اہم خبریںپنجاب

کسی بھی ایگریکلچر یونیورسٹی کے لئے ضروری ہے کہ انڈسٹری اور کسان سے قریبی رابطہ رکھا جائے

‏ کسی بھی ایگریکلچر یونیورسٹی کے لئے ضروری ہے کہ انڈسٹری اور کسان سے قریبی رابطہ رکھا جائے اور ایسا نظام ترتیب دیا جائے کہ

یونیورسٹیز کسان سے انڈسٹری اور منڈی تک ہر سٹیک ہولڈر کی ضروریات کو پورا کریں جس سے یونیورسٹیز کی فنڈنگ میں بھی اضافہ ہو گا اور جدید ریسرچ کا رحجان بھی پیدا ہوگا۔ ایگریکلچر یونیورسٹیز میں تحقیق انڈسٹری اور مارکیٹ ڈیمانڈ کے مطابق ہونی چاہئے۔

یہ بات کمشنر راولپنڈی کیپٹن (ر) محمد محمود نے پیر مہر علی شاہ ایرڈ ایگریکلچر یونیورسٹی میں یونیورسٹی کے اٹک کیمپس اور یونیورسٹی کے امور کا جائزہ لینے کیلئے منعقدہ اجلاس میں کیا۔ اجلاس میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قمر زمان، پراجیکٹ ڈائریکٹر اٹک کیمپس ڈاکٹر زہیر، ڈینز اور سینیر فیکلٹی ممبران موجود تھے۔
کمشنر کیپٹن (ر) محمد محمود نے کہا کہ جدید ریسرچ سے پیداوار میں اضافہ کے اہداف حاصل کیئے جائیں مگر اس کے ساتھ ساتھ ریسرچ کا بنیادی فوکس ایسے رحجانات کا پیدا کرنا بھی ہو جس سے کسان سے لیکر عام شہریوں کو غذا کے حوالے سے سہولیات میسر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ زراعت کو صرف فوڈ سیکیورٹی کے تناظر میں نہیں دیکھنا نہیں چاہئے بلکہ جدید ریسرچ کی بدولت زراعت اب ایک بزنس بھی بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈرپ ایریگیشن پر خاص توجہ کی ضرورت ہے اور ان علاقوں میں بھی ڈرپ ایریگیشن کا رحجان عام کیا جائے جہاں پانی وافر مقدار میں موجود ہو تاکہ پانی کو محفوظ کیا جا سکے۔
وائس چانسلر ڈاکٹر قمر زمان نے کہا کہ ایرڈ ایگریکلچر یونیورسٹی نے کویڈ کے دوران پیدا ہونیوالے چیلنجرز کے باوجود اپنے تحقیقی عمل کو جاری رکھا اور کوشش کی جا رہی ہے سٹوڈنٹس کی کورس اور لیب ورک میں کمیوں کو دور کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پیر مہر علی شاہ ایرڈ ایگریکلچر یونیورسٹی خطہ پوٹھوہار کی تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے کوشاں ہے۔

رپورٹ: سید یوسف شاہ

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You