کالم/مضامین

عنوان:امتِ مسلمہ کی بیداری ناگزیر

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان:امتِ مسلمہ کی بیداری ناگزیر۔۔۔!!

آپﷺ کی یہ پیشین گوئیاں کہ قربِ قیامت لوگوں میں بصیرت اور فہم کی بڑی کمی واقع ہوگی، موجود ہیں۔ موجودہ دور نبی اکرم ﷺ کی ان احادیث کی عکاسی کرتا ہے کہ عوام اور حکمران طبقہ دونوں بصیرت سے محروم ہیں، سیدنا ابوھریرہ سے مروی ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: ’’ بادروا بالأ عمال فتنا كقطع الليل المظلم يصبح الرجل مؤ منا ويمسي كافرا ا و يمسي مو منا ويصبح كافرا يبيع دينه بعرض من الدنيا‘‘ (صحیح مسلم:118) ترجمہ : ’’ قربِ قیامت ایسا وقت آئیگا کہ ایک شخص صبح مومن ہوگا اور شام کو کافر ہوجائیگا اور شام کو مومن ہوگا اور صبح کافر ہو جائیگا۔ آدمی اپنے دین کو پیسوں کے بدلے بیچ دیگا۔ ‘‘ رسول الله ﷺ نے فرمایا: ’’ إن الله لا يقبض العلم انتزاعا ينتزعه من العباد ولكن يقبض العلم بقبض العلماء حتى إذا لم يبق عالما اتخذ الناس رءوسا جهالا فسئلوا فا فتوا بغير علم فضلوا وا ضلوا‘‘(صحیح بخاری:100صحیح مسلم: 2673) ترجمہ: ’’ علم اٹھ جائے گا اور الله تعالیٰ علم لوگوں کے سینوں سے کھینچ کر نہیں نکالےگا بلکہ علماء کے چلے جانے کیساتھ علم بھی چلا جائیگا۔ حتٰی کہ کوئی عالم باقی نہیں رہیگا اور لوگ جاہلوں کو اپنے رؤساء اور پیشوا بنالیں گے، ان سے مسائل پوچھے جائیں گے اور وہ بغیر علم کےجواب دینگے، یہ جہلاء خود بھی گمراہ ہونگے اور لوگوں کو بھی گمراہ کردینگے۔‘‘ قیامت کے قریب لوگوں کے عدمِ شعور اور اسی بنیاد پر ان کی خارجی روش کو بیان کرتے ہوئے رسول الله ﷺ نے فرمایا: ’’سيخرج في اٰ خر الزمان قوم أ حداث الأ سنان سفهاء الأ حلام يقولون من خير قول البرية يقرءون القرآ ن لا يجاوز حناجرهم يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية فإذا لقيتموهم فاقتلوهم فإن في قتلهم أ جرا لمن قتلهم عند الله يوم القيامة‘‘ ترجمہ: ’’عنقریب آخری زمانہ میں کچھ لوگ ہونگے، نو عمر اور انکے عقل والے بیوقوف ہونگے، بظاہر بات تو بہت عمدہ قسم کی کرینگے، قرآن پڑھیں گے لیکن وہ انکےحلق سے نیچے نہ اتریگا، دین سے وہ اس طرح نکل جائیں گے جیسا کہ تیر کمان سے نکل جاتا ہے جب تم ان سے ملو تو انکو قتل کردینا (یہ خطاب حکام سے ہے) کیونکہ انکو قتل کرنے والے کو الله کے ہاں قیامت کے دن ثواب ملے گا۔‘‘(صحیح مسلم: 1006) ایک اور حدیث میں مزید صراحت سے قربِ قیامت عقل وشعور کےفقدان کا ذکر کیا گیا ہے، چناچہ رسول الله ﷺ کا فرمان ہے: (قربِ قیامت ایسا دور آئیگا کہ) آدمی سوئے گا اور امانت اسکے دل سے اٹھالی جائیگی اور اسکا ایک دھندلا سانشان رہ جائیگا پھر سوئے گا تو باقی امانت بھی اسکے دل سے نکال لی جائیگی۔ تو اس کا نشان آبلہ کی طرح باقی رہیگا جیسے چنگاری کو اپنے پاؤں سے لڑھکائے اور وہ پھول جائے اور تو اسکوابھرا ہوا دیکھے حالانکہ اس میں کوئی چیز نہیں۔ حالت یہ ہوگی کہ لوگ آپس میں خرید و فروخت کرینگے، لیکن کوئی امانت ادا نہیں کریگا یہاں تک کہ کہا جائیگا کہ فلاں قبیلے میں ایک امانت دار آدمی ہے اور کسی کے متعلق کہا جائیگا کہ کس قدر عاقل ہے!