کالم/مضامین

*عنوان: پاک افواج ہمیشہ سے جذبہ ایمانی کیساتھ جنگ لڑتی رھی ھے*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان: پاک افواج ہمیشہ سے جذبہ ایمانی کیساتھ جنگ لڑتی رھی ھے*

*کالمکار: جاوید صدیقی*

ہمارے پیارے دوست اور بھائی ایک قابل ذہین پڑھے لکھے محقق افتخار احمد قریشی ہیں جنکا تعلق سندھ کے شہر میرپورخاص سے ھے، یوں تو انکی کئی تصانیف آچکی ھیں ان سے اکثر و بیشتر گفتگو اور پیغام رسانی سے تعلق جڑا رہتا ھے، ان سے عالم ارض اور عالم اسلام پر بھی سہل گفتگو رہی ھے۔ گزشتہ دنوں پاک بھارت جنگ کی صورتحال پر وہ بھی خاموش نہ بیٹھے وہ لکھتے ہیں کہ اسرائیل، انڈیا امریکی سازشیں ابھی جاری ہیں، جنگ کی ابتداء کو کامیابی نہیں کہتے! یہ جنگ صدیوں سے جاری ہے اور اپنے آخری دور میں شدت سے چلے گی۔ اسرائیل کیلئے یہ جنگ صرف امریکہ یا انڈیا نہیں لڑرہا ہے بلکہ اسے زمانوں اور تاریخوں میں لڑا جاتا رہا ہے، اسے ایران اور شام نے بھی لڑا ہے، یورپ اور افریقہ کے علاوہ وسطی ایشیا میں بھی لڑا جاتا رہا ہے، بظاہر یہ جنگ کی معیشت ہے مگر درحقیقت یہ جنگ نیکی اور بدی یعنی اللہ کے دین اور شیطانی طاقتوں کے مابین باد سے جاری رہی ہے! خوش قسمتی کی بات یہ ہے کہ ہمارے دور میں اسکا بلآخر اختتام ہے مگر نہایت وحشتناک! اس جنگ کو آرماگیڈن کہتے ہیں! نئی انڈیا پاکستان جنگ اس سلسلے کے انت کا ہی حصہ ہے مگر بدقسمت اہل بھارت یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ وہ کس طرح اپنی تباہی کا سامان کررہے ہیں! وہ یہ جاننے سے قاصر ہیں کہ حق کیا ہے اور کہاں ہے؟ اپنی ہی دھرتی پر اسرائیلی راونیت کیلئے بربریت کرنا بھارت ماتہ کی جے تو ہے مگر بھارت کی تباہی بھی یہی ہے! انڈین ہندوتوا بھرت ماتہ کے کردار کو ہی نہیں جانتے جس نے خود بھرت کو رام سے جدا کروا دیا! دسرتھ کو موت دیدی اور رام راج تباہ کردیا! پھر بھارت ماتہ کی جے کیسے؟؟؟ درحقیقت اسرائیل نے انڈیا کو بے وقوف بنا رکھا تاکہ اسرائیل سے کشتی نوح واپس نہ لائی جاسکے! جس کیلئے سب سے پہلے پاکستان نے لبیک کہا مگر کیکئی ماتہ بھرت کو گھسیٹ کر راون کی گود میں گرانا چاہتی ہے! اور پاکستان اسے ایسا کرنے نہیں دے رہا! یہی وجہ ہے کہ انڈیا پاکستان اور رام دشمنی میں افواج پاکستان کو اسرائیل تک پہنچنے کے قابل رہنے نہیں دینا چاہتا! مودی انڈیا کے اسی پاگل پن کی علامت کا نام ہے، مگر جس دن انڈین قوم کو حقیقت سمجھ آگئی اسی دن اگلی باری اسرائیل کی ہوگی! یہاں پاکستان کو سمجھنا ہوگا کہ انڈیا کی بجائے براہ راست اسرائیل سے کیسے نمٹا جائے جو انڈیا کو اسی کی دھرتی پر ورغلا کر ذلیل و رسوا کرواتا رہا ہے! یہ تھی تحریر جو ہمارے دوست نے ہم سے شیئر کی۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! حالیہ پنڈتوں مہاجنوں اور دیگر ہندوتواؤں کی تحقیق نے ثابت کرلیا ھے کہ اسلام ہی سچا دین ھے اور حضور پاک ﷺ آخری نبی و پیغمبر ہیں یہ ثبوت و شواہد انہی کی مذہبی کتابوں میں موجود ہیں۔ دوسری جانب عیسائی مذہب کی الہامی کتاب انجیل میں آپ ﷺ کو احمد کے نام سے پکارا گیا اور آپ ﷺ کی آمد کی پیشنگوئی بھی کی لیکن یہود وہ الہامی کتاب توریت و زبور کے ماننے والے ہیں جو سرکشی کے سبب آج تک خود کو شیطان و ابلیس سے بچا نہ پائے اور گمراہی کے سمندر میں ڈوبنے کے باوجود خود کو سپیرئیر کہتے ہیں جبکہ اللہ واحد لاشریک نے آخری نبی و پیغمبر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو سپیرئیر رکھا اور امت مسلمہ کو بھی۔ یہی سبب ھے کہ آپ ﷺ کے زمانے سے ہی یہودی اپنی خباثت، غلاظت، مکارپن، دھوکہ دہی، سازشی، جھوٹ اور منافقت میں صف اول تھے اور تا حال ہیں۔ ہمارے بچپن اور لڑکپن کے زمانے میں یہودی، سور، شمر، اور یزید کسی کو کہنا ہی ایک بدترین گالی سمجھی جاتی تھی، پھر خود کو پاک ھونے کیلئے وضو کرنا پڑتا تھا۔ آج کی نئی نسل ادب و احترام اور پاکیزگی سے اس قدر واقف نہیں یا یوں کہ لیجئے کہ ہمارے بڑے بوڑھے احتیاطِ پاکیزگی کا بڑا خیال رکھتے تھے۔ معزز قارئین !! پاکستان کے موجودہ جنرل حافظ سید منیر ہیں جو قرآن پاک کو سمجھتے ہیں اور سادات نسل سے بھی ہیں یہی وجہ ھے کہ اللہ نے نیک بندے سے نیک کام لیکر فتح و نصرت سے نوازا، یاد رھے کہ غزوہ ھند کی یہ پہلی کڑی ھے جو کھل گئی اب وقت گزرنے کیساتھ ساتھ بڑی جنگیں ہونے کو تیار ہیں یاد رھے کہ یہ امریکہ کا سیز فائر صرف ایک دھوکہ و فریب ھے جو بہت جلد عالم ارض کے سامنے آجائیگا، معزز قارئین درحقیقت مکارِاعظم امریکہ نے سلطنت عثمانیہ میں یہودیوں کیلئے ایسا زہر داغا تھا جو وقت کیساتھ ساتھ اثر انگیز ثابت ھوا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ مذہب و دین کے نظریہ کے تحت سنہ انیس سو اڑتالیس کو دنیا کے نقشہ پر ابھرا یہ تمام تر کاوشیں امریکہ برطانیہ اور یورپی ممالک کی رہیں تھیں لیکن دنیا نے یہ بھی دیکھا کہ خالصتاً دین محمدی ﷺ کے نظریہ پر بھارت سے ایک الگ ملک سنہ انیس سو سینتاالیس میں نمودار ہوا۔ جان لیجئے کہ ایک طرف توریت و زبور کے ماننے والے تو دوسری جانب قرآن پاک اور دینن محمدی ﷺ کو ماننے والے اپنے اپنے نظریئے میں کس قدر کاربند اور مضبوط رھے دنیا نے یہ بھی دیکھا کہ کعبہ ماننے والے کعبہ سے پھرے نظر آئے لیکن دیوار گریہ سے چمپٹنے والے آج بھی چمٹے ہوئے ہیں موجودہ نقول توریت و زبور کو ماننے والے یہودیوں نے خود کو گریٹر اسرائیل بنانے کیلئے ہر شرط اور اعمال اپنائے جبکہ سچے حق والے دین محمدی ﷺ کو ماننے والوں نے عملی کردار ہرگز نہ اپنایا اور غیروں کی غلامی میں خود کی پہچان مٹادی۔ یہ وہی یہودی ہیں جنھوں نے دین محمدی ﷺ میں فرقہ بازی اور مسالک پیدا کرکے دین محمددی ﷺ کی اصل شکل و روح بگاڑ دی انکا یہ عمل مسلمانوں میں نفرت، عصبیت، تعصب، لسانیت، اور قومیت جیسے موذی امراض داخل کردیئے اور مسلمان کے ایمان کو ختم و زائل کرنے کیلئے ہر شیطانی و دجالی عمل جاری رکھا۔ آج لگھ بھگ ستاون اسلامی ریاستوں میں صرف ایک پاکستان واحد ریاست ھے جو جوہری توانائی کی حامل ھے جبکہ اس ریاست کی بدقسمتی رہی ھے کہ حکمران دین اور عوام کی بھلائی کے بجائے ذاتی خواہشات کی تکمیل کو فرض اولین ترجیح دی جاتی رہی ھے اور کبھی بھی نظام شریعت کو لاگو نہیں کیا گیا بلکہ انہیں دشمنانان اسلام کے نظام جمہوریت کو اللہ سبحان تعالیٰ اور حبیب ِ خدا ﷺ کے پسندیدہ نظام پر فوقیت دیکر پاکستان کو ریاستی و حکمرانی و وزارتی طور پر اتنا کچھ بگاڑ ہونے کے باوجود اللہ نے پاکستان کی حفاظت قائم رکھی ہوئی ھے۔ اسکا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم نے قرآن و حدیث کی تحقیق سے موجودہ زمانے کے عربوں کیلئے درست کہا تھا کہ "ویل للعرب”۔۔ غزہ بھوک سے مر رہا ہے، مگر سعودیہ امریکا کیساتھ چار سالوں میں چھ سو بلین ڈالر سرمایہ کاری کرے گا۔ عرب امارات ایک اعشاریہ چار ٹریلین ڈالر اور قطر امریکی صدر کو چار سو ملین ڈالر مالیت کا پرتعیش بوئنگ 747 کے آٹھ عدد تحفے کے طور پر پیش کرے گا۔ یہ وہ دنیا پرستی اور مرض رہن جس کا آپ ﷺ نے واضع آج کے دور کے متعلق بتادیا تھا۔۔۔ معزز قارئین!! عالمی جنگ سر پر کھڑی ہوئی ھے کسی بھی غفلت میں نہ رہنا اب وقت شہادت عظیم ترین قریب ھے۔ ایک جانب دنیا پرستوں کا لشکر کھڑا ھے تو دوسری جانب دین و ایمان کا لشکر، ایک جانب جدید ترین اسلحہ کے انبار تو دوسری جانب چند جدید ہتھیار مگر جذبہ ایمانی سے سرشار، ایک جانب دجالی فرماں رواں تو دوسری جانب مصطفیٰ ﷺ کے جانثاراں کا جذبہ ایمان۔ اب جنگ ہوکے رہے گی، دنیا سے کفر و شرک مٹ کر رھے گا یاد رکھئے اللہ کے حبیب نے دس سے بارہ ہزار ایمان یافتہ اور جانثاران اسلام کی نوید سنائی ھے جو عظیم مرتبے پر فائز ھونگے یہ وقت امام زمانہ کا ھوگا اس سے قبل تعداد متعین نہیں ھے اسکا مطلب واضع ہوگیا کہ امام زمانہ کے دور میں اربوں کی تعداد میں مسلمان ھونے کے باوجود وہ بارہ ہزار لشکر والے ہی درحقیقت مسلمانیت، ایمانیت، روحانیت، مومنیت کی اصل منزل پر ہونگے بقیہ مسلمانوں کا حال اللہ ہی جانیں۔ فلسطین اور مقبوضہ کشمیر میں مجاھدین وقت زمانہ میں اللہ کے پسندیدہ اور مقرب بندے ہیں، وقت زمانہ میں مجاھدین کی تعداد میں یقیناً اضافہ ہوگا کیونکہ ایران، عراق، شام، اردن، مصر، افغانستان، ترکیہ اور پاکستان دین محمدی ﷺ میں جھاد اور جھادی کی افضلیت، اہمیت، افادیت، فرضیت اور برکت سے واقف بھی ھے اور خوب آشنا بھی کیونکہ ایک مسلمان کے ایمان کا اصل حسن جھاد ہی ھے۔ اسلام جھاد کے بناء ادھورا، کمزور اور نامکمل رہ جاتا ھے۔ اسی سبب اسلام میں عبادات میں سب سے زیادہ جھاد کو اہمیت، ترغیب اور سخت پابندی کیساتھ احکامات دیئے ہیں۔ پاک افواج ہمیشہ سے جذبہ ایمانی کیساتھ جنگ کرتی رھی ھے اور تا قیامت اسی جذبہ کیساتھ جنگ کرتا رہیگا انشاءاللہ۔۔۔!!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You