*عنوان: اے میرے ہم وطنوں !! غفلت سے باز آجاؤ!!*


*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان: اے میرے ہم وطنوں !! غفلت سے باز آجاؤ!!*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
آج کا کالم ہر پاکستانی کے نام ھے جس میں ایک عام شہری سے لیکر حکمران و سپہ سالار تک شامل ہیں، کیونکہ یہ خطہ اسلامی تواریخ و احادیث کے حوالے سے سب سے زیادہ اہمیت و افادیت کا حامل ھے، مانا کہ اسلامی تواریخ غداروں اور منافقوں سے بھری ھے مگر دنیا شاہد ھے کہ دین کے سچے اور جانبازوں نے قلیل تعداد میں ھونے کے باوجود اپنے مدقابل سو گناہ طاقت و تعداد پر مشتمل دشمنوں کو خاک چٹائی اور اللہ کی مدد سے بدترین شکست سے دوچار کیا۔ آپ ﷺ کا دور مقدس ہو یا خلفائے راشدین کا زمانہ یا پھر ولی صفت ملوکیت و بادشاہت کے سپہ سالار۔ اسلامی تاریخ نے دین محمدی ﷺ پر مرمٹنے اور دین محمدی ﷺ کو قائم و نافذ کرنے والوں کو ہمیشہ عزت و احترام اور سنہری لفظوں سے تحریر کیا ھے۔ پاکستان کے معروض وجود میں آنے سے قبل "تحریک خلافت” اس بات کی نشاندہی کرچکی تھی کہ خطہ ہندوستان و سندھ میں اسلامی نظام رائج ہوگا لیکن اللہ کی مصلحت اور رضامندی یہی تھی کہ عیار و مکار جھوٹے انگریزوں کی بے دخلی کے بعد ایک آزاد ریاست وجود میں دی جائے۔ اس ریاست کیلئے دین محمدی ﷺ سے والہانہ لگاؤ رکھنے والے عام مسلمانوں نے اپنے مال و جان قربان کرکے اس خطے کو آزاد کرایا۔ قبل از پاکستان کو موجودہ حصہ کم و بیش نوے فیصد سے زائد غیر مسلموں کی غلامی اور انکے تابع تھا یہ آزادی اگر میسر نہ آتی تو آج بھی پاکستان پر حکومت کرنے والے غلام در غلام ہی رہتے انہیں ہجرت کرنے والوں کی نہ صرف قدر و تعظیم بلکہ انصاریوں جیسا سلوک کرنا چاہئے تھا بحرحال اگر ان میں سے کئی نے رویہ بہتر نہ رکھا تو وہ روز قیامت ذلیل و رسوائی کے سوا کچھ حاصل نہ کرسکیں گے کیونکہ اللہ اور اس کے حبیب نے حقوق کی تلفی کو شدید نا پسند کیا ھے۔ میں اپنے وطن میں جاری نظام کو سخت ترین نا پسند کرتا ھوں کیونکہ ہمیں ہمارا نظام ریاست آپ ﷺ نے چودہ سو سال قبل ہی دیدیا تھا اس نظام کو خلفائے راشدین و دیگر نے اپنایا تو امن و سکون، عدل و انصاف، خوشحالی و ترقی جیسے منازل پائے۔ ھم جب تک شریعی نظام سے جوڑیں نہیں اس وقت تک شیطانی و دجالی نظام نام بدل بدل کر ہمیں تباہ و برباد کرتا رہیگا۔ اب میں اپنے معزز قارئین کو خوشخبری دینا چاہتا ھوں کہ برے وقت مزید چلیں گے پھر ہماری ریاست ان ایمان افروش جانثاروں کے ہاتھوں آئیگی جو درحقیقت وہی نظام رائج کریں گے جو آپ ﷺ نے اپنے مقدس و معتبر زمانے میں نظام ریاست قائم و رائج کیا تھا۔ یاد رھے کہ اسلام کے دوبارہ عروج کا آغاز غزوہ ہند سے شروع ہوگا۔ احادیث میں غزوہ ہند اور بیت المقدس کی آزادی کیلئے خراسان سے حضرت امام مہدی ؑ کی قیادت میں اسلامی لشکر روانہ ہونے کے بارے میں کئی احادیث موجود ہیں۔ ان سب احادیث سے ثابت ہوتا ہے حضرت امام مہدی ؑ سے قبل ایک مضبوط اسلامی حکومت خراسان و پاکستان کے علاقے میں قائم ہوچکی ہوگی اور حضرت امام مہدی ؑ کے ظہور کے بعد ہندوستان کو فتح کیا جائے گا اور پھر بیت المقدس کی آزادی کیلئے یورپ کی مشترکہ فوج سے عظیم جنگ ہوگی اور فتح مسلمانوں کو نصیب ہوگی۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن ہند کا ذکر کیا تو فرمایا: ”تمہارا ایک لشکر ہند پر حملہ کریگا تو اللہ ان پر فتح عطا فرمائے گا حتیٰ کہ سندھ کے بادشاہوں کو زنجیروں میں جکڑ کر لائیں گے، اللہ انکے گناہ بخش دیگا، جس وقت وہ واپس جائیں گے تو وہ مسیح ابن مریم کو شام میں پائیں گے۔ بحوالہ ”مسند اسحاق بن راہویہ867“