کس قدر ظریف ہے! اور کس قدر شجاع ہے! حالانکہ اسکے دل میں رائی بھر بھی ایمان نہ ہوگا (راوی کہتے ہیں) اور ہم پر ایک زمانہ ایسا گزرچکا ہے کہ کسی کے ہاتھ خرید و فروخت کرنے میں کچھ پرواہ نہ ہوتی تھی۔ اگر مسلمان ہوتا تو اس کو اسلام اور نصرانی ہوتا تو اس کے مدد گار گمراہی سے باز رکھتے لیکن آجکل فلاں فلاں (یعنی خاص) لوگوں سے ہی خرید و فروخت کرتا ہوں۔ (صحیح بخاری: کتاب الرقاق، باب رفع الامانۃ)۔رسول الله ﷺ نے خبر دی کہ قربِ قیامت امانت بھی ختم ہوجائے گی اور بصیرت بھی ختم ہوجائےگی۔۔ایک روایت میں رسول الله ﷺ نے فرمایا : لا تقوم الساعة حتى يكون أسعد الناس بالدنيا لكع ابن لكع (جامع ترمذی: 2209) ترجمہ : ’’قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک دنیا میں سب سے زیادہ سعادت والا اسے نہ سمجھ لیا جائے جو کمینہ ہو اور کمینے کا بیٹا ہو۔‘‘ ایک روایت میں رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: بادروا بالموت ستاً إمرة السفهاء وكثرة الشرط وبيع الحكم واستخفافا بالدم وقطيعة الرحم ونشوا يتخذون القرآن مزامير يقدمونه يغنيهم وإن كان أقل منهم فقهاً (مسند احمد: 494/3 سلسلۃ الصحیحۃ : 979 ) ترجمہ : ’’چھ چیزوں کے ظہور سے پہلے موت کی تمنا کرو، بیوقوفوں کی امارت، پولیس کا زیادہ ہونا، فیصلے کا بیچنا، انسانی خون کو ہلکا سمجھ لینا، قطع تعلقی کا عام ہونا اور ایسے لوگوں کو (منبر و اسٹیج وغیرہ پر زیادہ بڑے عالم دین کے موجود ہونے کے باوجود ) آگے کرنا تاکہ وہ گا گا کر قرآن سنائیں، حالانکہ وہ علم میں کم ہونگے۔‘‘ ایک روایت میں رسول اکرم ﷺ نے امارتِ سفھاء سے پناہ مانگی ،چنانچہ جابر بن عبدالله رضی الله عنہ سے مروی ہے رسول الله ﷺ نے کعب بن عجرہ سے فرمایا:
اعاذك الله من إمارة السفهاء۔ قال: وما إمارة السفهاء؟ قال: ا مراء يكونون بعدي لا يقتدون بهديي ولا يستنون بسنتي فمن صدقهم بكذبهم وا عانهم على ظلمهم فا ولئك ليسوا مني ولست منهم ولا يردوا علي حوضي (صحیح ابن حبان:4514، مسند بزار:1609 ) ترجمہ :’’ الله تعالیٰ تجھے بیوقوفوں کی امارت سے بچائے۔ کعب بن عجرۃ رضی الله عنہ نے پوچھا : بیوقوفوں کی امارت کیا ہے؟ فرمایا: میرے بعد ایسے امراء ہونگے جو میری رہنمائی کی اقتداء نہیں کرینگے اور نہ ہی میری سنت پر چلیں گے۔اور جو ان کے کذب کے باوجود انکی تصدیق کرینگے اور ظلم میں انکی مدد کریں گے ایسے لوگوں کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں اور میرا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ اور نہ ہی وہ میرے حوض پر آسکیں گے۔ اور جو لوگ انکے جھوٹ کی تصدیق نہیں کریں گےاور ظلم پر انکی مدد نہیں کریں گے یہی لوگ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔اور یہ میرے حوض پر بھی وارد ہونگے۔ رسول الله ﷺ کا فرمان ہے:ثلاثة لا يكلمهم الله يوم القيامة ولا يزكيهم قال ا بو معاوية ولا ينظر إليهم ولهم عذاب ا ليم شيخ زان وملك كذاب وعائل مستكبر‘‘ (صحیح مسلم :107 ) ترجمہ:’’ تین آدمی ایسے ہیں کہ جن سے الله تعالیٰ قیامت کے دن نہ کلام فرمائے گا اور نہ ہی انہیں پاک و صاف کرے گا اور ابو معاویہ فرماتے ہیں کہ اور نہ ان کی طرف نظر رحمت سے دیکھے گا اور انکےلئے دردناک عذاب ہے۔۔۔ بوڑھا زانی ۔۔۔