کالم/مضامین

عنوان: سنبھل کر چلنا اے بیٹیوں

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: سنبھل کر چلنا اے بیٹیوں۔۔۔!!

بیشتر میرے دوست کبھی کبھی مجھے ایسے تحریریں بھیج دیتے ہیں جن پر قلم اٹھانا مجھ پر فرض بن جاتا ھے کیونکہ بگڑتے معاشرے کی سدھار اور خاص طور پر شریف گھرانوں کی بچیوں کی نادانی اور بھول انکی پوری زندگی برباد کردیتی ہے آج کی یہ تحریر بھی کچھ اسطرح کی ھے میری اپنے معاشرے کی بچیوں سے درخواست اور التجا ھے کہ زمانہ بہت خراب ھے ماں باپ کی نصیحت کو ہمیشہ مضبوطی سے تھامے رکھنا کیونکہ اندھی خواہشات ہی اندھے کنویں میں ڈبو دیتی ہیں۔ ایک دوست نے مجھے تحریر واٹس اپ کی اسمیں لکھا تھا۔۔۔کل جب بستر گرم کرونگا تو ویڈیو بنالونگاپھر یہ ہم سب کی رکھیل بن کر رہے گی اور کچھ بگاڑ بھی نہیں سکے گی۔تین مہینے ہونے والے تھے علینہ اپنے ہم جماعت زاہدکے ساتھ ایک کرایہ کے مکان میں رہتی تھی۔صبح دونوں اکھٹے یونیورسٹی جاتے اوراکھٹے ہی واپس آتے تھے اس سے پہلےوہ اپنی یونیورسٹی کے گرلز ہاسٹل میں رہتی تھی مگر زاہد کی محبت میں گرفتار ہوکر وہ بغیر نکاح کی بیوی تھی جسے عام زبان میں گرل فرینڈ کہتے ہیں۔ علینہ کے والدین نے کبھی سوچا بھی نا ہوگا کہ جس بیٹی پر وہ بھروسہ کررہے ہیں وہ انہی کی کمر میں ایک ایسے لڑکے کیلئے خنجر گھونپ رہی ہے جس سے ملے چھ مہینے بھی نہیں ہوئے تھے روز زاہد کےدوست بھی مکان میں آجاتے تھے اور علینہ جس نے کبھی اپنے بھائی کو پانی تک نہیں پلایا تھا وہ زاہد کے دوستوں کو سالن روٹیاں اور چاۓ بنا کر دیتی تھی.علینہ کی کچھ ہم جماعت لڑکیوں نے سمجھایا بھی تھا کہ اسطرح اپنے ماں باپ کے بھروسے کو نا توڑو اور اپنی عزت خراب نا کرو مگر علینہ انہیں یہ کہہ کر خاموش کردیتی کہ میری زندگی ہے تمھیں کیا؟ میں جو بھی کروں۔ تین سال گزر چکے تھے اس دوران علینہ نے زاہد کو بہت مرتبہ کہا کہ ہم نکاح کر لیتے ہیں مگرزاہد اسے ہر بار ٹال دیتا یہ سلسلہ اسی طرح سے چلتا رہا۔علینہ نے بہت چالاکی دکھائی اور اپنے والدین کوبلکل بھی خبر نا ہونے دی تھی۔ علینہ امید سے ہوچکی تھی،جب اس نے زاہد کو بتایا تو وہ چونک سا گیا زاہد کو یہ سنکر غصہ آگیا۔ دو دن گزر گئے مگر زاہد نے علینہ سے بات تک نہیں کی وہ شخص جو تین سال سے دن رات محبت کے نغمے گاتا تھا اب وہ علینہ کیطرف دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا تھا۔ علینہ بھی زاہد کے اس رویہ سے بہت پریشان تھی دوسری پریشانی اسکے پیٹ میں پل رہی تھی۔ اب زاہد رات کو دیر سے گھر آتا اور آکر خاموشی سے سوجاتا تھا علینہ رات رو کر گزار دیتی مگر زاہد کو اسکے رونے سے ذرا بھی فرق نہیں پڑتا تھا۔ایک دن علینہ نے زاہد کے قریبی دوستوں کو زاہد کی موجودگی میں بلایا اور انہیں پوری بات بتا کر کہا کہ بھائی پلیز آپ لوگ زاہد کو سمجھائیں اور پوچھیں یہ مجھ سے بات کیوں نہیں کرتا میرا کیا قصور ہے؟ زاہد کے دوست اسی کیطرح کے تھے انہوں نے زاہد سے بات کرنا شروع کی۔ ایک دوست بولا کہ تم لوگ نکاح کیوں نہیں کرلیتے، علینہ بولی میں نے بہت بار کہا ہے مگر یہ سنتے ہی نہیں زاہد یہ بات سن کر ہنس پڑا۔ سب لوگ حیرت انگیزنگاہوں سے زاہد کو دیکھ رہے تھے زاہد نے علینہ کو کہا کہ تم باہر جاؤ، علینہ نے کہا کیوں میرے سامنے کہو جو کہنا ہے زاہد گرج کر بولا دفع ہوجاؤ ادھر سے۔ علینہ روتی ہوئی کمرے سے باہر چلی گئی۔اسے زاہد کے رویے کا اتنا صدمہ پہنچا کہ وہ کمرے سے باہر جاتے ہی بیہوش ہوکر زمین پرگر پڑی۔اس کا علم نا زاہد کو ہوا نا ہی اس کے دوستوں کو وہ لوگ اپنی باتوں میں مصروف ہوگئے۔ جب علینہ کو ہوش آیا تو اس کمرے سے آنی والی جوباتیں سنائی دی وہ یہ ہیں۔ "یار تم لوگ پاگل ہوگئے ہو کیا؟ میں اس سے شادی کیوں کروں؟ پیٹ سے ہوگئی تو کیا ہوا سالی کو اسپتال لے جا کر سارا کام سیدھا کردونگا اور ویسے بھی پتا نہیں جو بچہ اسکے پیٹ میں پل رہا ہے وہ میرا ہے بھی کہ نہیں مجھے تو لگتا ہے یہ کسی اور کا ہے لیکن اب پھنس تو میں گیا ہوں۔ تم لوگ ہی بتاؤ جواپنے ماں باپ کو دھوکہ دیکر تین سال میرے ساتھ سو سکتی ہے وہ مجھے دھوکہ دیکر کسی اور کیساتھ نہیں سو سکتی کیا؟ کیا پتا تم میں سے بھی کسی کیساتھ اس کا چکر چل رہا ہو اور مجھے علم نا ہو۔ بس دو تین دن تک اسے اسپتال لے جا کر ابارشن کرواتا ہوں پھر ایک سال اور مزے لونگا پھر سالی کو بھگا دونگا۔ اب میرا یہ معیار تو نہیں کہ میں گشتیوں سے شادی کروں چلو مفت کی نوکرانی اور مشین مل گئی ہے مزے کرو اور تم لوگ زیادہ حاجی نا بنو تمھارے کارنامے بھی مجھ سے چھپے ہوئے نہیں ہیں۔زاہد اور اسکے دوست زور زور سے ہنس رہے تھے۔ ایک لڑکا بولا، یار زاہد ہمارا حصہ ہمیں کب دیگا۔ارے یار اب یہ تمھاری ہی ہے بس بچے والا معاملہ سیٹ کرلوں اسکے بعد سب مل کر مزے کریں گے۔ اب تو سالی سورہی ہوگی۔ کل جب بستر گرم کرونگا تو ویڈیو بنالونگا پھر یہ ہم سب کی رکھیل بن کر رہیگی اور کچھ بگاڑ بھی نہیں سکے گی ہمارا۔علینہ کو اپنے کانوں پر یقین نہیں ہو رہا تھا وہ اپنے کمرے میں گئی اور اندر سے لاک کرکے پوری رات اپنی غلطیوں کو روتی رہی۔ صبح پانچ بجے زاہد نے دروازہ بجایا علینہ نے دروازہ کھولا اورمسکراتے ہوئے چہرے سے زاہد کا استقبال کیا۔زاہد بھی اپنے بنائے گئے پلان پر عمل کرنے کیلئے ہونٹوں پر مسکان سجاۓ ہوئے تھا۔ اس نے علینہ کو گلے لگایا اور کہا کہ سب دوست جاچکے ہیں میں نے تمھارا بہت دل دکھایا ہے چلو آج سارا حساب برابر کر دیتا ہوں یہ کہہ کر وہ بیڈ پر لیٹ گیا۔ زاہد نے اپنی قمیض اتاری ہی تھی کہ علینہ نے چاکو زاہد کے سینے کے آر پار کردیا. زاہد چند منٹوں میں ہی تڑپ تڑپ کر مرگیا۔علینہ کی حالت غیر ہوچکی تھی وہ فرش پر لیٹ گئی اور زار و قطار رونے لگی سات بجے وہ اٹھی زاہد کی لاش بیڈ پر پڑی تھی اسکا منہ علینہ کی طرف تھا۔ علینہ نے حقارت بھری نظروں سے دیکھا اور ایک لات ماری تو زاہد کا منہ دیوار کیطرف مڑ گیا۔ علینہ نے کپڑے بدلے اور برقعہ پہن کر باہر نکل گئی، وہ خود سے باتیں کررہی تھی اور اپنی قسمت کو کوس رہی تھی اب اسے اپنی غلطیوں پر پچھتاوا ہورہا تھا مگر اب وہ اپنی غلطیاں سدھار نہیں سکتی تھی۔ اس نے خود سے کہا میرے ساتھ ٹھیک ہی ہوا میرے جیسی لڑکیوں کا انجام یہی ہونا تھا میرے والدین نے مجھ پر بھروسہ کیا اور میں نے ایک اجنبی درندے کی خاطر اپنا مذہب، باپ کا مان بھائی کی عزت ماں کا اعتبار اور اپنی آبرو سب لٹادی میرا یہی انجام ہونا تھا۔ نہیں بلکہ یہ بھی بہت کم ہے۔ یہ سوچتے ہوئے وہ مین روڈ پر چلنے والے تیز رفتار ٹرک کے سامنے کودپڑی اور اپنی جان گنوا دی۔۔ معزز قارئین!! آجکل میرا جسم میری مرضی ذہنیت رکھنے والی بیرونِ ملک امداد سے ایجنڈے پر چلنے والی فحاشہ عورتوں نے سادہ ذہن رکھنے والی معصوم بچیوں اور لڑکیوں کو ورغلا کر اس بے راہ روی پر گامزن کررہی ہیں اسکے علاوہ دوسری وجہ ہیکہ یونیورسٹیوں کی کمی اور میرٹ کیوجہ سے بچیوں کو دوسرے شہروں میں تعلیم حاصل کرنے جانا پڑتا ہے اور گھر والوں سے دور ہاسٹل میں دن گزارنے پڑتے ہیں۔اس طرح وہ گھریلو پابندیوں سے آزاد ہوجاتی ہیں ان پر نظر رکھنے والا کوئی نہیں ہوتا. ایسے میں کچھ لڑکیاں تو اپنی حفاظت کرلیتی ہیں اور کچھ نہیں کرپاتی۔یونیورسٹی کا ماحول آزاد خیالی کو۔ایجوکیشن لڑکیوں کی سوچ بدل دیتے ہیں. ہم جماعت لڑکوں لڑکیوں کے گروپ بن جاتے ہیں اور وہ لوگ کلاس ٹائم میں بھی پارک، کینٹین یا پھر سنسان جگہوں پر پائے جاتے ہیں۔ لڑکوں کی تو اور بات ہوتی ہے نا ہمارے معاشرے میں لڑکے کی غلطی کو دیکھا جاتا ہے نا ہی اس کی عزت پر کوئی انگلی اٹھاتا ہے۔سب برا لڑکیوں کا ہی ہوتا ہے اس لئے اگر آپ کے والدین نے آپ پر اعتماد کیا ہے تو ان کے اعتماد کو نا توڑیں۔جب بیٹی گھر سے باہر بھائی کے ساتھ بھی چلی جائے تو ماں باپ کوفکر لگی رہتی ہے۔ سوچیں اگر انہوں نے آپ کو گھر سے دور بھیجا ہے تو دل کو کس طرح سمجھایا ہوگا۔آپکو کیا لگتا ہے کہ آپ ہاسٹل میں سکون کی نیند سو رہی ہیں تو آپ کے والدین بھائی بہن بھی سکون سے سوتے ہوں گے بلکل نہیں انہیں ہر لمحہ آپکا خیال آتا ہوگا اور انکی محبت کا اندازہ آپکو تب ہو ہی جاتا ہوگا جب آپ مہینے دو مہینے بعد اپنے گھرجاتی ہو آپ تعلیم حاصل کرنے آئی ہیں تو صرف تعلیم حاصل کریں فضول کاموں میں ناپڑیں اپنے کام سے کام رکھیں پردے کا خیال رکھیں جبتک آپکا چہرہ چھپا ہوا ہے کوئی آپکو گندی نظر سے نہیں دیکھ سکتا۔ اسی لئے ہی اسلام نے پردے کا حکم دیا ہے۔اکثر لڑکیوں کا لباس گھر میں اور طرح کا ہوتا ہے اور یونیورسٹی میں اورطرح کا۔ آپ کسی اور کو دھوکہ نہیں دے رہی اپنے آپکو اور اپنے والدین کو دھوکہ دے رہی ہیں۔ خدارا اپنی اوراپنے والدین کی عزت کا خیال رکھیں آپکو آپکے والدین نہیں دیکھ رہے مگر ﷲ تو دیکھ رہا ہے نا اسی کا خوف کرلیں والدین کو بھی چاہئیے کہ بچیوں پر اندھا اعتماد نا کریں۔ ﷲ ہم سب کی عزتیں محفوظ رکھے اور سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین!!

کالمکار: جاوید صدیقی

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You