
راولپنڈی : ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی صاحبزادہ نقیب شہزاد نے امریکی نژاد خاتون وجیہہ فاروق سواتی کے اغوا میں اس کے سابق لیگل ایڈوائزر کی ضمانت قبل از گرفتاری 50ہزار روپے کے مچلکوں پرمنظور کرتے ہوئے فریقین کے وکلا کے دلائل کے لئے سماعت 28دسمبر تک ملتوی کر دی ہے جبکہ درخواست گزار کے وکیل نے گزشتہ روز اپنا وکالت نامہ بھی داخل کرا دیامغویہ کے لیگل ایڈوائزرسید قمر علی شاہ نے چوہدری ایم فرخ جاوید اور محمد علی حسنین کے ذریعے عدالت میں دائر پٹیشن میں موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار ایک وکیل ہے اور بطور وکیل پریکٹس کرتا ہے درخواست گزار کو مقامی پولیس قربانی کا بکرا بنا کر ایک ایسے کیس میں بے بنیاد ملوث کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس سے اس کا کوئی تعلق نہ ہے اس مقصد کے لئے متعلقہ پولیس اسے گرفتار کرنے کے لئے چھاپے مار رہی ہے اور ہراساں کر رہی ہے حالانکہ درخواست گزار نہ تو اس مقدمہ میں نامزد ہے اور نہ ہی اسے کسی انکوائری کے لئے بلایا گیا ہے اس طرح اس واقعہ میں کوئی شہادت نہ ہونے کے باوجود پولیس اس کیس کو درخواست گزار سے منسوب کرنا چاہتی ہے درخواست گزار ایک باعزت شہری ہے جس کے خلاف کبھی کوئی کرمنل کیس نہیں ہے لیکن پولیس نہ جانے کس رنجش اور دشمنی کی بنا پر اسے مقدمہ میں ملوث کرنا چاہتی ہے جبکہ درخواست گزار اس حوالے کسی بھی قسم کی تحقیقات میں پولیس کے سامنے پیش ہونے کو تیار ہے لہٰذا درخواست گزار کی عبوری ضمانت منظور کر کے پولیس کو گرفتاری اور چھاپوں سے روکا جائے یاد رہے کہ قبل ازیں سید قمر علی شاہ کی جانب سے عدالت میں دائر ایک الگ درخواست میں موقف اختیار کیا گیاتھا کہ مقامی پولیس نے اس کے2موبائل فون (OPPO-F3اورآئی فون)کے علاوہ سکیورٹی کیمروں کی ڈی وی آر بھی قبضہ میں لے رکھی ہے جس کے لئے پولیس نے نہ تو کوئی رسید جاری کی اور اور نہ قبضہ میں لی جانے والی چیزوں کو پولیس ریکارڈ کا حصہ بنایا عدالت کے استفسارپر کمرہ عدالت میں موجود مقدمہ کے تفتیشی نے تسلیم کیا کہ موبائل فونز اور ڈی وی آر تحقیقات کی غرض سے قبضہ میں لی گئی ہیں اور وہ باضابطہ طور پر تحقیقات کا حصہ ہیں تفتیشی افسر نے بتایا کہ قبضہ میں لئے گئے فون اور ڈی وی آرمقامی پولیس کی آئی ٹی برانچ کی تحویل میں ہیں اور ان اشیا کو بلاتاخیر ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا ہے اور قوی امکان ہے کہ اس سے تحقیقات میں کافی مدد ملے گی گزشتہ روز عبوری ضمانت کی درخواست کی ابتدائی سماعت کے موقع پر درخواست گزار کے وکلا نے وکالت نامے جمع کروائے اس دوران درخواست گزار سید قمر علی شاہ نے عدالت کو بتایا کہ وہ ہری پور کا رہنے والا ہے پیشے کے اعتبار سے وکیل ہے اور ہری پور میں ہی پریکٹس کرتا ہے درخواست گزار کا موقف تھا کہ چونکہ وہ مغویہ کا لیگل ایڈوائزر تھا اس لئے ضرورت کے وقت مغویہ اس سے رابطہ کرتی تھی یاد رہے کہ تھانہ مورگاہ پولیس نے وجیہہ سواتی کے اغوا کے الزام میں رواں سال 2نومبرکومغویہ کے بیٹے عبداللہ مہدی کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ365 کے تحت مقدمہ نمبر577درج کیا تھا جس میں الزام تھا کہ اس کی والدہ اپنے بھانجے کے ساتھ 16اکتوبر کو فلائیٹ نمبر BA-0261کے ذریعے برطانیہ سے پاکستان آئی جبکہ انہوں نے 22اکتوبر کو فلائیٹ نمبرBA-0260سے واپس جانا تھا ایف آئی آرکے مطابق اس کی والدہ اور ان کے2مزید بچے سب امریکی شہریت کے ھامل ہیں اور والد کی وفات کے بعد سے امریکہ میں ہی مقیم ہیں جبکہ اس کی والدہ اپنے سابقہ شوہر رضوان حبیب سے جائیداد کے معاملات سلجھانے کے لئے پاکستان آئی تھیں لیکن رضوان حبیب نے انہیں جائیدا کی خاطر اغوا کیا ہے یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مورگاہ پولیس نے مقدمہ میں نامزدمغویہ کے سابق شوہر حبیب رضوان کو عدالت میں پیش کر کے پہلے ہی4روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر رکھاہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