جھوٹا بادشاہ ۔۔۔ تکبر کرنے والامفلس ۔‘‘ قرآن مجید میں فرمان الٰہی ہے : وَكَذٰلِكَ نُوَلِّيْ بَعْضَ الظّٰلِمِيْنَ بَعْضًۢا بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ (الانعام: 129) ترجمہ : اس طرح ہم ظالموں کو ایک دوسرے کا ساتھی بنادیں گے کیونکہ وہ (مل کر ہی) ایسے کام کیا کرتے تھے۔ ابن کثیر رحمہ الله فرماتے ہیں : ومعنى الآية الكريمة كما ولينا هؤلاء الخاسرين من الإنس تلك الطائفة التي أغوتهم من الجن كذلك نفعل بالظالمين نسلط بعضهم على بعض ونهلك بعضهم ببعض وننتقم من بعضهم ببعض جزاء على ظلمهم وبغيهم ۔۔۔۔ترجمہ : ’’آیت کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے جس طرح ان نقصان یافتہ انسانوں کے دوست ان بہکانے والے جنوں کو بنادیا، اسی طرح ظالموں کے بعض کو بعض پر مسلط کردیتے ہیں، اور بعض کو بعض کے ذریعے سے ہلاک کردیتے ہیں اور ہم انکے ظلم و سرکشی اور بغاوت کا بدلہ بعض سے بعض کو دلا دیتے ہیں۔‘‘ (تفسیر ابن کثیر )۔۔۔۔معزز قارئین!! اپنے عنوان تک پہنچنے کیلئے مجھے ان احادیث اور قرآنی آیات کا سہارا لینا لازمی تھا تاکہ میرے قارئین میری تحریر کو بآسانی سمجھ سکیں کیونکہ عصر حاضر کے حالات اور حکمرانوں کے بارے میں اس امت کو چودہ سو سال قبل ہی بتادیا تھا اور ان حالات کے شر فتنہ و فساد سے بچنے اور لڑنے کا طریقہ بھی بتادیا۔غفلت اور اوندھی پڑی امت کا بھی انجام بتادیا تھا ہمیں کسی کو کوسنے برا کہنے سے پہلے سوچنا اور اپنا احتساب کرنا ھوگا کہ ھم نے قرآن و سنت کے باوجود کس قدر عمل کیا اور سیکھا یقیناً ھم بھی غرق ھونے والوں میں شامل ھونگے گر ھم نے اپنا قبلہ درست نہ کیا تو معززقارئین! حالیہ دنوں میں شوشل میڈیا میں حرم شریف میں محدود آمد اور سعودی حکمرانوں کی اسلام مخالف کاروائیوں پر سخت تنقید کا نشانہ بنے ھوئے ہیں۔ شوشل میڈیا میں لکھا گیا ھے کہ۔۔۔حرم صدائیں دے رہا ہے۔ وہ الله کے عہد سے پھر جانے والے آل سعود کے ہاتھوں میں محفوظ نہیں اسے اب امت کی کسی متفقہ باڈی کے سپرد ہونا چاہئے۔۔!‏⁧ ‏حرم خالی، حج تقریباً معطل، مقامات مقدسہ جانے پر دس ہزار ریال جرمانہ اور عمرہ بھی بند لیکن سینما ہالز فل، فلم فیسٹیول شروع۔ کورونا کے دوران بیس نئے سینما کھل گئے۔ میٹا سینما کے مطابق چالیس ہفتوں میں تہتر ملین ڈالر کے سینما ٹکٹس فروخت ہونے کا ریکارڈ قائم ہوا۔ سن دو ہزار بیس میں پوری دنیا کی فلمی صنعت زبوں حالی کا شکار رہی لیکن سر زمینِ وحی میں اسے بامِ عروج حاصل رہا۔ گزشتہ ماہ جدہ میں پندرہ دن کے وقفے سے دو بڑے میوزیکل کنسرٹ ہوئے جس میں سعودی مرد و خواتین بغیر کسی قسم کے ایس او پیز کے ناچ گانے کے مخلوط پروگرام میں شریک رہے۔ ایک لاکھ سے زیادہ لوگ اکٹھے ہو کر فٹبال کا میچ دیکھ سکتے ہیں حرم شریف میں نہیں آسکتے ۔ ‏یہ بہت بڑی سازش ہے۔ سعودی حکومت بتائے کون سی ویکسین لگانی ہے تمام مسلمان لگانے کو تیار ہیں۔ تمام مسلمان ممالک مل کر حج و عمرہ کھلوائیں۔ خانۂ کعبہ و مدینہ منورہ آل سعود کی جاگیر نہیں۔ لوگ حج کو بھولتے جارہے ہیں۔ موذی کرونا سے پہلے لوگ سال بھر حج اور عمرہ کی باتوں اور کوشش میں مصروف رہتے تھے، ایام حج میں لوگوں کا شوق و ذوق مزید بڑھ جاتا تھا۔ کرونا کی اڑ میں پرنس ” ایم بی ایس” کا غلط اور غلیظ فیصلہ۔ عالم اسلام رفتہ رفتہ قبول کرتا جارہا ہے، سعودی کے اس "کافرانہ اور ظالمانہ” فیصلےکیخلاف دنیا کےکسی بھی حصے سے احتجاج بلند نہیں ہورہا ہے،
