کالم/مضامین

عنوان: ذہین عظیم لیڈر جنرل پرویز مشرف

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: ذہین عظیم لیڈر جنرل پرویز مشرف۔۔۔!!

پاکستان وہ واحد ملک ھے جس میں قابل ذہین فطین ماہر دیانتدار ایماندار بہادر جفاکش مخلص و محب وطن جرنلوں کی ایک طویل ترین فہرست ھے سوائے چند ایک کے۔ یحییٰ ایوب اور سولین مارشلا ایڈمنسٹریٹر ذوالفقار علی بھٹو جیسے نے اس ملک کو نا تلافی نقصان سے دوچار کیا یہی وجہ ھے کہ انکی باقیات بھی ڈنگ مارنے سے باز نہیں آتیں۔ اسی لیئے اس حقیقت کو جانتے ھوئے ہر جرنل نے انہیں ناپسند کیا ھے اور کرنا بھی چاہئے۔۔۔۔ معزز قارئین!! جنرل پرویز مشرف کو جب امریکی وزیرخارجہ کولن پاول نےکال کرکےافغان وار میں شمولیت کی دعوت دی اور بش کا پیغام پہنچایا کہ اگر آپ امریکہ کیساتھ نہیں تو پھر امریکہ کیخلاف تصور ہونگے جواب میں جنرل پرویز مشرف نے فوری طور پر ہاں کرکے امریکہ سمیت پوری دنیا کو حیران وششدر کردیا اور افغان وار کا حصہ بن گیا۔ مجھے یاد ہے کہ اس وقت پاکستانیوں کی اکثریت جنرل پرویز مشرف کو اس کی بزدلی پر دن میں کئی مرتبہ لعنت بھیجا کرتی تھی لیکن قوم نے کبھی جنرل پرویز مشرف کا ‘وژن’ جاننے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی کبھی مشرف نے قوم کو بتا کر اپنے آپ کو ہیرو بنانے کی کوشش کی۔ حقیقت یہ تھی کہ امریکہ نہیں چاہتا تھا کہ پاکستان افغان وار کا حصہ بنے، بلکہ وہ تو یہ چاہتا تھا کہ پاکستان انکار کرکے اپنے آپ کو طالبان کا حامی اور دہشت گردوں کی صف میں کھڑا کرلے پھر انڈیا کی طرف سے دہشت گردی کا ڈرامہ رچا کر امریکہ اور انڈیا مل کر پاکستان پر حملہ کرکے اس کے نیوکلئیر ہتھیاروں کو تباہ کردیتے اور بین الاقوامی برادری کے سامنے اسکا جواز پیش کرکے بری الذمہ ہوجاتے۔ جنرل پرویز مشرف نے یہ چال امریکہ پر ہی پلٹ دی اور یہ بات کولن پاول نے اپنی کتاب میں بھی بیان کی کہ اسے یقین نہ آیا کہ مشرف افغان وار کا حصہ بن جائے گا اور اسی لئے اسے یہ خبر رات ایک بجے صدر بش کو جگا کر سنانا پڑی۔ جنرل پرویز مشرف نے ایک طرف سے پاکستان پر ممکنہ حملے کا راستہ بند کردیا اور دوسری طرف اس نے افغان وار میں شرکت کرکے اس جنگ کو امریکہ کیلئے مشکل ترین بنا ڈالا۔ اگر آپ بھول گئے ہیں تو ذرا افغان وار شروع ہونے کے چوتھے دن کے اخبارات کا مطالعہ کریں جب طالبان اچانک مقابلہ ختم کرکے راتوں رات کہیں غائب ہوگئے۔ اس وقت امریکہ اور اتحادی فوجوں کو لگا کہ انہوں نے فتح پالی لیکن وہ سوویت یونین کی شکست بھول گئے تھے جو کہ گوریلا وار کی شکل میں اسے ملی تھی۔ جنرل پرویز مشرف امریکہ کا اتحادی بن کر دراصل طالبان کو ایک نئی قسم کی گوریلا وار کے لئے تیار کررہا تھا اور ان کا اچانک غائب ہوجانا جنرل پرویز مشرف کی ملٹری پلاننگ کا ایک اعلی شاہکار تھا پھر اس کے بعد سب ہسٹری ہے۔ آج تک امریکہ افغانستان سے باہر نہیں نکل پایا۔طالبان نے ایک ایک کرکے اسی فیصد سے زائد حصوں پر قبضہ حاصل کرلیا،امریکہ کو کئی کھرب ڈالرز کانقصان بھی پہنچایا اور ویت نام کے بعد امریکہ کو دوسری بڑی شکست سے بھی دوچار کردیا۔ ایسا نہیں کہ جنرل پرویز مشرف کو اپنی اس حکمت عملی کی کوئی قیمت نہیں چکانا پڑی۔تحریک طالبان کی شکل میں امریکہ اور بھارتی دہشت گردوں نے پاکستان کی بنیادوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ جنرل پرویز مشرف چونکہ اس وقت بیک وقت انڈیا، امریکہ سے سفارتی اور داخلی طور پر افتخار چوہدری، نوازشریف اور بینظیر سے سیاسی جنگ لڑ رہا تھا، اس لئے وہ تحریک طالبان کو مکمل طور پرٹیکل نہ کر پایا جسکے نتیجے میں دہشت گردی کا عفریت جڑ پکڑتا گیا۔ (پاکستان کے اکثریتی حلقوں کا دعویٰ اور تجزیہ ھے کہ افتخار چوہدری، نوازشریف اور بینظیر بھٹو نے اپنے اعمال اور جماعت سے ملکی سالمیت کو نقصان پہنچانے کیلئے کوئی دقیقہ نہ چھوڑا یہی وجہ ھے کہ ان تنیوں ناپسندیدہ شخصیات کی باقیات کو عوام رد کرچکی ہیں اور ان کے عزائم سمجھ چکی ہیں) ایک بات تو طے ہے کہ اگر جنرل پرویز مشرف اس وقت ہاں نہ کرتا تو اس وقت پاکستان شائد اپنا وجود بھی کھوچکا ہوتا۔
کیا جنرل پرویز مشرف غدار تھا؟ ہرگز نہیں۔ کیا مشرف بیوقوف تھا؟ ہرگز نہیں۔ آج اگر چیخیں نکل رہی ہیں تو اس کی وجہ کوئی اور نہیں بلکہ جنرل پرویز مشرف کی وہ حکمت عملی تھی جس کے سہارے اس نے امریکہ کیلئے افغانستان ایک ڈراؤنا خواب بنادیا۔ آپ آج یوٹیوب پر جنرل پرویز مشرف کے بین الاقوامی میڈیا، بالخصوص انڈیا کو دیئے گئے انٹرویوز دیکھیں جوش اور جذبے سے جنرل پرویز مشرف اکیلا ان کے تندو لڑتا ہے، اس کا ایک فیصد بھی کبھی نوازشریف اور زرداری سے نہ ہوسکا۔ جنرل پرویز مشرف عقلِ قل نہیں تھا،اس سے غلطی ہوسکتی تھی لیکن ایک بات طے ہے کہ وہ میرے اور آپ سے زیادہ محب وطن تھا اور ہے۔پاکستان کی محبت اس کی رگوں میں خون بنکر دوڑتی ہے اور یہ محبت تب تک رہے گی جب تک اس کی سانسیں چل رہی ہیں۔

جنرل پرویز مشرف وہ ہیرو ہے جس نے ملک کی خاطر اپنے آپ کو “ولن” بنانا گوارا کرلیا لیکن ملک کو بچا گیا۔ الله ھمیں ھمیشہ ایسے جنرل عطا کرتا جا جو سیاستدانوں کیطرح اپنی ذات کیلئے نہ پیدا ھوں ۔۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You