کالم/مضامین

ویلنٹائن ڈے اور اسلامی تصورِ محبت *تحریر: عبدالرحمن قادری

ویلنٹائن ڈے اور اسلامی تصورِ محبت
*تحریر: عبدالرحمن قادری*

دنیا بھر میں ہر سال 14 فروری کو ویلنٹائن ڈے کے نام سے منایا اور جانا ، جاتا ہے۔ اسے بعض حلقے ’’یومِ اظہارِ محبت‘‘ اور ’’تجدیدِ محبت کا عالمی دن‘‘ قرار دیتے ہیں۔ اس موقع پر بالخصوص نوجوان نسل جذباتی وابستگی کے اظہار کو ایک خاص اہمیت دیتی ہے اور مختلف انداز میں اس دن کو مناتی ہے۔ سوشل میڈیا پیغامات، تحائف، سرخ گلاب اور مخصوص تقریبات اس دن کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔تاہم ایک اسلامی معاشرے میں یہ سوال اپنی جگہ نہایت اہمیت رکھتا ہے کہ محبت کا اصل تصور کیا ہے؟ کیا محبت محض ایک دن کے اظہار کا نام ہے یا یہ ایک دائمی اور باوقار جذبہ ہے جس کی بنیاد اخلاق، ذمہ داری اور حدود پر قائم ہوتی ہے؟اسلام محبت کے خلاف نہیں، بلکہ اسلام تو سراپا محبت ہے۔ قرآنِ مجید اور سنتِ نبوی ﷺ کا مطالعہ کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ محبت ایمان کی روح ہے۔ سب سے اعلیٰ اور برتر محبت اللہ تعالیٰ سے ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:”وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ”(اور جو ایمان والے ہیں وہ اللہ سے سب سے بڑھ کر محبت کرتے ہیں)۔اسی طرح رسولِ اکرم ﷺ کی محبت کو ایمان کا لازمی جز قرار دیا گیا۔ حدیثِ مبارکہ میں آتا ہے:
"تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے والد، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔”یہ وہ محبت ہے جو انسان کو سنوارتی ہے، اس کے کردار کو نکھارتی ہے اور اسے خیر و بھلائی کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔اسلام نے انسانی محبت کو بھی فطری تقاضا تسلیم کیا ہے۔ والدین سے محبت، اولاد سے شفقت، بہن بھائیوں سے تعلق، رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک اور انسانیت کے لیے خیر خواہی — یہ سب ایمان کے شعبے ہیں۔ خاص طور پر میاں بیوی کے رشتے کو قرآن نے محبت اور رحمت کی بنیاد قرار دیا:*”وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً”**(اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی)*۔یہ آیت اس بات کا واضح اعلان ہے کہ اسلام میں محبت کو نکاح کے پاکیزہ بندھن کے اندر عزت، تحفظ اور تقدس دیا گیا ہے۔موجودہ دور میں جب مغربی تہذیب کی یلغار ہمارے معاشرتی ڈھانچے پر اثر انداز ہو رہی ہے، تو ایسے تہوار جو غیر اسلامی اقدار کی نمائندگی کرتے ہیں، ہمارے نوجوانوں کے ذہن و فکر پر بھی اثر ڈالتے ہیں۔ علماء کرام کی رائے ہے کہ مسلمان نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی جذباتی وابستگیوں کو اسلامی حدود کے اندر رکھیں۔ بے راہ روی، غیر شرعی تعلقات اور وقتی جذباتی فیصلے نہ صرف فرد بلکہ پورے معاشرے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔
یہ بھی غور طلب امر ہے کہ کیا محبت صرف ایک مخصوص دن کی محتاج ہے؟ اسلام تو ہمیں سکھاتا ہے کہ محبت ایک مسلسل عمل ہے۔ والدین کی خدمت میں جھک جانا محبت ہے۔ یتیم کے سر پر ہاتھ رکھ دینا محبت ہے۔ محتاج کی مدد کرنا محبت ہے۔ شریکِ حیات کے ساتھ وفاداری نبھانا محبت ہے۔ رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنا محبت ہے۔ حتیٰ کہ کسی کے لیے دل میں خیر خواہی رکھنا بھی محبت ہی کی ایک صورت ہے۔اسلامی تعلیمات ہمیں توازن کا درس دیتی ہیں۔ محبت اگر حدودِ الٰہی کے اندر ہو تو رحمت ہے، سکون ہے، برکت ہے۔ لیکن اگر یہی جذبہ حدود سے تجاوز کر جائے تو آزمائش اور فتنہ بن جاتا ہے۔ اسی لیے اسلام جذبات کو دبانے کا نہیں بلکہ انہیں نظم و ضبط کے ساتھ پاکیزہ رخ دینے کا پیغام دیتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان معاشرہ مغربی ثقافت کی اندھی تقلید کے بجائے اپنی اسلامی شناخت کو مضبوط کرے۔ نوجوان نسل کو یہ شعور دیا جائے کہ سچی محبت وہی ہے جو اللہ کی رضا کے مطابق ہو، جو عزت و عصمت کی محافظ ہو، اور جو انسان کو گناہ کے بجائے نیکی کی طرف لے جائے۔14 فروری ہمیں یہ سوچنے کا موقع دیتا ہے کہ ہم محبت کے نام پر کیا پیغام دے رہے ہیں؟ کیا ہم وقتی جذبات کے پیروکار ہیں یا دائمی اقدار کے امین؟اسلام کا پیغام واضح ہے: محبت کو پاکیزہ رکھو، باوقار رکھو، اور اسے اللہ کی رضا کے تابع کر دو۔ یہی محبت دنیا میں سکون اور آخرت میں کامیابی کا ذریعہ بنتی ہے۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You