سعودی کے سینما ھال کھل گئے ہیں جہاں کوئی "ایس او پیز” لاگو نہیں، کیسینوز میں وہی چہل پہل ہیں،ہوٹلز اور شاپنگ مالز میں وہی رونقیں ہوتی ہیں مگرحرمین بند پڑے ہیں۔ تعجب کی بات ہے، یورپ بھر میں "یوروکپ فٹ بال ٹورنمنٹ” کے دوران وہی پرانی جوش و خروش دیکھنے میں اتی ہے لیکن حرمین پر ابھی تک کویڈ نائنٹین کی نخوست کا سایہ ہے۔ہم یہ نہیں کہتے کہ کرونا نہیں ہے یا ویکسین ضروری نہیں ہے لیکن جب یورپ و امریکہ میں کھیل کے میدانوں میں عوام کا ھجوم دیکھتے ہیں، دوسری جانب سعودی اور امارات میں کاروباری، تفریحی اور "انٹرٹینمنٹ” والی مقامات پر وہی پرانی سرگرمیاں،وہی رونقیں، وہی نظارے اور وہی چہل پہل نظر آرہی ہیں، تو "حرمین” کی بے بسی اور بیکسی پر رونا اتا ہے۔ روایت کا مفہوم ہے کہ ” خانہ کعبہ بنانے کے بعد جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو وحی ائی کہ اب اعلان کرو تو آپ نے تعجب سے فرمایا اس صحرا سے میری اواز دنیا تک کیسے پہنچے گی تو جبرائیل نے فرمایا، یہ آپکا کام نہیں ہے آپ صرف اعلان کریں اواز پہنچانا "ہمارا” کام ہے”-
سعودی حکام تک بظاہر ہمارا آواز نہیں پہنچ سکتی مگر آپ صرف میرا کالم وائرل کیجئے باقی کام "انکا” ہے ہوسکتا ہے "وہ” اپنے اور اپنے محبوب (صل اللہ علیہ والہ وسلم) کی گھر کی رونقیں بحال کرنے کیلئے اپکی "کوشش کرنے” کو بہانہ بنالے اور ھمارے اشرفیہ و حکمرانوں کو ہمت و ایمان دے کہ وہ اس بابت سعودی فرماں رواں سے بات کریں وزیراعظم عمران خان کی یہ کوشش یقینأ امت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے بہت بڑا تحفہ ھوگی اور جزا الله اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں عظیم ترین ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔معزز قارئین!! درحقیت امت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر فرد پر لازم ھے کہ وہ اپنی زندگی کو اسوہ حسنہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات پر ڈھالے بصورت گھاٹا پانے والوں میں شامل کردیئے جائیں گے۔ یہی وجہ ھے کہ بار ہا بار تنبیہ کی گئی ھے کہ دین میں پورے پورے داخل ھوجاؤ بظاہر نقصان تکلیف اذیت پریشانی سے مت گھبراؤ کیونکہ رحمٰن کے پسندیدہ بندوں کیلئے دنیا قید و اذیت ھے اور رحمان کے ناپسندیدہ بندوں کیلئے دنیا جنت بنادی گئی ہے۔ نبی کریم آخر الزماں محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علم مرد و عورت دونوں پر فرض کردی گئی ہے۔علم حاصل کرو یہاں تک کہ تمہیں دور دراز ہی جانا پڑے۔۔ معزز قارئین!! دین محمدی مکمل عمل پرمحیط ھے عمل کیلئے علم ھونا لازم ھے جبتک علم نہ ھوگا تب تک عمل بھی نہیں ھوسکے گا اسی لیئے ہر مسلم مرد و عورت کو چاہئے کہ وہ قرآن و احادیث کے علم سے بہرہ مند ھوں تاکہ وہ دنیا کی خرافات اور ابلیس کے چنگل سے خود کو محفوظ بنا سکیں گے۔الله ھم سب کا حامی و ناظر رہے آمین یا رب العالمین۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You