دریائے سندھ میں سیلابی صورتحال، سندھ حکومت کے حفاظتی اقدامات

*دریائے سندھ میں سیلابی صورتحال، سندھ حکومت کے حفاظتی اقدامات*
تحریر: اعجاز علی تیونو/انفارمیشن آفیسر نواب شاہ
پاکستان کے شمالی علاقوں میں مون سون کی طوفانی بارشوں کے باعث آزاد کشمیر، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور پنجاب میں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔ تاہم اس سے بھی زیادہ نقصان بھارت کی جانب سے ستلج، راوی، چناب اور جہلم سمیت دیگر دریاؤں اور ندی نالوں میں مسلسل پانی چھوڑنے کے باعث ہوا، جس کے نتیجے میں پنجاب سے آنے والے سیلابی ریلا دریائے سندھ میں داخل ہوکر بڑے سیلاب کی صورت اختیار کر گئے ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر سندھ حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر جامع حفاظتی اقدامات کیے ہیں تاکہ دریائے سندھ کے کچے کے علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں اور ان کے مال و مویشی کو محفوظ بنایا جا سکے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی خصوصی ہدایت پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبائی وزراء کو فوکل پرسن مقرر کیا ہے، جو روزانہ کی بنیاد پر ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری اور خاتونِ اوّل آصفہ بھٹو زرداری بھی متاثرہ علاقوں کے دورے کرکے ریلیف کاموں کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ عوام کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔سندھ حکومت کی بروقت کاوشوں اور ہدایات پر ضلعی انتظامیہ، پولیس، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے مکمل طور پر الرٹ ہیں۔ محکمہ آبپاشی نے حفاظتی بندوں کو مضبوط بنانے کے لیے ہرممکن اقدامات کیے ہیں اور 24 گھنٹے نگرانی جاری ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی مدد سے ریسکیو ٹیمیں متاثرہ آبادی کو محفوظ مقامات تک منتقل کر رہی ہیں۔ کشتیوں کے ذریعے خواتین، بچوں اور بزرگوں کو ریلیف کیمپوں تک پہنچایا جا رہا ہے جبکہ مال مویشیوں کے تحفظ کے لیے بھی خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔سندھ حکومت کی ہدایات پر عارضی کیمپ قائم کیے گئے ہیں جہاں متاثرہ افراد کو کھانے پینے کی اشیاء، صاف پانی، عارضی رہائش اور بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔محکمہ صحت نے میڈیکل کیمپ قائم کیے ہیں جہاں ایمرجنسی طبی امداد کے ساتھ ساتھ وبائی امراض سے بچاؤ کے لیے ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل عملہ موجود ہیں۔ محکمہ لائیو اسٹاک کی جانب سے مویشیوں کی ویکسینیشن مہم بھی جاری ہے تاکہ دیہی معیشت کو نقصان سے بچایا جا سکے۔سندھ حکومت نے عوام کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ دریائے سندھ کے کنارے اور خطرناک مقامات کی طرف نہ جائیں، انتظامیہ سے تعاون کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ضلعی کنٹرول روم سے رابطہ کریں۔
سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کے مطابق سندھ حکومت کی پہلی ترجیح انسانی جانوں کا تحفظ اور متاثرین کو فوری ریلیف فراہم کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور کسی شہری کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ ان کے مطابق پانی کی صورتحال اور ریلیف سرگرمیوں کے بارے میں عوام تک بروقت آگاہی پہنچانے کے لیے پروانشل رین اینڈ فلڈ ایمرجنسی سنٹر قائم کیا گیا ہے جبکہ محکمہ اطلاعات کے افسران کو بھی فوکل پرسن مقرر کیا گیا ہے محکمہ اطلاعات کی جانب سے روزانہ میڈیا کے ذریعے عوام کو سیلاب کی صورتحال اور ریلیف سرگرمیوں سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔ صوبائی رین اینڈ فلڈ ایمرجنسی مانیٹرنگ سیل کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق دریائے سندھ میں سیلاب سے سکھر، لاڑکانہ، شہید بینظیر آباد اور حیدرآباد ڈویژن کے 15 اضلاع، 44 تحصیل اور 167 یونین کونسلوں کے 1651 دیہات متاثر ہوئے ہیں، جن کی مجموعی آبادی 16 لاکھ 38 ہزار 491 افراد پر مشتمل ہے، جبکہ 26 لاکھ 60 ہزار 669 مویشی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔اب تک ایک لاکھ 46 ہزار 492 افراد اور 4 لاکھ سے زائد مویشیوں کو ریسکیو کیا جا چکا ہے۔ سندھ حکومت کی ہدایت پر متاثرہ اضلاع میں 528 ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ہیں جبکہ عوام کے علاج کے لیے 163 میڈیکل کیمپس اور مویشیوں کے علاج کے لیے 111 لائیو اسٹاک کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔ محکمہ صحت کے قائم کردہ میڈیکل کیمپس کے ذریعے اب تک 55 ہزار 336 متاثرہ افراد کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں جبکہ 10 لاکھ 32 ہزار سے زائد مویشیوں کو مختلف بیماریوں سے بچاؤ کی ویکسین لگائی گئی ہے۔وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے متاثرین کو یقین دلایا ہے کہ سندھ حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔
*******



