سینئر صحافی طاہر نصیر کو سپاری لے کر قتل کرنے کا منصوبہ ناکام

*سینئر صحافی طاہر نصیر کو سپاری لے کر قتل کرنے کا منصوبہ ناکام*
*جوڈیشل مجسٹریٹ عادل سرور سیال نے گرفتار تینوں اجرتی قاتلوں کا پہلا جسمانی ریمانڈ ہی مسترد کر دیا،نگرانی فوجداری اپیل دائر*
جوڈیشل مجسٹریٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے،تینوں اجرتی قاتلوں کے ذریعے اصل ملزمان قاسم سندھو،سکندر سندھو،اختر سندھو اور محسن سلطان تک پہنچا جا سکتا ہے،استدعا
*جوڈیشل مجسٹریٹ کا فیصلہ قانون کے مطابق نہیں معاملہ انتہائی سنجیدہ نوعیت کا ہے،کیا صحافیوں کی ٹارگٹ کلنگ اتنی آسان ہو چکی ہے،سینئر قانون دان شاہد محمود مغل*
راولپنڈی(کرائم رپورٹر) ڈان نیوز کے سینئر صحافی کو سپاری لے کر قتل کرنے کی کوشش کرنے والے تین اجرتی قاتلوں کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجے جانے والے فیصلے کے خلاف نگرانی فوجداری اپیل دائر کر دی گئی سینئر قانون دان شاہد محمود مغل کی جانب سے سینئر صحافی طاہر نصیر نے نگرانی فوجداری اپیل دائر کی جس میں استدعا کی گئی کہ تینوں اجرتی قاتلوں آکاش،احمد اور وشال کا یہ پہلا ریمانڈ ہونا تھا ملزمان سے پولیس نے تفتیش کرنی تھی لیکن جوڈیشل مجسٹریٹ عادل سرور سیال نے ملزمان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی تینوں اجرتی قاتلوں کے جسمانی ریمانڈ منظور ہونے پر ہی اجرتی قاتلوں نے جن سے سپاری لے تھی ان تک پہنچا جا سکتا تھا اپیل میں سیشن عدالت سے یہ استدعا کی گئی ہے کہ جوڈیشل مجسٹریٹ کا 30 اکتوبر کا فیصلہ کالعدم قرار دیکر تینوں اجرتی قاتلوں کو جسمانی ریمانڈ میں پولیس کی تحویل میں دیا جائے سینئر قانون دان شاہد محمود مغل کا کہنا ہے کہ معزز جوڈیشل مجسٹریٹ نے قانون کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایسا فیصلہ دیا ہے جبکہ تینوں اجرتی قاتلوں کا یہ پہلا ریمانڈ تھا لیکن معزز جوڈیشل مجسٹریٹ نے پہلا ریمانڈ ہی مسترد کر دیا اب معزز سیشن عدالت سے ہی استدعا کی جائیگی کیونکہ یہ معاملہ انتہائی سنجیدہ نوعیت کا ہے جس میں تینوں اجرتی قاتلوں نے ڈان نیوز کے سینئر صحافی طاہر نصیر کی سپاری لی تھی مرکزی ملزمان تک اگر اب نہ پہنچا گیا تو وہ سینئر صحافی کو کسی بھی وقت جانی نقصان پہنچا سکتے ہیں سینئر صحافی طاہر نصیر کی سپاری دینے والے بااثر ملزمان قاسم سندھو،سکندر سندھو،اختر سندھو اور محسن شاہ پاکستانی عوام سے اربوں روپے کا فراڈ کر رہے ہیں اور منی لانڈرنگ میں بھی ملوث ہیں




