ بہک جاتے ہیں یقینأ یہ سب قابلِ خارج ہیں۔ معزز قارئین!! میری ایک انتہائی معزز قارئیہ محترمہ معلمہ ذکیہ انیس صاحبہ نے میری اس تحریر کا جواب دیتے ھوئے کہا کہ ہماری قوم کی یہ بدنصیبی ہے کہ والدین ” سب نہیں عموماً ” دانشمند نہیں ملے، اساتذہ ” یہ بھی سب نہیں” صحیح رہبر نہیں ملے، معاشرہ خود غرض ملا اسکالرز مخلص نہیں ملے اور مذہبی راہنماؤں نے اپنی جانب راغب کرنے کا رویہ نہیں رکھا۔ ایسے میں قوم کو جھوٹے وعدے کرتے لیڈر نظر آئے تو اپنی اپنی فطرت کے تحت ان کی صحبتوں میں وقت گزارنے پہنچے تو جو جس فطرت کا تھا اسی کا ہو کر رہ گیا۔ ہماری قوم لیڈر کے پاس بھی اپنی تسکین کیلئے جارہی ہے وطن سے محبت ہو تو لیڈر کیلئے نہیں وطن کیلئے کچھ کریں اور وطن کیلئے وہی فائدہ مند ہے جو اپنے دین، اپنے گھر، اپنے والدین اور خود اپنے لئے فائدہ مند ہے۔ ہم ہجوم ہیں۔ قوم نہیں قوم بننے کا آغاز ہمیں گھر سے کرنا ہوگا۔ ہر فرد اپنے گھر میں عظمت دین، حب الوطنی، سچائی، دیانتداری، قناعت، صبر اور شکر کی فضاء پیدا کریں تو قوم بنتی ہے اور جہاں ماں باپ جھوٹ بولنے کی ترغیب دیں، اساتذہ نقل کرانے پر آمادہ ہو جائیں، معاشرہ پیسے والوں کو اہمیت دے، میڈیا تہذیب و تمدن کی دھجیاں اڑانے لگے، اینکرز کی زبان لفافے کے وزن کے مطابق بدلتی رہے تو وہاں ایسے ہی لیڈر اور حکمران آئیں گے جو آرہے ہیں۔ انہیں بدلنا ہے تو ہم سب کو بدلنا پڑے گا۔۔۔ معزز قارئین!! اب وقت کا تقاضہ ھے کہ ھم پاکستانیوں میں مزید وقت ضائع کیئے بغیر اسلام کے بنیادی اصولوں پر لازم و ملزوم پابند ھونا پڑیگا جس میں سچائی ایمانداری دیانت اور ایثار و قربانی شامل ھے۔ قومیں ہی رہبر منتخب کرتی ہیں جب نیک مہذب باادب باشعور قوم بن جائیں گے تو انتخاب بھی ایسا ہی شفاف کرسکیں گے اکثر و بیشتر لوگوں سے کہتے سنا ھے کہ ووٹ کیا دیں ووٹ خود بخود ڈل جاتا ھے اور یہ بھی کہتے سنا ھے کہ نتیجہ بدل جاتا ھے فرض کیا کہ ایسا ہی ھوتا ھے تو کیا اس غلط ناانصاف عمل کو روکا نہیں جانا چاہئے ظاہر ھے لازم تو پھر ہر ایک اپنے ووٹ اور شعور کو سمجھے خود پر مکمل اعتماد سیکھیں کسی کی بات یا خواب میں ہرگز نہ آئیں زمینی حقائق مشاہدے اور اپنے تجربات کے بعد مستند نتیجہ پر پہنچیں فیصلہ کریں تو اٹل رہیں یہی کامیاب قوموں کی نشانی ہوتی ھے اور بہترین فیصلہ کرنے والی ہی قوم بہترین رہبر و حکمران منتخب کرتے ہیں یقیناً آنے والا الیکشن عوامی شعور کی عکاسی کریگا انشاءاللہ۔!!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You