
جہلم : ماں کا دودھ بچے کا پہلا حق ہے۔ ماں کے دودھ کی افادیت و اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے آئی آر ایم این سی ایچ پروگرام کے تحت ہفتہ گلوبل بریسٹ فیڈنگ ویک 23 اگست تا 28 اگست تک منایا جا رہا ہے جِس میں عوام کو ماں کے دودھ کے حوالے سے آگاہی دی جائے گی۔ ضلع جہلم میں گلوبل بریسٹ فیڈنگ تقریب کا افتتاح ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل عمر افتخار شیرازی، سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر وسیم اقبال اور ڈی ایچ او میاں مظہر حیات نے کیا۔ تقریب میں ڈی ایچ او (پی ایس) ، ڈی سی آئی آر ایم این سی ایچ ، پیڈز سپیشلسٹ ڈی ایچ کیو اور ڈی ایچ اے جہلم کے دیگر افسران اور اہلکار موجود تھے۔ بریسٹ فیڈنگ ویک کی افتتاحی تقریب میں سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر وسیم اقبال نے کہا کہ بچوں کے لیے ماں کا دودھ بڑی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ ماں کا دودھ ہی 5 سال سے کم عمر بچوں میں ہر سال ہونے والی تقریباً 82300 اموات روک سکتا ہے اسکی بدولت تقریبا 20 ہزار ماؤں کو بریسٹ کینسر کی وجہ سے موت کے منہ سے بچایا جا سکتا ھے۔ سی ای او ہیلتھ نے کہا کہ محتاط اندازے کے مطابق تقریباً 76 لاکھ بچے ہر سال ماں کا دودھ پینے سے محروم رہ جاتے ہیں اور سب سے اہم بات بچوں کے لیئے ماں کا دودھ فارمولا مِلک کے اضافی خرچ کی نسبت مفت میسر ہوتا ہے۔ بچوں کے لیے سب سے سستا بازاری دودھ ایک گھرانے پر تقریباً 3 لاکھ 30 ہزار سالانہ اضافی خرچ کے بوجھ کا بحث بنتا ھے۔ اسطرح بچوں کے لیے ماں کا دودھ بغیر کسی اضافی خرچ کے بچے کی بہترین نشوونما کے لیے مفت میسر ہوتا۔انہوں نے تمام افراد سے گزارش کی کہ اپنے بچوں کو دو سال تک ماں کا دودھ لازمی پلائیں کیونکہ یہ اس کا پیدائشی حق ھے اور اس طرح ماں کے دودھ کی افادیت کو اجاگر کرنے اور ماں بچے کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے اپنا فعال کردار ادا کریں۔
رپورٹ:چوہدری عابد حسین بیورو چیف جہلم



