أج ایک ایسے گاوں کے بارے میں لکھنے لگے ہوں جو اس جدید دور میں بھی پتھر والے زمانے کی زندگی

میں أج ایک ایسے گاوں کے بارے میں لکھنے لگے ہوں جو اس جدید دور میں بھی پتھر والے زمانے کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے یہ گاوں تحصيل سوہاوہ سے تقریبا 20 سے 25 کلو میٹر دور نیلی والے پہاڑ کے ساتھ ہے اس گاوں کا نام ڈھوک کنڈ داخلی سگیال یونين کونسل پھلڑے سیداں ہے اس گاوں میں سید اور بکروال گجر خاندان موجود ہیں سید جو ہیں وہ شاہ سفیر سے ہیں اور بکروال مقامی ہیں لیکن سید جو خاندان ہیں ان کے بھی أباٶاجاد کی جگہ ہے اس گاوں میں أج تک گورنمنٹ کی طرف سے ایک روپيہ بھی نہ خرچ ہو سکہ اس گاوں کی نہ ہی کوٸی روڈ نہ ہی بجلی نہ ہی پانی ہے اس گاوں کے لوگ اس جدید ترین دور میں بھی رات کو تیل والی بتی جلاتے ہیں تا کہ روشنی ہو سکے مریض کو ہسپتال لے جانے کے لیے چارپاٸی یا خچر کا استعمال کرتے ہیں اس بارے میں تھوڑا نہں بہت سوچنے کا مقام ہے
تحریر : مشرف کیانی



