میں اپنے صحافی تنظیمی ذمہداروں کو باربار جھنجھوڑتا ھوں

میں اپنے صحافی تنظیمی ذمہداروں کو باربار جھنجھوڑتا ھوں
آج تم تو کل ھماری باری ھے کچھ پتہ نہیں کون کب کسی کو چھوڑ کر دنیائے دار فانی سے کوچ کرجائے۔ دنیا کی لذت اور جھوٹی عیش و عشرت میں کہیں ابدی عیش و تعائش یعنی جنت کو بھلا نہ دیں۔ حقیقت تو یہ ھے کہ روح و جسم کی لذت اس دنیا میں نیکی میں پنہاں ہیں کیونکہ نیکیاں ہی قرب خدا کی سیڑیاں ہیں۔ اسی لیئے شاعر نے کیا خوب کہا "دردِ دل کے وسطے پیدا کیا انساں کو وگرنہ کم نہ تھے عبادت کیلئے کروبیاں”, ھمارے ملک بھر کے بیشتر ڈاؤن سائزنگ سے معاشی قتل کے متاثرین کیلئے تنظیمی عہدیداروں نے ابتک کیا کیا۔ کب تک سوتے رہیں گے۔ کیا کراچی سے کشمیر تک ذمہداران نے سپریم کورٹ میں پٹیشن داخل کیں اور عمران خان صاحب سے ملاقت کرکے حقائق سے آگاہ کیا۔ اب تک کتنے صحافی دوست اسی ٹینشن میں دنیا سے چلے گئے اور کتنے ایسے ہیں جو شدید پریشانی میں مبتلا ھیں۔ صحافتی تنظیم اور پریس کلب کے عہدیداران اچھی طرح واقف ہیں کہ صحافی کس قدر حساس اور عزت نفس کا مالک ھوتا ھے میں جاوید صدیقی ایگزیکٹو ممبر دستور گروپ کراچی اپنی ذمہداری محسوس کرتے ھوئے اپنے سیئنر رہنماؤں دستور گروپ کے چیئرمین ڈاکٹر عبدالجبار خان ڈپٹی چیئرمین ناصر محمود ، ڈپٹی چیئرمین طارق اسلم اور محمد عارف خان ڈپٹی چیئرمین دستور گروپ میری رہنمائی کرتے رہتے ہیں اور ھم سچ و حق اور عدل و انصاف اور جمہوری طرز عمل کو ہمیشہ اپنانے پر زور دیتے ہیں اور اسی پر قائم و دائم رہنے کی سفارشات پیش کرتے رہتے ہیں۔
پاکستان بھر کے صحافتی تنظیم اور پریس کلب کے عہدیداران قابل تعظیم و احترام ہیں مگر اصولوں پر کوئی رعایت نہیں۔۔۔!!


