اہم خبریںکرائمز

راولپنڈی : ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی مسعود اختر کیانی نے مبینہ طور پر ایس

راولپنڈی : ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی مسعود اختر کیانی نے مبینہ طور پرایس ایچ او پیرودھائی کے بھتیجے سے جھگڑا کرنے کے مقدمہ میں نامزد3کمسن بھائیوں سمیت4 بچوں کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کرلی ہے اور5نومبرکو مقدمہ کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے پولیس کو ہدائیت کی ہے کہ بچوں کو گرفتار نہ کیا جائے تھانہ ایئر پورٹ پولیس نے چوہدری محمد جواد کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 341اور354کے تحت مقدمہ نمبر1667درج کیا تھا جس میں الزام تھا کہ9سالہ ابراہیم بابر،12سالہ عبدالرحمان بابراور 15سالہ حسین بابرنے 16سالہ نعمان کے ساتھ مل کر اس کے بھتیجے شاویز افضال کو اس وقت روک لیا جب وہ قریبی دکان پر سودا سلف لینے گیا اس دوران چاروں نے اسے ڈنڈے، لاتوں اور مکوں سے تشدد کا نشانہ بنایا گھر قریب ہونے کی وجہ سے درخواست گزار کی ہمشیرہ موقع پر پہنچی تو اس دوران تینوں بھائیوں کی والدہ بھی نکل آئی جس نے میری ہمشیرہ کو بھی گالم گلوچ کیا مقدمہ کے متن کے مطابق مذکورہ چاروں بچے پہلے بھی درخواست گزار کے بھتیجے کو چھیڑتے تھے جس سے متعلق ان کے والدین کو پہلے بھی آگاہ کیا تھا عدالت سے ضمانت کے بعد ملزمان بچوں نے میڈیا کو بتایا کہ 9سالہ ابراہیم کا گلی میں سائیکل چلاتے ہوئے شاویز سے جھگڑا ہو گیا جس پر شاویز کے اہل خانہ نے موقع پر آکر بھی شور ہنگامہ کیابچوں کے مطابق شاویز اکثر بچوں سے جھگڑا کرتا ہے اور پھر دھمکیاں دیتا ہے کہ میرے چاچو ایس ایچ او ہیں میں تمہیں دیکھ لوں گا جبکہ بچوں کے والد نے بتایا کہ وقوعہ کے وقت وہ روزگار کے سلسلے میں کراچی میں تھا کہ لڑکے کے چچا جو کہ ایس یچ او تھانہ پیرودھائی چوہدری اویس کا سگا بھائی ہے نے مجھے کال کر کے کہا کہ تم اپنے بچوں کو سمجھاؤ گے یامیں اپنے طریقے سے سمجھاؤں جس پر میں نے اسے کہا کہ بچوں کا معاملہ ہے میں واپسی پر دیکھ لیتا ہوں لیکن اس نے دھمکیاں دینا شروع کر دیں اور میرے کم سن بچوں پر خواتین کے کپڑے پھاڑنے کے الزام میں مقدمہ درج کرادیاجس کے لئے ہم سی پی او راولپنڈی کے سامنے بھی پیش ہوئے لیکن کوئی دادرسی نہیں ہو ئی۔

رپورٹ:افتخار خٹک راولپنڈی

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You