عنوان:میرے معزز قارئین اور میرے کالمز

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان:میرے معزز قارئین اور میرے کالمز
کالم لکھتے ھوئے تیرہ سال سے زائد کا عرصہ بیت گیا ھے۔ آج کا کالم میں اپنے معزز قاری فیاض آرائیں کی جانب سے پیش کردی اس لمحہ فکریہ تحریر کی جانب توجہ مرکوز کرانا چاہتا ھوں جو انھوں نے مجھے تحریر شیئر کرتے ھوئے بتایا کہ کس طرح مسلمانوں کے بد ترین دشمن اسرائیل کو ہم امت مسلمہ طاقتور بنارہی ھے اور پھر یہ ہماری دولت سے بھاری اسلحہ خرید کر ہم مسلمانوں بلخصوص کشمیر اور فلسطینی نہتے معصوم بچوں بچیوں پر بمباری کرکے یہودی ظلم ظلم کرتے ہیں تو انکے ظلم پر چیخ و پکار پھر ہم کرتے ہیں۔ پہلے میں فیاض آرائیں کی تحریر کو پیش کرتا ھوں پھر اپنے کالم کو آگے بڑھاؤں گا۔۔معزز قارئین!! وہ مجھے تحریر شیئر کرتے ھوئےلکھتے ہیں کہ ایک شخص "گریس ایئرکنڈیشن” کی ٹھنڈک سے سوکر صبح ” سیکو فائیو” کے الارم سے اٹھتا ھے۔ "کولگیٹ” سے برش کرتا ہے۔ "جیلیٹ” سے شیو کرکے "لکس” صابن اور "ڈاؤ” شیمپو سے نہاتا ہے اور نہانے کے بعد "لیوس” کی پینٹ "پولو” شرٹ اور "گوکی” کے شوز "جوکی” کے اسنیکس پہن لیتا ہے چہرے پر "نیوا” کریم لگا کر "نیکسلے فوڈ” سے ناشتہ کرنے کے بعد "ربن” کا چشمہ لگا کر "ہنڈا” کی گاڑی میں بیٹھ کر کام پرچلا جاتا ہے۔راستے میں ایک جگہ سگنل بند ھوتا ہے وہ جییب سے "آئی فون الیون” نکالتاہے اور "زونگ” پر فور جی انٹرنیٹ چلانا شروع کردیتا ہے اتنے میں سبز بتی جلتی ہے آفس پہنچ کر "ایچ پی” کے کمپیوٹر میں کام میں مشغول ھوجاتا ہے کافی دیر کام کرنے کے بعد اسے بھوک محسوس ھوتی ہے تو "میکڈونلڈ ” سے کھانا اور ساتھ میں "نیکسلے ” کا پانی بھی منگواتا ہے۔ کھانے کے بعد "نیکس کیف” کی کافی پیتا ہے اور پھر تھوڑا آرام کرنے چلا جاتا ہے کچھ آرام کے بعد "ریڈ بل” پیتا ھے اور دوبارہ کام میں مشغول ھو جاتا ہے تھوڑا بوریت محسوس ھونے پہ جیب سے ایپل کے "آئی پوڈز”نکال کے انڈین گانے سنتا ھے ساتھ ھی "ٹی سی ایس” سے ایک پارسل بیرون ملک بھیجواتا ھے اور "پیناسونک” کے لینڈ لائن سے اطلاع کرتا ھے اور "پارکر” کے پین سے ایک نوٹ لکھتا ھے۔ کچھ دیر بعد "رولیکس” کی گھڑی میں ٹائم دیکھتا ہے تو اسے پتہ چلتا ہے کہ واپسی کا وقت ہوگیا ہے تو وہ دوبارہ "ھنڈا” کی گاڑی اسٹارٹ کرتا ہے اور گھر کیلئے روانہ ہوجاتا ہے ۔کچھ ہی لمحے بعد "شیل” کا پیٹرول پمپ آجاتا ہے وہاں سے ٹنکی فل کرواتا ہے اور "ہائیپر اسٹار” کا رخ کرلیتا ہے۔ اسٹور سے بچوں کیلئے "میگی” اور "کنور” کے نوڈلز "کیڈبری” کٹ کاٹ” اور "سینیکرز” اور "نیکسلے” کے مہنگے جوس وغیرہ خرید لیتا ہے۔ سپر اسٹور کیساتھ ہی "پیزا ہٹ” سے وہ بیوی بچوں کیلئے پیزا اور "کے ایف سی” سے برگرز کی ڈیل بھی خریدلیتا ہے۔ گھر جاکر کھانا کھانے کے بعد سب گھر والے "سونی” کے ایل ای ڈی پر مشہور زمانہ "نیوز چینل” پر مایوسی والی خبریں سن رہے ھوتے ہیں اور ہاتھ میں "کوک” کے گلاس پکڑے ھوتے ہیں کہ خبر آتی ہے اسرائیل نے نہتے فلسطینوں پر بمباری کی یہ سن کر وہ آگ بگولہ ھوجاتا ہے اور اونچی آواز میں بولتا ہے! اسرائیل اتنا طاقتور کیسے ہوگیا ؟؟معزز قارئین!! بات تو سچ ھے کہ ھم نے برانڈ کے چکر میں نہ حلال دیکھتے ہیں اور نہ ہی حرام۔ فرانس ‘ جرمنی ‘ برطانیہ ‘ امریکہ ‘ سوئیزرلینڈ ‘ آسٹریلیا ‘ ڈنمارک سمیت بیشتر یورپی ممالک سمیت غیر مسلم مملک خاص کر بھارت اپنی خوراک و اجناس میں سور کی چربی اور گوشت کا استعمال عام رکھتے ہیں۔ دکھ اور افسوس کا مقام ھے کہ امت مسلمہ سب کچھ جانتے ھوئے بھی پاک حلال خوراک اور اجناس کو چھوڑ کر اشتہارات کے چکر میں اپنا خون اور ایمان تباہ کرنے پر تلے ھوئے ہیں دوسری جانب اپنی دولت کا بیشتر حصہ انہیں دیدیتے ہیں۔ اس عمل میں سب سے زیادہ ہماری میڈیا مجرم ہے دوسرا ہمارے ماں باپ کی تربیت تیسرا ہمارے علمائے دین چوتھا ہمارا معاشرہ اور ہمارے حکمران۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! میرے ماں باپ کو الله کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے وہ ہمیشہ دیسی خوراک اور ادویات کی ترغیب رجحان اور افادیت سے گاہے بگاہے اپنے تجربات سے روشن کرتے اور فوائد سے آگاہ کرتے تھے۔ مجھے یاد ھے موسمی بخار۔ ٹائیفائیڈ۔ نزلہ زکام۔ کھانسی۔ الٹی قے۔ دست پیچس۔ چکر آنا۔ دل کی دھڑکن کی تبدیلی۔ بلڈ پریشر سمیت کئی مردانہ و زنانہ علاج گھریلو ٹوٹکوں کے ذریعے انتہائی مہارت اور کامیابیوں کیساتھ کرلیا کرتے تھے۔ عام طور پر خوراک سے زیادہ علاج کیا جاتا تھا جس میں شہد۔ دودھ۔ پنیر۔ دہی۔ خاکسیر۔ منککہ۔ انگور۔ کھجور۔ انار اور سیب کا استعمال کیا جاتا تھا اور اسی سے علاج بھی۔ دالوں اور سبزیوں کا استعمال کرکے معدہ کو معتدل رکھا جاتا جبکہ مصالہ جات اصلی استعمال کیئے جاتے تھے ہلدی۔ لونگ۔ الائچی۔ ہینگ۔ دارچینی کے استعمال خوراک اور علاج کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا تھا مختصر یہ کہ ھم نے اپنی روایات کیا چھوڑیں کہ بیماریوں کو گلے لگا لیا میرے ماں باپ اکثر مجھے نصیحت کرتے ھوئے کہتے تھے "کوا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھول گیا”۔ بس اب اے میرے ہم وطنوں عہد ایسا کرو کہ تا دم قائم رہو "دیسی اشیاء استعمال کرنا اور ملکی اجناس پر جینا”۔۔۔۔
اسلام زندہ باد۔ پاکستان پائندہ باد۔۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی



