جامعہ کراچی: نوواردان جامعہ کے 75 ویں بیچ کا سلورجوبلی گیٹ پر پرتپاک استقبال


*جامعہ کراچی: نوواردان جامعہ کے 75 ویں بیچ کا سلورجوبلی گیٹ پر پرتپاک استقبال*
*اعلیٰ تعلیم محض ڈگری کے حصول کا نام نہیں بلکہ یہ شخصیت سازی، کردار سازی اور قومی ترقی کی بنیاد ہے۔مقررین*
۔
کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) جامعہ کراچی کے ممتاز فارغ التحصیل طلبہ کی انجمن یونی کیرئینز انٹرنیشنل، وائس چانسلر جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، چیئرمین سندھ ایچ ای سی پروفیسر ڈاکٹر طارق رفیع، روئسائے کلیہ جات، صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ، یونی کیرئینز انٹرنیشنل کے صدر پروفیسر اعجاز احمد فاروقی، ڈائریکٹر جنرل نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن ڈاکٹر سید سیف الرحمن، صدر انجمن اساتذہ غفران عالم، ممبر سنڈیکیٹ و سینٹ، عمائدین شہر، اساتذہ اور انتظامی عملے کی کثیر تعداد نے گزشتہ روز جامعہ کراچی کے مرکزی دروازے سلورجوبلی گیٹ پر نوواردان جامعہ کے پچھہتر ویں بیچ کا پرتپاک استقبال کیا۔ یوم جامعہ کی تقریب کا آغاز حفاظ کرام کی تلاوت قرآن سے ہوا۔ جامعہ کراچی کے مرکزی دروازے پر داخلے سے قبل حفاظ کرام تلاوت قرآن فرماتے ہوئے جامعہ کراچی میں داخل ہوئے اور وہاں پر موجود تمام نوواردان جامعہ اور دیگر افراد کے ہمراہ جلوس کی شکل میں انتظامی عمارت تک گئے۔ بعد ازاں انتظامی عمارت کے پارکنگ گراؤنڈ میں پُروقار تقریب کا اہتمام کیا گیا جس سے پروفیسر ڈاکٹر طارق رفیع، پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، محمد احمد شاہ، پروفیسر اعجاز احمد فاروقی، ڈاکٹر سید سیف الرحمن، غفران عالم اور مشیر امور طلبہ ڈاکٹر نوشین رضا نے خطاب کیا۔ تقریب میں ممبر سنڈیکیٹ و سینٹ، عمائدین شہر، اساتذہ، طلبہ اور غیر تدریسی عملے کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ تقریب میں نظامت کے فرائض ڈاکٹر سید عاصم علی نے انجام دیئے اور جامعہ کراچی کی تاریخ پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ تقریب کا انعقاد جامعہ کراچی اور یونی کیرئینز انٹرنیشنل کے اشتراک سے کیا گیا تھا۔ چیئرمین سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر طارق رفیع نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ کراچی پاکستان کی سب سے بڑی جامعات میں سے ایک ہے اور یہاں سے فارغ التحصیل طلبہ نے اندرون و بیرونِ ملک بہت نام پیدا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں لڑکیوں کے داخلوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر میڈیکل کے شعبے میں، جس کی بڑی وجہ میرٹ پر داخلہ ہے۔ تاہم انہوں نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والی پچاس فیصد سے زائد لڑکیاں عملی زندگی میں خدمات انجام نہیں دیتیں، جو نہ صرف انفرادی بلکہ قومی نقصان بھی ہے۔ انہوں نے طالبات پر زور دیا کہ وہ اپنی تعلیم کو عملی میدان میں استعمال کریں۔ صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارے اصل ہیرو ہمارے والدین ہیں جن کی محنت اور قربانیوں کی بدولت ہمیں اعلیٰ تعلیم تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہی اپنے والدین کی امید ہیں، انہیں مایوس نہ کریں۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ لڑکیوں میں تیزی سے تعلیمی اور بالخصوص اعلیٰ تعلیم کا رجحان بڑھ رہا ہے اور انہوں نے اپنی قابلیت سے ثابت کردیا ہے کہ وہ بھی والدین کا سہارا بن سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ پاکستان کو متعدد مسائل درپیش ہیں، مگر ان کا حل ہم سب کو مل کر نکالنا ہوگا، کیونکہ یہ ملک ہم سب کا ہے۔ جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ پاکستان آج بھی تعلیم کے میدان میں ترقی یافتہ ممالک سے پیچھے ہے اور ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے معیاری تعلیم پر توجہ دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ انصاف پر مبنی معاشرے ہی ترقی کی ضمانت ہوتے ہیں، اس لیے طلبہ کو برداشت، مکالمے اور اختلافِ رائے کے باوجود دوسروں کی بات سننے کا حوصلہ پیدا کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر خالد عراقی نے بتایا کہ جامعہ کراچی صرف ڈگری فراہم نہیں کرتی بلکہ طلبہ کی فکری، اخلاقی اور سماجی تربیت بھی کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں پاکستان کو صرف تنقید کی نظر سے دیکھنے کے بجائے اس کی ترقی اور نظریے پر بات کرنی چاہیے، کیونکہ ہماری شناخت پاکستان سے جڑی ہوئی ہے۔ پروفیسر اعجاز فاروقی نے کہا کہ جامعہ کراچی کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ اگر پورے ملک کی جامعات میں شائع ہونے والے تمام ریسرچ پیپرز کو یکجا کیا جائے تو بھی وہ جامعہ کراچی میں شائع ہونے والے تحقیقی مقالہ جات کے مقابلے میں کم ہوں گے۔ انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ سے فارغ التحصیل ہونے تک، بلکہ دورانِ تدریس ہی، طالب علم کی شخصیت میں مثبت تبدیلی آتی ہے جسے نہ صرف وہ خود بلکہ اردگرد کے لوگ بھی محسوس کرتے ہیں، کیونکہ جامعہ کراچی صرف ڈگری نہیں دیتی بلکہ ایک مکمل شخصیت کی تشکیل کرتی ہے۔ ڈائریکٹر جنرل نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن ڈاکٹر سید سیف الرحمن نے کہا کہ جامعہ کراچی کی بنیاد سنہ انیس سو اکیاون عیسوی میں رکھی گئی اور تب سے یہ ادارہ نہ صرف شہر کراچی بلکہ پورے ملک کی تعمیری اور ثقافتی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ انکے مطابق جامعہ کراچی پاکستان کا فخر ہے اور یہاں سے فارغ التحصیل ہر طالب علم روشن مستقبل کی نوید ہے۔ صدر انجمن اساتذہ جامعہ کراچی غفران عالم نے کہا کہ پاکستان میں بمشکل دس فیصد افراد کو جامعات تک رسائی حاصل ہو پاتی ہے اور جامعہ کراچی میں داخلہ پانا ایک اعزاز اور خوش نصیبی ہے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اس موقع سے بھرپور استفادہ کریں اور ذاتی مفاد سے بڑھ کر ملک کی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ دریں اثنا مشیرِ امورِ طلبہ جامعہ کراچی ڈاکٹر نوشین رضا نے جامعہ میں جاری نصابی و ہم نصابی سرگرمیوں پر تفصیلی روشنی ڈالی اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے تحت قائم طلبہ سوسائٹیز کے اغراض و مقاصد سے شرکاء کو آگاہ کیا۔