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ پیغمبر اللہ ﷺ نے بیان فرمایا کہ اس امت میں ایک لشکر سندھ اور ہند کیطرف بھی جائیگا اگر میں نے وہ زمانہ پایا اور شہید ہوگیا تو بہت اچھا اور اگر میں زندہ واپس آگیا تو میں ابوہریرۃ المحرر ہونگا جو جہنم کی آگ سے آزاد ہوچکا ہوگا۔ بحوالہ” مسند احمد 8823، مسند احمد، 369/2، مسند ابوہریرہ، 8467“رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” میری امت میں دو گروہ ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے جہنم سے محفوظ کردیا ہے۔ ایک گروہ وہ ہوگا جو ہند پر لشکر کشی کریگا اور ایک گروہ وہ ہوگا جو عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے ساتھ ہوگا “۔ بحوالہ ”سنن نسائی 3177“حضرت کعب رضی اللّٰہ تعالٰی کی حدیث ہے، وہ فرماتے ہیں کہ بیت المقدس کا ایک بادشاہ ہندوستان کی جانب ایک لشکر روانہ کریگا۔ مجاہدین سر زمینِ ہند کو پامال کر ڈالیں گے، اسکے خزانوں پر قبضہ کرلیں گے، پھر بادشاہ ان خزانوں کو بیت المقدس کی تزئین و آرائش کیلئے استعمال کریگا۔ وہ لشکر ہندوستان کے بادشاہوں، یعنی حاکموں کو بیڑیوں میں جکڑ کر اس بادشاہ کے روبرو پیش کریگا۔ اسکے مجاہدین بادشاہ کے حکم سے مشرق و مغرب کے درمیان کا سارا علاقہ فتح کرلیں گے اور دجال کے خروج تک ہندوستان میں قیام کریں گے۔ بحوالہ ”الفتن، غزوة الہند، 409/1، حدیث 1235“حضرت محمد ﷺ نے فرمایا جب تم خراسان کی طرف سے سیاہ پرچموں کا قافلہ آتے ہوئے دیکھو تو اس میں ضرور شامل ہوجانا اگرچہ برف پر گھیسٹ کر آنا پڑے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کے خلیفہ مہدی ہونگے۔ بحوالہ ”ابن ماجة: 4084، وأحمد بن حنبل : 22441،
والحاکم في المستدرک : 8432“۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” کچھ لوگ مشرق کی جانب سے نکلیں گے جو مہدی کی حکومت کیلئے راستہ ہموار کرینگے۔ بحوالہ ”سنن ابن ماجہ 4088“حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا خراسان سے سیاہ جھنڈے نکلیں گے انہیں کوئی چیز لوٹا نہ سکے گی یہاں تک کہ وہ بیت المقدس پر جا کر نصب ہوجائیں گے۔ ”مسند احمد 8775“حضرت ثوبان ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم خراسان کیجانب سے سیاہ جھنڈے آتے ہوئے دیکھو تو ان میں شامل ہوجاؤ کیونکہ اس میں خلیفۃ اللہ امام مہدی ؓ ہونگے۔ ”مسند احمد 22387“ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:”مہدی میری نسل سے فاطمہ کی اولاد میں سے ہوں گے“۔ ”بحوالہ سنن ابوداؤد 4284“، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر دنیا کا ایک دن بھی رہ جائیگا تو اللہ تعالیٰ اس دن کو لمبا کردیگا، یہاں تک کہ اس میں ایک شخص کو مجھ سے یا میرے اہل بیت میں سے اس طرح کا برپا کریگا کہ اسکا نام میرے نام پر، اور اسکے والد کا نام میرے والد کے نام پر ہوگا، وہ عدل و انصاف سے زمین کو بھر دیگا، ”سنن ابو داؤد 4282“رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پھر فتنہ اتنا تباہ کن عام ہوگا کہ عرب کا کوئی گھر باقی نہ رہیگا جو اسکی لپیٹ میں نہ آگیا ہو۔ پھر صلح جو تمہارے اور بنی الاصفر ”نصارائے روم عیسائیوں“ کے درمیان ہوگی، لیکن وہ دغا کرینگے اور ایک عظیم لشکر کیساتھ تم پر چڑھائی کرینگے۔ اس میں اسی جھنڈے ہونگے اور ہر جھنڈے کے ماتحت بارہ ہزار فوج ہوگی یعنی نو لاکھ ساٹھ ہزار فوج سے وہ تم پر حملہ آور ہوں گے۔ حدیث متعلقہ ابواب: نو لاکھ عیسائی فوجی مسلمانوں سے لڑیں گے۔”صیح بخاری 3176“۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! ایک سوچی سمجھی اسکیم کے تحت پاکستان کے بانیوں کی اولادوں کیلئے تمام راہداریوں پر قفل گیری کردی گئی ھے کئی حیلہ بہانوں اور تماشوں کے ذریعے کچھ تو اقتدار و اختیارات کے نشے میں اس قدر بڑھ گئے کہ اللہ اور اسکے حبیب ﷺ کے وجود کو بھول گئے۔ مانا کہ پاکستان کے محسنوں کی اولادوں کی تمام راہداری بند کردی گئیں لیکن قدرت نے انہیں اپنی قدرت سے نئی راہداریاں عطا کردی ہیں۔ قربانی دینے والوں کی نسلیں پلٹ کر دوبارہ آئیں گی اور اپنے آباؤاجداد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے غزوہ ہند کے مجاہدوں میں صف اوّل یہی نظر آئیں گے کیونکہ یہ آزاد اور دین سے مخلصوں کی نسلیں ہیں۔ پاکستان قائم رہنے کیلئے بنا ھے اور انشاءاللہ نہ صرف قائم بلکہ امام زمانہ کیساتھ قدم بہ قدم تعظیم و احترام کیساتھ صف بند ہوگا۔ اللہ مجھے غزوہ ہند کے مجاہدوں میں شامل فرما آمین یا رب العالمین ۔۔۔۔۔۔!!




