عنوان:با شعور قوم کیلئے شعوری پیغام

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان:با شعور قوم کیلئے شعوری پیغام ۔۔۔!!
کسی بھی ریاست کی قوم میں شعوری لوگ لازم ھوتے ہیں یہ الگ بات ہے کہ کہیں تعداد قلیل تو کہیں کثیر پر مبنی ہوتی ھے۔ خوشحال اور ترقی یافتہ قومیں وہی ہوتی ہیں جہاں شعور اور تدبر کی کثرت ہوتی ہے اور جہاں شعور و تدبر کی کمی ہوتی ہے وہیں ان چند مدبر اور شعوری شخصیات کی دوہری اخلاقی ملکی اور قومی ذمہداری کئی گنا بڑھ جاتی ہیں انہیں ہر مشکل مراحل اور راستوں سےخندہ پیشانی کیساتھ انتہائی تحمل مزاجی اور بردباری کا مظاہرہ پیش کرتے ہوئے اپنی قوم میں شعور بیدار کرنا لازم ہوجاتا ہے اگر ایسا نہ کریں گے تو ملک و قوم اور ریاست تباہی کے دہانی پر پہنچ جاتی ھے یہاں میں ایک چھوٹا سا قصہ پیش کرکے اپنی بات مزید بڑھاؤں گا۔۔۔۔۔۔۔معزز قارئین!! پاکستان پیپلز پارٹی کا ایک جیالا کارکن شرافت شاہ عرف چاچا شَرلو نعرے لگاتے ھوئے ایک گاڑی سے ٹکرا گیا اور شدید زخمی ہو کر کومے میں چلا گیا۔ کئی سال بعد جب اسے ہوش آیا تو سیدھے اپنے پیپلز پارٹی کے محبوب لیڈر کے گھر کی جانب چل پڑا۔ وہاں گیا تو کیا دیکھتا ھےکہ عوام کا ایک سمندر امنڈ آیا ھوا ھے اور اسٹیج پر پیپلز پارٹی کی سینئر لیڈر شپ بیٹھی ہوئی ہے اور جلسہ ہورہا ہے۔ سیاسی جنون نے جوش مارا تو اسٹیج سیکریٹری کو پرچی بھیج دی کہ قربانی دینے والا کارکن حاجی شرافت شاہ آیا ھے، فوری تقریر کا موقع دو۔
سیکرٹری نے جیالے کو ڈائس پر بلالیا۔ سب سے پہلے تو جیالے شرلو شاہ نے جئے بھٹو کا نعرہ لگایا اور کہنے لگا، “بھائیوں اتنا عرصہ کومے میں رہا اور جب ہوش آیا تو پہلا خیال آیا کہ شاید میری پارٹی ختم ہوچکی ہوگی لیکن آج یہاں دیکھ کر دلی اطمینان ہوا کہ پارٹی کو کچھ نہیں ہوا اور سارے لیڈر بھی زندہ ہیں، ہمارے محترم لیڈر شاہ محمود قریشی بھی تشریف فرما ہیں، فردوس عاشق اعوان بھی، راجہ ریاض بھی، پرویز خٹک بھی ہیں، شوکت ترین اور بابر اعوان بھی مسکرا رہے ھیں اور فواد چوہدری صاحب جیسا زردای سائیں کا ترجمان تو دنیا میں کسی کے پاس ہے ہی نہیں اور کشمیر سے ہمارے جیالے بیرسٹر سلطان اور پنجاب سے نذر گوندل صاحب بھی تشریف فرما ہیں۔ بس بھائیوں، دو باتیں دل میں کانٹا بن کے چبھ سی رہی ہیں کہ ایک تو یہ کہ جھنڈے سے کالا رنگ کدھر غائب ہو گیا اور دوسرا ہمارے قائد سردار آصف علی زرداری صاحب کہیں نظر نہیں آرہے؛ میرے منہ میں خاک، کہیں وہ جمہوریت کی راہ میں شہید تو نہیں ہوگئے بینظیر بھٹو کی طرح۔۔۔۔۔؟؟ اس کے بعد جیالا اپنے شہید رہنماؤں کی یاد آتے ھی اندھا دھند نعرے لگانے لگ گیا، نعرہ بھٹو، جیئے بھٹو۔۔۔ زرداری تیرے خون سے انقلاب آئے گا۔۔۔۔۔۔زندہ ھے بھٹو، زندہ ھے۔۔۔۔۔ یہ دیکھ کر، اسٹیج سیکرٹری نے باقی لوگوں کی مدد سے جیالے کو ٹانگوں سے گھسیٹ کر نیچے پھینک دیا اور کہا: ابے او الّو کے پٹھے، بیوقوف انسان، یہ تیری پارٹی نے اپنا قائد بدل لیا ہے، اب ہم سب باجماعت عمران خان وزیراعظم مدینہ ثانی کے قافلہ میں کرپشن کے خلاف اور تبدیلی کے انقلاب کی جنگ لڑ رہے ہیں،
