کالم/مضامین

موجودہ دور میں دنیاوی اور اسلامی تعلیم کی اہمیت

موجودہ دور میں دنیاوی اور اسلامی تعلیم کی اہمیت

تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی اور بقا کی ضامن ہوتی ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے تعلیم کو اپنی ترقی کی بنیاد بنایا، اور آج وہ سائنسی، صنعتی اور معاشرتی لحاظ سے نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ آج کے جدید دور میں جہاں دنیاوی تعلیم ناگزیر ہے، وہیں اسلامی تعلیم کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ ان دونوں شعبوں میں توازن قائم کیے بغیر ایک مکمل اور بامقصد معاشرہ تشکیل نہیں دیا جا سکتا۔
دنیاوی تعلیم انسان کو سائنس، ٹیکنالوجی، طب، انجینئرنگ اور دیگر فنی شعبوں میں مہارت دیتی ہے۔ یہ تعلیم ہمیں اس قابل بناتی ہے کہ ہم زندگی کی معاشی دوڑ میں اپنے قدم جما سکیں اور ملک و قوم کی ترقی میں کردار ادا کر سکیں۔ لیکن اگر انسان کے اندر اخلاق، کردار اور روحانیت نہ ہو تو وہ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود ایک بے حس اور خودغرض فرد بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیاوی ترقی کے باوجود آج کے انسان کو روحانی اضطراب، اخلاقی انحطاط، اور معاشرتی بگاڑ کا سامنا ہے۔
اسلامی تعلیم انسان کے باطن کو جِلا بخشتی ہے۔ یہ نہ صرف عبادات بلکہ معاملات، اخلاق، رشتہ داری، حقوق العباد اور معاشرتی نظم و نسق کا بھی احاطہ کرتی ہے۔ اسلامی تعلیم ہمیں اللہ سے تعلق، بندوں کے حقوق، معاشرتی انصاف، ایمانداری، صبر، شکر اور اخلاقیات جیسے بنیادی اصول سکھاتی ہے۔ یہ تعلیم نہ صرف ہماری نجی زندگی کو سنوارتی ہے بلکہ ہمیں ایک بہتر شہری، بہتر والدین، بہتر ملازم اور بہتر انسان بننے کی ترغیب دیتی ہے۔
موجودہ وقت کا سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ ہم ایسی نسل تیار کریں جو دنیاوی مہارت کے ساتھ ساتھ دینی بصیرت بھی رکھتی ہو۔ بدقسمتی سے ہمارے بیشتر تعلیمی ادارے صرف دنیاوی تعلیم پر زور دے رہے ہیں، جبکہ اسلامی تعلیم کو محض رسمی حیثیت دی جاتی ہے۔ ایسے ماحول میں جب کوئی ادارہ دنیاوی اور دینی تعلیم کو ایک ساتھ مہیا کرتا ہے تو وہ یقیناً ایک مثال بن جاتا ہے۔
ضلع جہلم کی بات کی جائے تو یہاں ایسا جامع تعلیمی نظام صرف اثریہ بوائز اسکول اینڈ کالج میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہ ادارہ نہ صرف جدید سائنسی تعلیم فراہم کر رہا ہے بلکہ اسلامی اقدار اور دینی تربیت کو بھی تعلیم کا لازمی حصہ بنا چکا ہے۔ طلبہ کو قرآن و سنت کی روشنی میں کردار سازی کی عملی تربیت دی جاتی ہے، جس سے وہ دنیا میں کامیاب اور آخرت میں سرخرو ہونے کے قابل بنتے ہیں۔
اثریہ بوائز اسکول اینڈ کالج کا ایک امتیازی پہلو یہ بھی ہے کہ یہاں نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ہم نصابی تربیت اور اسلامی ماحول پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ اساتذہ نہ صرف علم دینے والے ہیں بلکہ طلبہ کے لیے عملی نمونہ بھی بنتے ہیں۔ طلبہ کو دینی اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے کا شعور دیا جاتا ہے، چاہے وہ وقت کی پابندی ہو، صفائی کا خیال ہو، یا سچائی، دیانت داری اور حسنِ سلوک جیسی صفات۔
آج ہمیں ایسے ڈاکٹر، انجینئر، وکیل اور استاد چاہییں جو صرف ڈگری یافتہ نہ ہوں، بلکہ اخلاقی اقدار سے بھی آراستہ ہوں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نسلیں گمراہی، بے راہ روی، اور صرف دنیا پرستی کا شکار نہ ہوں، تو ہمیں دینی اور دنیاوی تعلیم کے امتزاج کو اپنانا ہوگا۔ ایسے ادارے جو یہ توازن قائم کریں، درحقیقت وہی معاشرے کو نئی راہ دکھا رہے ہیں۔
اسلام کا پیغام واضح ہے: علم حاصل کرو، خواہ وہ دنیا کا ہو یا دین کا، بشرطیکہ وہ تمہیں اللہ کے قریب کرے اور انسانیت کی خدمت کا جذبہ پیدا کرے۔ یہی تعلیم ہمیں ایک بہتر فرد، بہتر معاشرہ اور ایک بہتر امت بننے کی راہ دکھاتی ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ اگر ہم حقیقی ترقی چاہتے ہیں تو ہمیں اثریہ بوائز اسکول اینڈ کالج جیسے اداروں کی سرپرستی کرنی ہوگی اور ان کے تعلیمی ماڈل کو پھیلانا ہوگا، تاکہ علم کے ساتھ ساتھ ایمان، کردار اور مقصدیت بھی ہماری نسلوں کا سرمایہ بنے۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You