کالم/مضامین

*عجیب تماشا لگایا ھوا ھے*

*عجیب تماشا لگایا ھوا ھے*

شوشل میڈیا میں جہاں دیکھو ہر ایک صحافی رپورٹر ایڈیٹر بنا پھرتا ھے کہیں یوٹیوب کہیں ویب اور کہیں سٹلائٹ چینلز کا نام لیکر آسامیوں کی بھرمار کئے ہوئے ہیں جب کوئی سنجیدہ تجربہ یافتہ صحافی رپورٹر ان سے رابطہ کرلیتا ھے تو سب سے پہلے یہ ماہانہ اور کچھ سالانہ فیس کی ڈیمانڈ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ادارے کے پاس فنڈ کی شدید کمی کے باعث آپ سے لوگو، کارڈ کیلئے لئے جارھے ہیں جبکہ نہ تنخواہ دے سکتے ہیں اور نہ ہی کسی قسم کا تحفظ الٹا انہیں کما کر اور دیگر امور بھی کرنے ہونگے عجب کہانی ھے اس بابت صحافتی تنظیموں کے ذمہدار عدالت اور حکومتی اداروں سے پوچھتے کیوں نہیں کہ ایسے جعل ساز نہ صرف صحافت بلکہ صحافتی اطوار پر شدید سیاہ ضرب لگا رھے ہیں انکی بندش ناگزیر ہوچکی ھے صرف انہیں اجازت مرحمت کی جائے جو میڈیا ہاؤس کو چلانے کا مالی و ماہرانہ تجربہ رکھتے ھوں امید ھے کہ اس بابت پاکستان بھر کے پروفیشنل رپورٹرز صحافی اور میڈیا پرسن اپنا اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔ فقط: جاوید صدیقی جرنلسٹ و کالمکار کراچی

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You