جمعیت طلبہ عربیہ کا ”بیداری طلبہ و توسیع دعوت مہم“ کا اعلان

جمعیت طلبہ عربیہ کا ”بیداری طلبہ و توسیع دعوت مہم“ کا اعلان
پہلے مرحلے میں دعوتی وفود،دوسرے میں ملاقاتیں جبکہ تیسرے مرحلے میں مظاہرے ہوں گے
حکومت مدارس کے طلباء کی اسنادسے طبقاتی نظام ختم اوروظائف واسکالر شپ کا انتظام کرے
منتظم صوبہ جمعیت طلبہ عربیہ پنجاب شمالی مولانا محمد ارشد گوندل نے اسلام آباد میں اجلاس سے خطاب
منڈی بہاوالدین(محمد زاہد خورشید) منتظم جمعیت طلبہ عربیہ منڈی بہاوالدین کہ جمعیت طلبہ عربیہ نے ماہ اکتوبرمیں ”بیداری طلبہ و توسیع دعوت مہم“ کا اعلان کر دیا، مہم کو تین حصوں میں تقسیم کیاگیا ہے پہلے مرحلہ میں پریس کانفرنسز،ایک لاکھ پمفلٹ کی تقسیم،خطبات جمعہ و تبلیغی وفود کے ذریعے سے آگاہی دی جائے گی اور نمایا ں مقامات پر فلیکس آویزاں کئے جائیں گے،دوسرے مرحلہ میں وزارت تعلیم کو خطوط اور اتحاد تنظیمات مدارس سمیت حکومتی وزراء سے ملاقاتیں کی جائیں گی جبکہ تیسرے مرحلہ ملک بھر میں ریلیاں اور مظاہرے کئے جائیں گے۔ان خیالات کا اظہار منتظم صوبہ جمعیت طلبہ پنجاب شمالی مولانا ارشد گوندل نے صوبائی نظم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیااس موقع پر ان کے ہمراہ ڈپٹی سیکرٹری جنرل عبد المجید اور بلال شان موجود تھے،منتظم صوبہ نے کہا کہ اس مہم کے ذریعے سے درجہ ذیل مطالبات کومنوانے کی جد وجہد کی جائیں گی، مدارس کی اسناد کے حوالے سے رائج طبقاتی نظام ختم کیاجائے، مدارس کی اسناد کو مساوی کے بجائے دیگر تعلیمی اسناد کی طرح مستقل حیثیت دی جائے،وقف ایکٹ میں بیان کردہ مدارس کے حوالے سے پالیسی کو واپس لیا جائے، مدارس کے حوالے سے پالیسی اختیار کرتے وقت طلبہ مدارس کو اعتماد میں لیاجائے،تعلیمی بجٹ میں مدارس کے لئے حصہ مختص کی جائے، مدارس کے طلبہ کے لئے وظائف واسکالر شپ کا انتظام کیاجائے۔انہوں نے مزید کہا کہ طلبہ کسی بھی قوم کا مستقبل سنوارنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ پاکستان میں نوجوانوں اور طلباء کی بڑی تعداد موجود ہے۔ لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ پاکستان میں نظام تعلیم کئی حصوں میں تقسیم ہے۔مدارس کے اسناد کو ابھی تک قانونی حیثیت حاصل نہیں ہوسکی۔ ہائر ایجوکیشن سے مساوی حیثیت صرف اعلیٰ تعلیم کے حصول میں مدد گار تو ہوسکتی ہے لیکن یہ مدارس کی سند کو گرانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ یکطرفہ تماشا یہ ہے کہ ایک طرف حکمران وقت کا یہ رویہ اور دوسری طرف مدارس کے تعلیمی بورڈز کی غفلت یا مسلکی تعصب کی بنا پر بھی طلباء اپنے حقوق کیلئے کوئی منظم جدوجہد نہیں کر سکتے ہیں۔ یہ اور اس سے متعلقہ دوسرے حقوق کے حصول کیلئے ضروری ہے کہ مدارس کے طلباء کو بیدار کیاجائے، انہیں یہ باور کرایا جائے کہ وہ بھی اس ملک کے شہری ہیں یہ نظام بھی ایک نظام تعلیم ہے۔ طلباء کی بیداری کی صورت میں تمام مطالبات طلباء کی قوت سے حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ اسی سلسلے میں بیداری طلبہ مہم کا فیصلہ کیا گیا ہے۔



