کالم/مضامین

جناب رمزی اٹاوی صاحب اردو شاعری کے ایک ایسے روشن ستارے ہیں ,جنہوں نے اپنی فکر اپنے جذبے

اردو ادب کو نیا وقار بخشنے والا فکری اور اخلاقی شاعر : رمزی اٹاوی
-عارفہ ملا ئکہ , آسٹریلیا
اور اپنے اخلاص سے اردو ادب کو نیا وقار بخشا۔ ان کا اصل نام ظہور احمد تھا اور وہ یکم دسمبر 1912 کو اٹاوہ (اتر پردیش انڈیا) میں پیدا ہوئے۔ بعد ازاں وہ جودھپور (راجستھان انڈیا) منتقل ہو گئے، جہاں وہ تاحیات ادب کی خدمت کرتے رہے۔ انہوں نے ،5 اپریل 2002 کو دنیا سے رخصت لی، لیکن اپنے پیچھے ایک ایسا خوبصورت ادبی ورثہ چھوڑا ،جو آج بھی قاری کے دل کو چھوتا ہے۔ ان کے شعری مجموعہ کا نام ہے ‘صحرا میں بھٹکتا چاند’.

ادبی خدمات اور اسلوب

رمزی اٹاوی نے اردو شاعری کو محض لفظوں کی بازیگری نہیں سمجھا، بلکہ اسے انسانیت، اخلاقیات، فطرت اور بین الاقوامی ہم آہنگی کے فروغ کا ذریعہ بنایا۔ ان کی شاعری میں ایک منفرد فکری گہرائی اور سادہ، مگر پر اثر زبان کا امتزاج پایا جاتا ہے۔ وہ رومانوی جذبوں سے لے کر عالمی امن تک ہر پہلو پر خلوص سے قلم اٹھاتے ہیں۔

منتخب اشعار

1. جہنم کی آگ کا تصور:
کچھ اس کی خبر بھی ہے تجھ کو۔وہ سوزِ جہنم کیا ہوگا،
جس آگ کا ایندھن انساں ہے اس آگ کا عالم کیا ہوگا

2. دنیا کی بے ثباتی:
یہ حال ہے رمزی دنیا کا دنیا میں کسی کا کوئی نہیں،
اس دہر کا جب یہ عالم ہے تو حشر کا عالم کیا ہوگا

3. انسانیت کا پیغام:
صاف ہاتھوں سے ذرا تاریخِ مستقبل لکھو
آنے‌ والوں کے لیے و سرمایۂ عبرت بنو

4. عالمی بھائی چارہ:
چراغ ‌ محبت جلاؤ زمیں پر،
اندھیرا نہ رہ جائے یارو کہیں پر

5. فطری مناظر کی عکاسی:
گرد و غبار ہر سو، جنگل پہ چھا رہا ہے
بستی پہ جیسے کوئی آسیب آ رہا ہے 6.

حالات حاضرہ:
مرادل پریشاں مری آنکھ نم ہے (نظم )
بہارو چلی جاؤ بے زار ہوں میں, ‌‌۔ غم نوع انساں کا بیمار ہوں میں کہیں قتل و غارت کہیں ہے دھما کہ، نہ کلکتہ سالم نہ محفوظ ڈھاکہ اسے آگ دے دی اسے مار ڈالا، اندھیرے میں گم ہے بقا کا اُجالا غذا چھین لی ہے زباں چھین لی ہے غریبوں سے آہ و فغاں چھین لی ہے مصیبت میں ہے مبتلا جان مضطر،۔ ہے کانٹوں کی چادر تو شعلوں کا بستر وطن کے وفادار خادم نہیں ہیں، جو اپنی خطاؤں پہ نادم نہیں ہیں بہارو چلی جاؤ بے زار ہوں میں،۔ غم نوع انساں کا بیمار ہوں میں

7.جناب رمزی اٹاوی کی نظم "خطابِ خاص” سے ایک اقتباس ملاحظہ ہو:

"جہاں میں امن کے پیغامبر بنو لوگو،
محبتوں کے نئے باب تم لکھو لوگو
نہ ہو کسی کے لیے زہر ںتمھارا ولہجہ،
لہو میں گھول کے خوشبو وہ گفتگو لوگو”

بہرحال جناب رمزی اٹاوی کی شاعری کا خاص وصف یہ ہے کہ وہ نہ صرف ذہن کو جھنجھوڑتی ہے بلکہ دل کو بھی گہرائی سے چھو جاتی ہے۔ وہ شاعری کو ایک فریضہ سمجھتے تھے – ایسا فریضہ جو معاشرے کو بیدار کرے، انسان کو انسان بنائے اور دلوں کو جوڑنے کا کام کرے۔ Arifaafshari9@gmail.com

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You