راولپنڈی(افتخارخٹک) وفاقی وزیر قانون اعظم نظیر تارڑ نے راولپنڈی بار کا دورہ کیا دورے کا مقصد

راولپنڈی(افتخارخٹک) وفاقی وزیر قانون اعظم نظیر تارڑ نے راولپنڈی بار کا دورہ کیا دورے کا مقصد راولپنڈی بار میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کا افتتاح کرنا تھا ۔ اس موقع پر مہمان خصوصی وفاقی وزیر قانون اعظم نظیر تارڑ کے ہمراہ ممبر پاکستان بار کونسل سید قلب قلب حسن شاہ۔احسن ہون ۔ممبر پنجاب بار کونسل فخر حیات اعوان۔شاہد محمود عباسی۔چوہدری قیصر مشتاق۔حسن عباس حمدانی۔صدر ہائی کورٹ بار احس حمید للہ۔سیکرٹری ملک خلیل اعوان۔کے علاوہ وکلا کی بڑی تعداد نے شرکت کی تقریب کا باقاعدہ اغاز سیکرٹری بار اسد محمود ملک نے تلاوت قران سے کیا بات میں پاکستان کا قومی بجایا گیا جس پر سب نے کھڑے ہو کر سلامی پیش کی اس موقع پر وکلا سے خطاب کرتے ہوئے صدر سردار منظر بشیر خان نے مہمان خصوصی وفاقی وزیر قانون اعظم نظیر تارڑ ممبر پاکستان بار کونسل سید قلب حسن شاہ۔ممبر پاکستان بار کونسل احسن ہون کر راولپنڈی بار میں امد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح اس عوامی مفاد کے کام میں راولپنڈی بار کی وکلا برادری نے صبر اور تحمل کا مظاہرہ کیا ہے یہ تاریخ میں اس سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی ہم نے اپنے قیمتی چیمبر لوگوں کی فلاح کے لیے قربان کر دیے ایک وکیل کو چیمبر بنانے میں کہیں سالوں لگ جاتے ہیں تو اپ سے درخواست ہے کہ اپ ان وکلا کو ضرور ان کا حق دلوائیں اس ممبر پاکستان بار کونسل قلب حسن شاہ نے راولپنڈی بار کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اپنی بار میں ا کر ہمیشہ خوشی محسوس ہوتا ہے میں اپنی وکلا برادری کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑوں گا حسن ہون نے وکلا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپ کا سب سے پہلے شکر گزار ہوں کہ اپ نے مجھے ممبر پاکستان بار کونسل منتخب کروایا اور میں اپنا حق ضرور ادا کروں گا اور وکلا کی فلاح و بہبود جس قدر ہو سکے ہم مل جل کر کریں گے اخر میں سیکرٹری بار اسد محمود ملک نے وفاقی وزیر قانون اعظم نظیر تارڑ کو خطاب کی دعوت دیتے ہوئے وکلا کے مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہم ان دنوں بہت زیادہ مشکلات سے دوچار ہیں کیونکہ 70 کے قریب ایسے چیمبرز ہیں جو کہ اس پروجیکٹ کی نظر ہو رہے ہیں اور میں اپنی بار کے وکلا کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے صبر اور تحمل کا دامن نہیں چھوڑا اپ سے یہی درخواست ہے کہ اپ ہماری اس اواز کو اگے تک لے کر جائیں وفاقی وزیر قانون اعظم نظیر تارڑ نے اپنے خطاب میں کہا کہ وکلا برادری پاکستان کے کسی بھی شہر کسی بھی کونے میں موجود ہے اللہ تعالی نے مجھے یہ موقع دیا ہے اور میری لیڈرشپ نے بھی مجھے کہا ہے کہ میں اپنی وکلا برادری کا خیال رکھوں میرے یہاں انے کا مقصد بھی یہی ہے کہ میں اپنے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑا ہوں اور کھڑا رہوں گا سیاسی جماعتیں ہماری کالے کوٹ سے بالاتر نہیں ہیں ہماری وابستگی پہلے کالے کوٹ سے ہے اور بعد میں کسی سیاسی جماعت سے میں اپ سب کو یقین دلاتا ہوں کہ اپ کا جو بھی نقصان ہوا ہے اس کا ازالہ حکومت کی طرف سے ضرور کیا جائے گا وفاق کی طرف سے میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ تین کروڑ 20 لاکھ روپے فوری طور پر نقصان کے ازالے کے لیے وکلاء میں تقسیم کیے جائیں گے اور باقی بھی جو متاثرین وکلا ہیں ان کے لیے پنجاب حکومت سے میں بات کر کے مزید جس قدر ہو سکا ان کو اس کا معاوضہ دلواؤں گا میں صدر بار سردار منظر بشیر اور سیکرٹری جنرل اسد محمود ملک اور ان کی پوری کابینہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے دن رات محنت کر کے اس بڑے پروجیکٹ کو کامیاب کروایا اور اپنی برادری کے حقوق سے ایک انچ بھی دستبردار نہیں ہوئے بلکہ ایک مضبوط اواز بن کے ہر فورم پر انہوں نے اواز اٹھائی ہے جس کا میں خود شاہد ہوں اور میں اپ سب کا شکر گزار ہوں کہ اپ نے مجھے یہاں مدو کیا تقریب کے اخر میں صدر بار سردار منظر بشیر اور سیکرٹری جنرل نے وفاقی وزیر قانون اعظم نظیر تارڑ کو شیلڈ پیش کی