اور یہ پیپلز پارٹی کا نہیں،
بلکہ تحریک انصاف کا جلسہ ہے۔۔ بس جی ۔۔۔ جیالا چاچا شرلو نے یہ سنا، اور سن کر،
دوبارہ کومے میں چلا گیا۔۔۔۔معزز قارئین!! اس واقع کو بتانے کا مقصد یہی ہے کہ ہماری قوم کس قدر عقل و شعور سے نابلد ہے یہ نعروں اور بریانی کی ایک پلیٹ کو ہی اپنا مقدر سمجھتی ہے آج تک انہیں نہ تو شخص شناسی سمجھ میں نہ آئی اور نہ ہی شوچ فکر تحقیق کے دائرے سمجھے۔ ہماری قوم بنا دیکھے لال بتی کے پیچھے دوڑنے کی عادی ہوچکی ہے۔ قوم کی بے شعوری سے سب فائدہ اٹھاتے ہیں اور اٹھانا بھی چاہئے کیونکہ بزدل بے وقوف قوم کو جینے کا کوئی حق نہیں۔ آج اگر امریکہ ہو یا چین یا پھر کینیڈا کی بات کریں تو ایسے ممالک کے شہری اپنا حق جانتے ہیں اور اسی قدر اپنا رہبر بھی منتخب کرتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کی عوام زبانی جمع خرچ کو نہیں بلکہ عملی جامع کارکردگی کی بنیاد پر انتخاب کرتی ھے۔ اگر ہم ستر سالوں کا ہی سیاسی احاطہ کریں تو ان ستر سالوں میں کس کس نے اقتدار کے مزے لوٹے اور اپنے دورِ اقتدار میں عوامی فلاحی امور اور ریاستی اداروں کی اصلاحات کس حد تک کی گئی اور کتنے تناسب سے کیں۔ افسوس ہماری قوم کے ہر ووٹر کو اس بابت تحقیق کرنے کی ضرورت تھی اور ہے مگر اپنے اور اپنے ملک کی تقدیر کیلئے اپنا ووٹ مسلسل کیچڑ میں پھینکتے چلے گئے ہیں آج جو پاکستان کی حالت ہے یہ ستر سالوں سے عوام کی جاہلیت کا منہ بولتا ثبوت ہے میں دعا کرتا ہوں کہ الله پاکستانی قوم کو عقل و شعور کی دولت سے بہرہ مند فرمادے کیونکہ جاہلیت انسان تو انسان قوموں کو تباہ کردیتی ہے ہماری قوم جاہلیت کی بلندی پر پہنچ چکی ہے یہی وجہ ہے کہ ان کا انتخاب بھی جاہلیت پر چلا آرہا ہے۔ علم و شعور سے اس قوم کو دور ایک مکمل پلاننگ کے تحت کیا جارہا ہے جو پاکستان اور مذہب اسلام کے کھلے دشمن ہیں ان میں کافر و مشرکین اور خاص کر قادیانی مرتد ملحد اور لا مذہب فتنے باز شامل ہیں یہ ہماری صفوں میں کہیں لبرل کہیں کمیونسٹ تو کہیں منافقین کی روپ میں پھیلے ہوئے ہیں جان لیجئے کہ اس قوم کو مذہب اسلام سے دور کون کررہا ہے اور کون کرنا چاہتا ہے۔ یاد رہنے کی بات یہ ہے کہ اسلام دشمن عناصر بھی اسلامی لبادہ اوڑھے ہوتے ہیں ان کی پہچان ہمیں قرآن و حدیث سے حاصل ہوسکتی ہے اسی لیئے محمد مصطفیٰ کو خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم مانتے ہوئے قادیانیوں پر لعنت در لعنت اور ہر جھوٹے نبوت پر بھی لعنت ہو اور منافق فاسق پر بھی لعنت در لعنت ہو۔ قوم کو منقسم ہونے سے بچائیں اور الله کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے کیلئے جمع کریں امتِ مسلمہ دجالی فتنے میں داخل ہوچکی ہے اس سے بچاؤ عوام میں شعور اور تدبر ہی ممکن بناسکتا ہے۔ الله ہم سب کو ہدایت بخشے آمین۔
اسلام زندہ باد ۔۔۔۔ پاکستان پائندہ باد۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی



