کالم/مضامین

عنوان:ذکرِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی کے ہر لمحہ میں رکھو

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان:ذکرِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی کے ہر لمحہ میں رکھو۔۔۔!!

مجھے یاد ھے کہ جب میں بچہ ھوا کرتا تھا اپنی نوعمری زندگی سے ہی اپنی جوانی بعد شادی کے اپنے ماں باپ استاد و بزرگ اور خطیب مسجد سے اکثر و بیشتر قرآن کی تفسیر احادیث کےمفہوم اور اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعات کیساتھ ساتھ اسلامی تاریخ و اسلامی تہذیب و تمدن کے متعلق ذکر سنا کرتا تھا یا یوں سمجھئے تربیت لیا کرتا تھا اس طرح کے عوامل میں اپنے دوستوں کے ہاں بھی دیکھتا تھا گویا ھمارے پاکستانی معاشرے کا ڈھنگ اور چلن ہی ایسا بنا ھوا تھا دین سے نزدیکی اور پیار لگن کی تربیت ہمارے والدین اور سرپرستوں کا عین منشور تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اعلی درجے کے ظرف کے مالک ھوا کرتے تھے۔ بھیک یعنی گداگری سب سے زیادہ معیوب سمجھی جاتی تھی کیونکہ معاشرہ ان بھکاریوں سے تقاضہ کرتا تھا کہ یہ ظالم لوگ سفید پوش عزت نفس رکھنے والوں کا حق غضب کرتے ہیں جو انتہائی گناہِ کبیرہ ھے لیکن آج یہ انڈسٹری بن چکی ھے جو حکومت میں موجود وزرا کے توسط سے پڑوان چڑھ رہی ھے۔ دوسرا یہ کہ ھمارے زمانے میں مدارس کے علماء دین خالصتاً رضائے الہیٰ اور عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سبب خدمات میں مشغول رہتے تھے اسی لیئے بہترین تربیت یافتہ بچے دین الہیٰ سے آراستہ ھوتے تھے لیکن اب مدارس کے مہتمم و منتظم اعلیٰ صرف اور صرف دنیاوی فوائد و مرتبات میں اوندھے ھوچکے ہیں۔ موجودہ زمانے میں اکثر پڑھے لکھے فارغ التحصیل لوگ گدھے کے مانند ہیں کتابیں بیشمار لاد لیتے ہیں مگر شعور زرے برابر بھی نہیں ھوتا یوں تو کتابیں گدھا کئی کئی من لاد کر سفر کرلیتا ھے مگر وہ ہمیشہ عقل سے خالی رہتا ھے۔ اپنے گھروں، نجی محفلوں، اپنے بچوں کیساتھ ذکرِ الله اور ذکرِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ضرور بلضرور روزانہ کی بنیاد پر کیا کریں آئیں ابھی میں آپ کے ساتھ ذکرِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سجاتا ھوں۔ کتاب بکھرے موتی صفحہ نمبر 938 میں لکھا ھے کہ
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ بیٹھ کر کبھی کبھار دنیاوی باتیں اور مزاح فرمایا کرتے تھے۔ یوں بھی ہوتا کہ وہ مجلس مستقل ایک واقعہ اور قصہ بن جایا کرتی۔ ایک مرتبہ نبی کریمؐ اپنے رفقاء سیدنا حضرت ابوبکر صدیق، سیدنا حضرت عمر فاروق اور سیدنا حضرت عثمانؓ کی معیت میں سیدنا حضرت علیؓ کے گھر تشریف لے گئے۔
سیدنا حضرت علیؓ کی اہلیہ سیدہ فاطمہؓ نے شہد کا ایک پیالہ ان حضرات کی مہمان فداری کی خاطر پیش کیا۔ شہد اور خوبصورت چمکدار پیالہ۔ اتفاق سے اس پیالے میں اک بال گرگیا۔ آپؐ نے وہ پیالہ خلفائے راشدین کے سامنے رکھا اور فرمایا: آپ میں سے ہر ایک اس پیالے کے متعلق اپنی رائے پیش کرے۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیقؓ فرمانے لگے کہ میرے نزدیک مومن کا دل اس پیالے کی طرح چمکدار ہے، اور اس کے دل میں ایمان شہد سے زیادہ شیریں ہے، لیکن اس ایمان کو موت تک باحفاظت لے جانا بال سے زیادہ باریک ہے۔ سیدنا حضرت عمرؓ فرمانے لگے کہ حکومت اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے اور حکمرانی شہد سے زیادہ شیریں ہے لیکن حکومت میں عدل و انصاف کرنا بال سے زیادہ باریک ہے۔ سیدنا حضرت عثمانؓ فرمانے لگے کہ میرے نزدیک علمِ دین، اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے، اور علمِ دین سیکھنا شہد سے زیادہ میٹھا ہے لیکن اس پر عمل کرنا بال سے زیادہ باریک ہے۔ سیدنا حضرت علیؓ نے فرمایا: میرے نزدیک مہمان اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے اور اسکی مہمان نوازی شہد سے زیادہ شیریں ہے اور ان کو خوش کرنا بال سے زیادہ باریک ہے۔ سیدہ فاطمہؓ فرمانے لگیں کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اگر اجازت ہو تو میں بھی کچھ عرض کروں؟ آپؐ کے اجازت دینے پر فرمانے لگیں کہ عورت کے حق میں حیا اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے اور اسکے چہرے پر پردہ شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور غیر مرد کی اس پر نگاہ نہ پڑے یہ بال سے بھی زیادہ باریک ہے۔ کیا خوب ہی محفل تھی، جب خلفائے راشدین اپنی رائے کا اظہار کرچکے تو آپؐ کی طرف متوجہ ہوئے۔ ادھر سرکار دو عالمؐ کے لب مبارک ہے تو زبان نبوت سے یہ الفاظ مبارک نکلے کہ معرفت اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے اور معرفت الٰہی کا حاصل ہونا اس شہد سے زیادہ میٹھا ہے، اور معرفت الہٰی کے بعد اس پر عمل کرنا، بال سے زیادہ باریک ہے۔ ادھر زمین پر یہ مبارک محفل سجی تھی ادھر رب ذو الجلال سے سیدنا جبریلؑ امین بھی اجازت لے کر آپہنچے اور فرمانے لگے کہ ’’میرے نزدیک راہ خدا چمک دار سے زیادہ روشن ہے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اور اپنا مال و اپنی جان قربان کرنا شہد سے زیادہ شیریں اور اس پر استقامت بال سے زیادہ باریک ہے۔‘‘جب زمین پر سجی اس محفل میں سب اپنی رائے کا اظہار کرچکے تو سیدنا جبریل امین فرمانے لگے کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ بھی کچھ کہنا چاہتا ہے، فرمایا کہ جنت اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے اور جنت کی نعمتیں اس شہد سے زیادہ شیریں ہیں، لیکن جنت تک پہنچنے کیلئے پل صراط سے گزرنا بال سے زیادہ باریک ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! بلاشبہ یہ مجلس بھی مبارک اور ہر ایک کی گفتگو بھی مبارک، اس مجلس میں جہاں آقائے نامدار حضور کائنات خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم تھے وہیں صحابہ کرام و اجمعین بھی موجود تھے، آپ کی یہ مجلس اور اس میں ہونے والی گفتگو ہم سب کیلیے مشعل راہ ہے۔ آج ھم اپنی نسلوں گھروں اور دوستوں کی محفلوں میں ذکرِ رسول و ذکرِ اہلبیت سجاتے رہیں تو کوئی شک نہیں ھمارا پاکستانی معاشرہ دنیا بھر میں بہترین معاشرہ کہلائے گا اس کیلئے ھمیں خلوص نیک نیتی اور ایمانی دولت کیساتھ مقدس و معتبر محافل ایوانوں اور عسکری میٹنگ میں بھی دوہرانی چاہئے کیونکہ ھم سب مسلمان اور غلامِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You