راولپنڈی (افتخار خٹک) صوفیہ ملک جوڈیشل مجسٹریٹ دفعات 30 راولپنڈی نے ٹک ٹاکر لڑکی پر

راولپنڈی (افتخار خٹک) صوفیہ ملک جوڈیشل مجسٹریٹ دفعات 30 راولپنڈی نے ٹک ٹاکر لڑکی پر تشدد اور بال کاٹنے کے مقدمہ میں نامزد 1 ملزم کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست منظور کر لی ہے 50 ہزار روپے کے مچلکوں پر رہائی کا حکم دیا ہے عدالت نے قرار دیا کہ تحقیقات کے دوران پولیس ملزمان سے کچھ بھی برآمد نہیں کرسکی نہ ہی دونوں ملزمان کا پہلے کوئی کریمنل ریکارڈ ہے چونکہ ملزمان کے خلاف بیشتر دفعات قابل ضمانت ہیں لہٰذا ملزمان کی ضمانت منظور کی جاتی ہے دونوں ملزمان کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر پولیس کی استدعا پر عدالت نے 5 دسمبر کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوایا تھا جس کے بعد ملزمان نے درخواست ضمانت دائر کی تھی گزشتہ روز سماعت کے موقع پر ملزم اور پراسیکیوشن کے وکلا عدالت میں موجود تھے عدالت نے فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد قرار دیا کہ ملزمان پر عائد تعزیرات پاکستان کی دفعات 342، 354، 509 اور 201 قابل ضمانت ہیں جبکہ دفعہ 337 وی اور 497 ملزمان پر لاگو نہیں ہوتیں کیونکہ دوران ریمانڈ اور تفتیش پولیس ملزمان سے کچھ بھی برآمد نہیں کرسکی اور نہ ہی ملزمان کا پہلے سے کوئی کریمنل ریکارڈ ہے اور چونکہ ملزمان جیل میں ہیں جن سے مزید کسی تفتیش کی بھی اب ضرورت نہ ہے عدالت نے عبد الجلیل عرف مٹھو کی ضمانت منظور کرتے ہوئے 50 ہزار روپے کے مچلکے اور ایک شورٹی بانڈ جمع کرانے کا حکم دیا ہے تھانہ نصیر آباد پولیس گزشتہ ماہ 25 نومبر کو تھانہ نصیر آباد کے ایف سی اسد حسین کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 342، 354، 509، 201، 337 وی اور 497 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا جس میں الزام تھا کہ عبد الجلیل عرف مٹھو نے دیگر ملزمان کے ساتھ مل کر ایمان فاطمہ نامی ٹک ٹاکر لڑکی کے بال کاٹ دئیے تھے۔




