کالم/مضامین

16دسمبر ۔۔۔ اسکول جاتے ایک بچے کا پہلا دن

دسمبر ۔۔۔ اسکول جاتے ایک بچے کا پہلا دن!

ادا نماز کر کے فجر کی

گئی نظر جو اُسکے چہرے پر

لگا،، سویا ساری رات ہو

وہ فرشتوں کے پہرے پر

وہ معصوم تھا

اکلوتا بھی،،

تھا، اسکول کا اُسکا پہلا دن

وہ ماں کی مانگی

ایک منت تھا

اور باپ کا تھا

رات اور دن!

چہرے پر اسکے نور تھا

وہ تیار ،،

اسکول کے لیے ہوا

پھر دل ماں کا

نہ جانے کیوں

اُسے روکنے کو

مجبور ہوا

پر جانا تھا اُس نے

دور بہت

سو وہ وہاں ۔۔۔ چلا گیا ،،

گزرتے لمحے ۔۔۔

بڑھتی دھڑکنیں

بے چین نگاہیں ۔۔۔

گھبراتی سانسیں

سنائی دُور سے

دیتا کچھ شور

دروازے پر ہوتی

وہ دستک بہت زور

ہو رہاتھا اُس دن جو سب

کہاں عموم تھا!

کھولا دروازہ ماں نے ،،

تو دیکھا

بکھرا تھا ٹکروں میں

جو زیرِ کفن،،

وہ اُسکا ہی معصوم تھا!

***

کاشف شمیم صدیقی

نظم
شاعر ِامن
کاشف شمیم صدیقی
اسکول جاتے ایک بچے کا پہلا دن

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You