اہم خبریںپاکستان

اوورسیز پاکستانی کنونشن میں آرمی چیف کا خطاب: "یہ برین ڈرین نہیں، برین گین ہے۔

اوورسیز پاکستانی کنونشن میں آرمی چیف کا خطاب: "یہ برین ڈرین نہیں، برین گین ہے۔

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے اوورسیز پاکستانی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے قومی اتحاد، سیکیورٹی چیلنجز، ادارہ جاتی استحکام اور نوجوانوں کے کردار پر ایک جامع اور ولولہ انگیز بیانیہ پیش کیا۔ اُن کا خطاب نہ صرف حب الوطنی سے لبریز تھا بلکہ موجودہ حالات میں پاکستان کو درپیش مسائل کا ایک حقیقت پسندانہ تجزیہ بھی تھا۔ ان کا یہ پیغام تھا: پاکستان کو مضبوط بنانا ہے تو ہمیں اپنے اداروں، اپنے لوگوں اور اپنے نظریات پر بھرپور اعتماد رکھنا ہوگا۔

جنرل منیر نے واضح الفاظ میں کہا کہ اوورسیز پاکستانی محض ترسیلات بھیجنے والے نہیں بلکہ وہ عالمی سطح پر پاکستان کی سوچ، صلاحیت اور تہذیب کے نمائندہ ہیں۔ "آپ صرف پاکستان کے سفیر نہیں، آپ وہ روشنی ہیں جو دنیا کو پاکستان کی اصل تصویر دکھاتی ہے،” انہوں نے کہا۔ اس موقع پر انہوں نے ‘برین ڈرین’ کے تصور کو چیلنج کرتے ہوئے کہا، "یہ دراصل برین گین ہے۔ ہمارا اوورسیز ٹیلنٹ پاکستان کی ترقی میں سرمایہ ہے۔”

اپنے خطاب میں انہوں نے سیکیورٹی کے حوالے سے درپیش سنجیدہ خطرات کا کھلے انداز میں ذکر کیا۔ انتہاپسند نظریات کے پھیلاؤ، بلوچستان میں جاری دہشتگردی، اور سوشل میڈیا پر غیر ذمہ دارانہ رویوں کو انہوں نے قومی استحکام کے لیے سنگین چیلنجز قرار دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے صرف ریاستی ادارے ہی نہیں، بلکہ ہر پاکستانی کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو ایک مضبوط ریاست بنانے کے لیے ضروری ہے کہ تمام ادارے آئین اور قانون کے تحت کام کریں۔ "جو ریاست آئینی دائرے میں اپنی تمام قوتوں کو یکجا کرے، وہی حقیقی معنوں میں ایک ہارڈ اسٹیٹ بنتی ہے،” آرمی چیف نے کہا۔

خطاب کے دوران انہوں نے واضح پیغام دیا کہ وہ تمام عناصر جو ملک کے سیکیورٹی اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا بغاوت کو ہوا دیتے ہیں، وہ پاکستان کے دشمن ہیں اور ایسے رویے کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے۔

جنرل منیر نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نئی نسل کو پاکستان کی کہانی، اس کی شناخت اور دو قومی نظریے کو سمجھنا اور اس پر فخر کرنا چاہیے۔ اُن کا کہنا تھا کہ تاریخ سے جُڑے رہ کر ہی ہم ایک ایسا پاکستان بنا سکتے ہیں جو نہ صرف اندرونی طور پر مستحکم ہو بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی باوقار مقام حاصل کرے۔

انہوں نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر ہمیشہ پاکستان کا حصہ رہے گا، اور پاکستانی قوم غزہ کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی رکھتی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک ایسی قوم ہے جو اپنے شہداء کو عزت، وقار اور جذبے کے ساتھ یاد رکھتی ہے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ جب تک پاکستان کے عوام افواجِ پاکستان کے ساتھ یکجا رہیں گے، کوئی بیرونی یا اندرونی سازش پاکستان کو کمزور نہیں کر سکتی۔ آرمی چیف کا خطاب ایک پُراعتماد اور حوصلہ افزا پیغام تھا — ایک ایسا پیغام جو نہ صرف اوورسیز پاکستانیوں کو متحرک کرتا ہے بلکہ قوم کے اندر بھی اعتماد، یگانگت اور ذمہ داری کا جذبہ بیدار کرتا ہے۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You